غدار کہلانے والا وطن دوست وارث میر

تحریر: ایس ایم ظفر
اپنے آدرشوں اور مقاصد کے ساتھ اخلاص برتنے والے عظیم انسانوں کی زندگیوں پر نظر ڈالی جائے تو ان میں کئی باتیں مشترک دکھائی دیتی ہیں۔ فرانس کے عظیم نوبل انعام یافتہ لکھاری ژاں پال سارتر ساری زندگی حق وانصاف کے لیے لکھتے رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر لکھنے والے کو اپنے دور کے مسائل میں دلچسپی ہونی چاہیے اور یہ کہ اہل قلم کو ریاستی جبر کی کھل کر مخالفت کرنی چاہیے۔ سوچ کے ارتقاء کے ساتھ سارتر نے اپنے نظام فکر میں بارہا تبدیلیاں کیں لیکن وجودیت کے بنیادی نظرئیے کو کبھی نہیں چھوڑا، یہی شیوہ ہمارے ہاں پروفیسر وارث میر کا بھی تھا جنہوں نے عمربھر حق وانصاف اور سچائی کے پرچم کو تھامے رکھا اور طاقتور لوگوں کی ناراضی کی پرواہ کئے بغیر جمہوریت اور عوامی حقوق کے لیے اپنے قلم کا بہادری سے استعمال کیا۔
1983میں جنرل ضیاء الحق کی آمرانہ و جابرانہ حکومت کے خلاف تحریک بحالی جمہورت شروع ہوئی تو وارث میر نے روزنامہ نوائے وقت میں اپنے مضامین کے ذریعے مارشلائی حکومت کے خلاف آواز بلند کی۔ 1984 میں جنرل ضیاء نے اسلام کے نام پر اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے مشہور زمانہ ریفرنڈم کا اعلان کیا تو انہوں نے قرآن اور حدیث کی روشنی میں اس مذموم عمل کے خلاف بھر پور مضامین لکھے جن سے پورے ملک میں تہلکہ مچ گیا۔جب ضیاء الحق کی حکومت نے 1985 میں غیر جماعتی بنیادوں پر عام انتخابات کرانے کا اعلان کیا تو وارث میر نے اسے پاکستان کے مستقبل کے لیے بہت بڑا خطرہ قرار دیا اور وقت نے ثابت کیا کہ انہوں نے درست طور پر اس خطرے کی نشاندھی کی تھی کیونکہ ہمارے ہاں ان غیر جماعتی انتخابات کی وجہ سے مفاد پرست سیاستدانوں کا ایک گروہ پیدا ہوا، جن کے باعث آج تک ملک میں سیاسی استحکام پیدا نہیں ہوسکا۔
پروفیسر وارث میر پنجاب یونیورسٹی سے وابستہ ہونے کی وجہ سے سرکاری ملازمت میں تھے لیکن انہوں نے جنرل ضیاء کی مطلق العنانیت کو بار بار چیلنج کیا اور اس کی پاداش میں روائتی انتقامی ہتھکنڈوں کا نشانہ بھی بنے لیکن ان کے پائے استقلال میں ذرا بھی لغزش نہیں آئی۔
جنرل ضیاء نے لاہور میں ایک تقریب کے دوران ان جیسے دانشوروں کو یہ دھمکی دی تھی کہ ہم نام نہاد ترقی پسند دانشوروں کو ملک کی نظریاتی سرحدوں کو کھوکھلا کرنے کی اجازت نہیں دیں گے اور پاکستان کی نظریاتی سرزمین پر کسی قسم کا سیم وتھور برداشت نہیں کریں گے۔ ان کے یہ جملے دراصل وارث میر کے بارے میں تھے جو اس سخت مارشل لاء کے دور میں بھی حریت فکر کی نئی شمعیں جلا رہے تھے۔ وارث میر نے بھٹو کے عدالتی قتل پر لکھا تھا کہ ”جنرل ضیاء نے پاکستان کی تاریخ خون سے رنگ ڈالی ہے“۔ بعد ازاں اس خون آشام شخصیت کے خلاف ان کا قلم مسلسل شمشیر بے نیام ثابت ہوا۔
وارث میر کی فکر کا ماخذ سرسید احمد خانؒ، علامہ اقبالؒ اور قائد اعظمؒ کے نظریات تھے۔ وہ مذہب بارے منطقی اور سائنسی نقطہ نظر رکھتے تھے اور جہاد کی بجائے اجتہاد کے داعی تھے۔ ان کی تحریریں پسے ہوئے اور مظلوم طبقات کی آواز تھیں۔ خواتین کے حقوق اور مسائل پر ان کی تحریریں لازوال ہیں۔ انہوں نے ”کیا عورت آدھی ہے؟“ لکھ کر ثابت کر دیا کہ اسلام نے عورت اور مرد کو یکساں حقوق عطا کئے ہیں۔ وارث میر کا کہنا تھا کہ اسلام ایک ترقی پسند مذہب ہے اور اس کے ظہور نے فرسودہ روایات و نظریات کا قلع قمع کیا تھا۔
