ملک کی خاطر جان دینے کیلئے تیار، ہار نہیں مانوں گا

تحریک انصاف کے چیئرمین وسابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے چاہے جیل میں ڈال دیں ، ہارنہیں مانوں گا،ملک کی خاطر جان دینے کیلئے تیارہوں، ، ہم امریکی اورنہ ان چوروں کی غلامی چاہتے ہیں، ہم کسی سے دشمنی نہیں چاہتے اور نہ ہی کسی کی غلامی چاہتے ہیں۔

پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 7 راولپنڈی کہوٹہ میں ضمنی الیکشن کی انتخابی مہم کے سلسلے میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انکا کہنا تھا میں نے کہا رات دس بجے پہنچوں گا تو کہوٹہ والے سوئے ہوں گے، آپ سب کودیکھ کر پندرہ منٹ تک دنگ بیٹھا رہا، یہاں کی عوام کے جذبے اور جنون کو سلام پیش کرتا ہوں، ایک وقت تھا لوٹوں کو چھانگا مانگا اور مری لے جایا کرتے تھے، لوٹوں کو نہیں پتہ اب زمانہ بدل چکا ہے، ڈیزل سے پہلے تو میں لوٹوں کی بات کرنے آیا تھا، موبائل فون نے دنیا بدل ہے، سوشل میڈیا نے سب کچھ بدل دیا ہے۔ لوٹو، تم عوام میں جاؤ گے، تین نعرے سنو گے ، لوٹا، چور اور غدار نعرے ہوں گے۔

انکا کہنا تھاہم حقیقی آزادی کے لیے جہاد کر رہے ہیں، ہم امریکی اور نہ ان چوروں کی غلامی چاہتے ہیں، ہم کسی سے دشمنی نہیں چاہتے اور نہ ہی کسی کی غلامی چاہتے ہیں، بھارت نے اتحادی ہوئے ہوئے بھی اپنے لوگوں کے لیے امریکی دباؤ مسترد کرکے روس سے تیل خریدا، ہم کسی سے لڑائی نہیں چاہتے، امریکا کو آزاد خارجہ پالیسی لانے والا وزیراعظم پسند نہیں آیا، ایسی خارجہ پالیسی چاہتے تھے جو ہمارے لوگوں کے مفادات کی حفاظت کرے، امریکا کی جنگ میں ہماری فوج اور عوام نے 80 ہزار سے زائد قربانیاں دیں، ہمارے فوجی ابھی تک امریکا کی جنگ کی وجہ سے شہید ہو رہے ہیں، یہاں کوئی تحریک طالبان نہیں تھی ، خود کش حملے نہیں تھے، ہمارے سربراہ کے پاس آزاد پالیسی بنانے کی جرات نہیں تھی۔ میں نے امریکا کو کہا امن میں آپ کے ساتھ ہیں لیکن جنگ میں نہیں، امریکا کو اڈے دینے سے انکار کیا۔

سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا مپورٹڈ حکومت آنے کے بعد پٹرول فی لٹر 100 روپے مہنگا کیا گیا، فضل الرحمن پٹرول سے بھی زیادہ بڑھ گیا، 45 فیصد گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، گھی اور آٹا سمیت سب کچھ مہنگا ہو گیا۔ میر جعفر اور میر صادق یہاں سازش کر کے ہماری حکومت گرائی۔ ہم فیصلہ کن وقت پر کھڑے ہیں،یہ چور اگر ملک پر مسلط رہے تو ملک کی پرواز اوپر نہیں جائے گی۔ قوم کو جگانے کے لیے پورے ملک میں نکلا ہوں۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا مجھ پر 15 ایف آئی آرز درج ہیں، میری پارٹی کے کارکنوں پر ایف آئی آرز درج ہیں، مجھ پر ہزاروں ایف آئی آرز درج ہوں میں ہمت نہیں ہارو ں گا، مجھے جیل میں ڈال دیں، ملک کی خاطر اپنی جان کی قربانی دینے کو تیار ہیں، یہ لوگ عمران ریاض خان سمیت دیگر صحافیوں کو جیل میں ڈال رہے ہیں۔ ایاز امیر جیسے دانشور کو ڈرایا اور تشدد کیا گیا۔

