گجرات کے چوہدری خاندان کے عروج و زوال کی داستان


سابق وزیراعظم عمران خان کے وزارت عظمیٰ سے ہٹائے جانے کے بعد سے گجرات کا چوہدری خاندان شدید تر اختلافات کا شکار ہو چکا ہے اور ان میں روز بروز شدت آتی جا رہی ہے۔ حالات اس نہج تک جا پہنچے ہیں کہ چوہدری شجاعت حسین کے چھوٹے بھائی چوہدری وجاہت حسین اپنے کزن چوہدری پرویز الٰہی کے ساتھ مل کر بڑے بھائی کے مد مقابل آ چکے ہیں اور ان پر تنقید کے نشتر برسا رہے ہیں۔

یاد رہے کہ چوہدری خاندان کے روح رواں چوہدری ظہور الٰہی تھے جو چوہدری شجاعت کے والد اور پرویز الٰہی کے چچا تھے۔ پرویز الٰہی کے والد چوہدری منظور الہی دراصل چوہدری ظہور الٰہی کے چھوٹے بھائی تھے جبکہ شجاعت حسین کی ہمشیرہ پرویز الہی کی اہلیہ ہیں جبکہ پرویز الہی کی ہمشیرہ شجاعت کی اہلیہ ہیں۔ ظہور الٰہی نے اپنے کیریئر کی ابتدا ہندوستان میں پولیس کانسٹیبل سے کی مگر کچھ سال بعد ملازمت کو خیر آباد کہہ کر کپڑے کی بنائی کا کام شروع کر دیا جسے کھڈی کہا جاتا تھا۔

ہندوستان کی تقسیم کے بعد چوہدری ظہور الٰہی کھڈی کا کام گجرات لے آئے۔ اس دوران ان کے چھوٹے بھائی چوہدری منظور الٰہی ٹیکسٹائل انجینرنگ کی ڈگری لے کر فارغ ہو گئے تھے چنانچہ دونوں نے مل کر گجرات میں ٹیکسٹائل مل کی بنیاد رکھی اور جلد ہی لاہور میں ایک اور ٹیکسٹائل مل قائم کر دی۔ 1956ء میں ظہور الہیٰ نے سیاست میں آنے کا فیصلہ کیا اور 1958ء میں گجرات کے ضلعی چیئرمین منتخب ہو ئے۔1962ء میں وہ پہلی بار قومی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے اور مسلم لیگ پارلیمانی پارٹی کے سیکرٹری جنرل بن گئے۔ 1970ء میں ظہور الہی دوسری بار قومی اسمبلی کے ممبر منتخب ہو ئے۔ ظہور الٰہی نے ذوالفقار علی بھٹو کی سخت مخالفت کی۔ 1977 کے انتخابات کے وقت وہ جیل میں تھے لہذا الیکشن میں حصہ نہ لے پائے۔

جنرل ضیاءالحق کے مارشل لاء میں ظہور الٰہی وفاقی وزیر بنائے گئے۔ تاہم 25 ستمبر 1985 کو جب ظہور الٰہی لاہور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس مولوی مشتاق حسین کے ساتھ ایک کار میں سفر کررہے تھے تو ایک نامعلوم شخص نے لاہور میں ان کی کار پر دستی بم سے حملہ کر دیا جس کے بعد 4 نامعلوم افراد نے اسٹین گن سے گولیوں کی بوچھاڑ کردی۔ اس فائرنگ کے نتیجے میں چوہدری ظہور الہی موقع واردات پر جاں بحق ہوگئے۔ جب کہ بھٹو کو پھانسی کی سزا سنانے والے جسٹس مشتاق حسین کو معمولی زخم آئے۔ اس حملے کی ذمہ داری الذولفقار تنظیم نے قبول کی تھی جو کہ مرتضیٰ بھٹو کی زیر قیادت کام کر رہی تھی۔

چوہدری شجاعت حسین نے اپنے والد کی موت کے بعد سیاست میں قدم رکھا اور 1985 میں جنرل ضیاء الحق کی مجلس شورٰی کے رکن بنے۔ 1988ء کے انتخابات میں شجاعت حسین اور پرویز الٰہی نے پیپلز پارٹی مخالف اتحاد آئی جے آئی کے پلیٹ فارم پر انتخابات میں حصہ لیا اور نواز شریف کے دست راست بن گئے۔ 1990ء کے انتخابات میں چوہدری شجاعت قومی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے اور نواز شریف حکومت میں وزیر داخلہ بنے۔ 1999ء میں جب پرویز مشرف نے نواز شریف کی حکومت پر شب خون مارا تو چوہدری شجاعت حسین وزیر داخلہ جبکہ پرویز الٰہی پنجاب حکومت کے سپیکر تھے مگر بعد میں پرویز مشرف نے نیب کے ذریعے ان کی وفاداری تبدیل کر کے اپنی کنگ پارٹی کا صدر بنا دیا۔

مارچ میں جب عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش ہوئی تو ق لیگ کی اہمیت ایک بار پھر بڑھ گئی چنانچہ اسی اہمیت کے پیش نظر شہباز شریف کو 14سال بعد ان کے آستانے پر حاضری دینا پڑی جب کہ آصف زرداری اور عمران خان بھی یکے بعد دیگرے حاضر ہوئے۔ پرویز الٰہی کو جب اپوزیشن نے سپیکر شپ دینے کی آفر کی تو انہوں نے عمران خان کے خلاف دھواں دھار پریس کانفرنس کر ڈالی اور اسے سیاست میں اناڑی قرار دے دیا مگر کچھ روز بعد جب عمران خان نے انہیں یہی آفر دی تو انہوں نے فوراً یوٹرن لیتے ہوئے عمران کی حمایت کا اعلان کر دیا۔

Back to top button