چیف جسٹس بندیال اپنی رہی سہی ساکھ صفر کرنے پر تل گئے

28 جولائی کو اپنی مرضی کے جونئیر ججز لگوانے میں ناکامی کے بعد جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کا چلتا ہوا اجلاس چھوڑ کر بھاگ جانے والے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی طرف سے فرار کے بعد اجلاس کی کارروائی کو اپنی مرضی کا رنگ دے کر پیش کرنے کی ناکام کوشش نے انکی رہی سہی ساکھ بھی صفر کر دی ہے۔
یاد رہے کے اجلاس میں چیف جسٹس بندیال کی جانب سے پیش کردہ ججوں کے نام چار کے مقابلے میں پانچ ووٹوں کی اکثریت سے مسترد کر دئیے گئے تھے۔ اجلاس کے اختتامی لمحات میں چیف جسٹس بندیال کی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے بحث ہوئی جس کے بعد وہ اجلاس ادھورا چھوڑ کر روانہ ہو گئے۔ تاہم جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کا اجلاس ختم ہونے کے بعد چیف جسٹس بندیال کے ایما پر سپریم کورٹ کے رجسٹرار کی جانب سے جو پریس ریلیز جاری کی گئی اس میں حقائق کو مسخ کرتے ہوئے یہ بتایا گیا کہ ججز تقرری کے لیے جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے پانچ نامزد کردہ ججوں کے نام زیر غور آئے، تاہم تفصیلی بحث کے بعد اجلاس مؤخر کر دیا گیا۔ پریس ریلیز میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اکثریتی نمائندوں نے چیف جسٹس کے پیش کردہ ناموں کو مسترد کر دیا تھا۔
تاہم اس پریس ریلیز کے بعد جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور پاکستان بار کونسل کے نمایئندے اختر حسین نے ردعمل دیتے ہوئے بتایا کہ کمیشن کے 9 میں سے پانچ اراکین نے اجلاس میں پانچوں ججز کے نام کثرت رائے سے مسترد کر دیے تھے لہذا یہ کہنا کہ اجلاس میں پیش کردہ ناموں پر فیصلہ موخر کردیا گیا تھا، حقیقت کے برخلاف ہے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے جسٹس بندیال کے ایماء پر جو بیان جاری کیا گیا اس میں کہا گیا کہ چیف جسٹس کے نامزد کردہ ناموں پر کونسل کے اجلاس بحث ہوئی جسکے بعد اجلاس کو مؤخر کرنے کی تجویز دی گئی تاکہ چیف جسٹس نامزد ججز کے حوالے سے اضافی معلومات سامنے رکھ سکیں۔ سپریم کورٹ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر چیف جسٹس مناسب سمجھیں تو وہ اس لسٹ میں مزید نام بھی شامل کر سکتے ہیں۔ بیان کے مطابق اٹارنی جنرل پاکستان، جسٹس اعجاز الحسن، جسٹس سجاد علی شاہ اور جسٹس سرمد جلال عثمانی نے اجلاس مؤخر کرنے کی تجویز کی حمایت کی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ آئندہ اجلاس کی تاریخ کے حوالے سے جوڈیشل کمیشن کے چیئر مین اراکین کو آگاہ کر دیں گے۔
دوسری جانب جوڈیشنل کمیشن کے رکن جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال اور جوڈیشل کمیشن کے اراکین کے نام خط تحریر کیا ہے اور اجلاس کے حقائق سامنے لائے ہیں۔ انہوں نے اپنے خط میں اجلاس کے میٹنگ منٹس جاری کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’قوم کی نظریں جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی طرف ہیں اور انہیں یہ جاننے کا آئینی حق حاصل ہے کہ کیا فیصلہ ہوا۔
خیال رہے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کے اجلاس جسٹس عمر عطا بندیال کے نامزد کردہ پانچ ججز کے نام زیر غور آئے تھے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور اٹارنی جنرل ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے تھے۔
اجلاس میں لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس شاہد وحید، پشاور ہائی کورٹ کے جج جسٹس قیصر رشید خان، سندھ ہائی کورٹ سے جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس شفیع صدیق اور جسٹس نعمت اللہ کو سپریم کورٹ کے ججز بنانے پر غور کیا گیا تھا۔ اجلاس میں زیر غور آنے والے ججز کی سنیارٹی پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا تھا۔ سپریم کورٹ کے سینیئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ایک روز قبل ہی جوڈیشل کمیشن کا اجلاس مؤخر کرنے کے لیے چیف جسٹس کو خط لکھا تھا لیکن چیف جسٹس اجلاس بلانے پر مصر رہے جس میں انہیں منہ کی کھانا پڑی۔