عمران خان نے کہا لاہور میں مسٹر ایکس الیکشن میں پوری دھاندلی کی کوشش کر رہا ہے، مسٹر ایکس آپ دھاندلی سے کیا دھاندلے سے بھی الیکشن نہیں جیت سکتے، چیف الیکشن کمشنر تم جتنا مرضی حمزہ شہباز اور مریم نواز کے پیرو میں گر جاؤ، میں نے الیکٹرانگ ووٹنگ مشین لانے کی پوری کوشش کی، چیف الیکشن کمشنر نے بھی ای وی ایم کی مخالفت کی، ایک رپورٹ آئی ہے جس کے مطابق 163 طریقے سے الیکشن میں دھاندلی کی جاتی ہے، ای وی ایم کی مدد سے دھاندلی کے 130 طریقے ختم ہو جاتے ہیں۔

قبل ازیں خوشاب میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہو ئے عمران خان کا کہنا تھاخوشاب میں ایک لوٹا اور لوٹی کو شکست دینی ہے، آپ سب نے ان کو شکست دینے کی ذمہ داری لینی ہے، یہ اپنے ضمیر کا سودا کرتے ہیں اس کی قیمت لگواتے ہیں، یہ ضمیر کی قیمت لگوا کر قوم، آئین اور دین سے غداری کرتے ہیں، یہ عمران خان کی نہیں آپ سب کی جنگ ہے۔ یہ سیاست نہیں جہاد ہے۔

انہوں نے کہا امریکا نے مقامی میر جعفراورمیرصادق کو ساتھ ملا کرسازش کی۔ مقامی میرجعفراورمیرصادق نے بائیس کروڑ کی منتخب حکومت کو گرایا۔ بڑے ڈاکوؤں کوہمارےاوپر بیھٹا کرلوگوں کی توہین کی گئی، مغربی ممالک میں ضمانت پر چپڑاسی کوبھی نوکری نہیں دیتے، ہمارے ملک میں کرپٹ، جوتے پالش کرنے والے کو ہمارا سربراہ بنا دیا۔

سابق وزیر اعظم نے کہا آپ شہباز شریف کو وزیراعظم اورحمزہ ککڑی کووزیراعلیٰ مانتے ہیں؟ کیا آپ آصف زرداری سب سے بڑے بیماری کو مانتے ہیں؟ کیا آپ ڈیزل کو مانتے ہیں جس کی قیمت مہنگی ہو گئی؟ قوم ان کو کبھی تسلیم نہیں کرے گی ، چیلنج کرتا ہوں، جتنا مرضی ایف آئی آرکاٹیں، مجھ پر15 ایف آئی آرہیں، میری ٹیم پر دہشتگردی کی ایف آئی آرہیں، ایازامیرکو شرمندہ کیا اس پرتشدد کیا،عمران ریاض کو پکڑ کرجیل میں ڈال دیا۔

انکا کہنا تھا دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور خوف دلایا جا رہا ہے، لاہور میں بیٹھے ایک آدمی کا مشن ہے کسی طرح چوروں کو الیکشن جتوا دیں۔ ایک نامعلوم نمبر سے دھمکیاں دی جا رہی ہیں، لاہور والے کو بتا رہا ہوں جو مرضی ہے کر لو تم صرف خود کو ذلیل کرو گے لوگ تمہیں برا بھلا کہیں گے، تم جتنی دھاندلی کراؤ گے کرا لو، دھاندلی کے باوجود ضمنی الیکشن کے نتائج آئیں تو حمزہ واپس جائے گا،ایک نامعلوم نمبر سے دھمکیاں دی جا رہی ہیں، ضمنی الیکشن کے نتائج کے بعد حمزہ ککڑی واپس فیل ہو جائے گا۔ بھینس چور، سائیکل چور ، بکری چور کو جیل بھیج دیا جاتا ہے، بڑے ڈاکوؤں کو این آر او مل جاتا ہے،جوتے پالش والے کو ہمارا سربراہ بنا دیا گیا، مغربی ممالک میں ضمانت پر چپڑاسی کو بھی نوکری نہیں دیتے۔

پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا شہباز شریف، حمزہ شہباز، آصف زرداری، مولانا فضل الرحمان سن لو! ہمیں تمہیں تسلیم نہیں کرتے، ضمنی انتخابات پاکستان کے مستقبل کا فیصلہ کرے گا، مولانا رومی نے کہا تھا قوم اھچے اور برے کی تمیز ختم کر دے تو وہ مر جاتی ہے، جو قوم چھوٹے چوروں کو جیل میں ڈالتی ہے وہ تباہ ہوجاتی ہے۔