پروفیسر وارث میر کو ان کے ترقی پسند نظریات کی وجہ سے تنگ نظر اسلامی انتہا پسندوں کے شدید دباؤ کا سامنا تھا۔ ایسے شواہد بھی ملتے ہیں کہ انہیں منظر سے ہٹانے کے لیے جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دی گئیں، ان کے ایک نوعمر بیٹے کو اغوا کرنے کی کوشش میں ناکامی کے بعد دوسرے بیٹے پر قتل کاجھوٹا مقدمہ بھی درج کرایا گیا جو کہ ان کی رحلت کے بعد عدالت میں جھوٹا ثابت ہوا۔ وارث میر کو پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ نے ضیا دور میں بے باک مضامین لکھنے پر شو کاز نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے یہ تقاضا کیا تھا کہ وہ جامعہ کے سٹاف ممبر ہونے کہ وجہ سے اخبارات میں حکومت مخالف مضامین نہیں لکھ سکتے۔ ان کی جانب سے میں نے جامعہ پنجاب کی انتظامیہ کو جواب دیا تھا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ ‘جامعہ کا سٹاف ممبر ہونے کے باوجود پاکستانی آئین کے مطابق میں اپنی آزادی ضمیر اور تحریر کا بنیادی حق رکھتا ہوں اور یہ حق مجھے پاکستان کا آئین دیتا ہے“۔ اس جواب کے بعد یونیورسٹی کی انتظامیہ نے میر صاحب کو جاری کردہ نوٹس واپس لے لیا تھا۔ تاہم مجھے نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان میں حق اور سچ کی آواز بلند کرنے والے دانشوروں کو بھی غدار قرار دینے کی ایک بے ہودہ روایت پڑ گئی ہے۔
سابقہ دور حکومت میں جب ایک حکومتی وزیر نے وارث میر کو غدار قرار دیا تو مجھے شدید دکھ پہنچا۔ افسوس کہ ہماری سیاست اب اس حد تک گر چکی ہے کہ ایک محب وطن دانشور کو غدار کہنے کے لئے کسی شہادت یا دلیل کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی جاتی اور یہ الزام بھی وہ لوگ لگاتے ہیں جن کو پاکستانی تاریخ کی ابجد کا بھی پتہ نہیں۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ پروفیسر وارث میر، پروفیسر ڈاکٹر محمد عثمان، نثار عثمانی اور امجد حسین کے درمیان قومی مسائل پر فکر انگیز گفتگو اکثر میرے مال روڈ لاہور کے دفتر میں ہوتی تھی۔ میں ذاتی طور پر کہہ سکتا ہوں کہ وارث میر جیسے باضمیر اور با کردار پروفیسر، صحافی اور لکھاری آج ہمارے معاشرے میں موجود ہوتے تو پاکستان کی تقدیر بدل سکتی تھی۔ دراصل وارث میر نے صحافت میں مولانا ظفر علی خان والی روایت اپنائی اور اپنے وقت کے آمر مطلق کے خلاف منطق کی بنیاد پر دلائل سے آواز بلند کی۔ اسی وجہ سے ہیومن رائٹس سوسائٹی آف پاکستان نے انہیں 1988 میں ہیومن رائٹس ایوارڈ (بعد از مرگ) سے نوازا تھا۔
میں سمجھتا ہوں کہ وارث میر کو انکی قومی خدمات کے اعتراف میں نہ صرف یاد رکھا جانا چاہیے بلکہ انہیں خراج تحسین بھی پیش کرنا چاہیے کیونکہ جو قومیں اپنے محسنوں اور ہیروز کو بھلا دیتی ہیں انہیں تاریخ میں اس عمل کا کفارہ ادا کرنا پڑتا ہے۔ وارث میر بے لاگ صحافت کے علمبردار تھے جنہوں نے 25 سال تک شعبہ صحافت میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ انہوں نے آزادی اظہار کی خاطر جنرل ضیاء الحق کے دور آمریت میں ہر طرح کی دھمکیاں اور سختیاں جھیلیں لیکن کلمہ حق کہنے سے باز نہیں آئے۔ ان کی انہی قومی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے وارث میر کو ہلال امتیاز (بعد از مرگ) سے نوازا تھا۔ بلاشبہ وہ اس اعزاز کے حقدار تھے، لیکن کیا ہی اچھا ہوتا کہ اگر انہیں یہ اعزاز ان کی زندگی میں ہی عطا کر دیا جاتا۔