انہوں نے کہا لاہور میں مسٹر ایکس بیٹھا ہوا ہے میں کہوں گا نہیں خود اندازہ لگالیں، 2013 میں بھی اس نے دھاندلی کرائی تو اس کو اینٹی کرپشن کے ہیڈ سے نوازا گیا، آج چیف الیکشن کمشنر کی بیوی کو بڑا عہدہ دیکر دھاندلی کرائی جائیگی لیکن یہ دھاندلی تو کیا دھاندلا بھی کرلیں انشااللہ ہم ان کوشکست دینگے۔

عمران خان کا کہنا تھا میں لاہور والے کو بھی بتا رہا ہوں تم نے جو مرضی کرنا ہے کرو تم خود کو صرف ذلیل کرو گے، لوگ تمہیں برا بھلا کہیں گے، تم نے جتنی دھاندلی کرانی ہے کرالو لیکن دھاندلی کے باوجود اتوار کو ضمنی الیکشن کے نتائج آئیں گے تو حمزہ ککڑی جو پہلے ہی غیر آئینی وزیراعلیٰ ہے اس کی یہ حیثیت بھی ختم اور واپس جائیگا۔

قبل ازیں لاہور میں سینئرصحافیوں سے گفتگو میں سابق وزیراعظم عمران خان کاکہنا تھا نیوٹرلزسےمیری کوئی لڑائی نہیں، میں کیوں ان سے لڑوں گا، اس لڑائی میں صرف ملک کمزور ہو گا، نیوٹرل سے بات ہوئی تو ایک ہی موقف ہے فری اینڈ فیئر الیکشن ،چوروں سے کبھی اتحاد نہیں کرونگا، حکومت گرفتار کرنا چاہتی ہے تو کرلے کوئی ڈر نہیں

انہوں نے کہا پیپلز پارٹی کے ساتھ بیٹھنے سے ہزار درجے بہتر ہیں میں اپوزیشن میں بیٹھ جاؤں، کسی بیرونی اور اندرونی طاقت کے ذریعے کوئی بیک ڈور رابطے نہیں، ملک معیشت کو تباہ کرنے والوں نے گیارہ سو ارب روپے کا این آر او لیا۔

انکا کہنا تھا جو بات کرنا چاہتا ہے دروازے کھلے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے ساتھ بیٹھنے سے ہزار درجے بہتر ہے میں اپوزیشن میں بیٹھ جاؤں۔ کسی بیرونی اور اندرونی طاقت کے ذریعے کوئی بیک ڈور رابطہ نہیں۔

انہوں نے کہا اس بار حکومت میں ایک ایشو رہا مختلف چھوٹی جماعتیں بلیک میل کرتی رہیں، عثمان بزاد کے علاوہ باقی امیدوار ایک دوسرے کے نام پر بطورِ وزیر اعلیٰ متفق نہیں تھے، ہماری حکومت میں اگر بزدار کے خلاف کسی اور کو وزیراعلی بناتے تو وہ کرپشن کرتا۔ علیم خان اور پرویز الٰہی بطورِ وزیر اعلیٰ ایک دوسرے کے نام سے راضی نہیں تھے، پنجاب ملک کا ساٹھ فیصد ہے کسی ایسے کو وزیر اعلیٰ نہیں بنا سکتا تھا جو ذاتی لوٹ مار کرتا۔

عمران خان نے کہا صاف شفاف الیکشن کے بغیر ملک بحرانوں سے نہیں نکلے گا، میں نے کون سی ریڈ لائن عبور کی۔

دریں اثنا سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پرانہوں نے ایک خبر شیئر کی ، جس میں ایک سروے کا بتایا گیا، اس میں پتن کی رپورٹ دکھائی گئی۔ انہوں نے لکھا کہ پتن کی اس رپورٹ نےایک مرتبہ پھرثابت کردیاکہ شرمناک حدتک متعصب اور کنٹرولڈ الیکشن کمیشن کی طرح ان دو مجرم مافیا خاندانوں نے EVMs کی مخالفت کیوں کی۔ ان الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کےذریعے پاکستان میں دھاندلی کے 163 طریقوں میں سے 130 سے چھٹکارا پایا جا سکتا تھا۔

عمران خان نے کہا مجھے ڈر ہے پی ڈی ایم جماعتیں، جنہوں نے برسوں کی ریاضت سے دھاندلی کے فن میں اوجِ کمال تک مہارت حاصل کی ہے، آزادانہ و منصفانہ انتخابات چاہتی ہیں نہ ہی ہماری مقتدرہ۔

Back to top button