آٹھویں آئینی ترمیم، جس کے شکار کئی منتخب وزرائے اعظم بنے

جنرل ضیا الحق نے اپنی ناجائز حکمرانی کے دوام کےلیے آئین میں آٹھویں آئینی ترمیم زبردستی شامل کروائی، اس زہر قاتل ترمیم نے کئی وزرائے اعظم کو یک جنبش قلم گھر بھیج دیا تھا۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ روز اول سے اُتار چڑھاؤ کا شکار رہی ہے، بانیِ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی وفات کے بعد خواجہ ناظم الدین اور پھر غلام محمد گورنر جنرل بنے، لیکن جب آئین کی تشکیل ہوئی تو عوام کی اکثریت نے پارلیمانی نظام کو ہی پاکستان کےلیے پسند کیا۔
سنہ 1956 کا آئین مکمل طور پر پارلیمانی آئین تھا جس میں صدر مملکت اور وزیر اعظم کے اختیارات میں خاصی حد تک توازن پیدا کیا گیا تھا۔
لیکن فروری 1985 کے عام انتخابات کے بعد منتخب ہو کر آنے والی پارلیمنٹ کو اقتدار منتقل کرنے سے بہت پہلے ہی جنرل ضیا الحق نے اشارہ دے دیا تھا کہ وہ آئین میں بڑے پیمانے پر ترامیم کریں گے جن میں وہ اپنی سوچ اور عزائم کے مطابق صدر مملکت اور وزیر اعظم کے اختیارات میں توازن پیدا کریں گے۔ صدر ضیا الحق کی سوچ یہ تھی کہ وہ مستقبل کے وزیر اعظم کو صدر مملکت کے ہاتھوں میں اس انداز میں یرغمال بنا دیں گے کہ وہ صدر مملکت کی خوشنودی کو اپنی کابینہ بلکہ پارلیمنٹ سے بھی بڑھ کر مقدم رکھے۔ دوسری جانب وہ مسلح افواج کےلیے کاروبار مملکت میں آئینی کردار متعین کرنے کےلیے ذہن بنا چکے تھے کہ انہیں کیا کرنا ہے، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے آئین کی بحالی کے حکم یعنی ریوائیول آف کانسٹیٹیوشن کو استعمال کرکے سنہ 1973 کے آئین سے چھیڑ خانی کی۔ اس میں سب سے بڑے دو عوامل نمایاں ہوئے: پہلا صدر مملکت کا قومی اسمبلی توڑنے کا صوابدیدی اختیار اور دوسرا تینوں مسلح افواج کی نمائندگی کے ساتھ نیشنل سکیورٹی کونسل کا قیام۔
12 اگست 1983 کو جنرل ضیا الحق نے مجلس شوریٰ سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ 31 مارچ 1985 تک عام انتخابات منعقد کروا دیے جائیں گے، یہ انتخابات حسب پروگرام قومی اسمبلی کےلیے 25 فروری اور صوبائی اسمبلیوں کےلیے 28 فروری کو منعقد ہوئے۔
عام انتخابات کا عمل مکمل ہونے کے بعد جنرل ضیا الحق نے دو مارچ 1985 کو آئین کی بحالی کا حکم یعنی ریوائیول آف کانسٹیٹیوشن آرڈر جاری کیا، جسے آر سی او یا ’صدارتی حکم نمبر 14‘ کہتے ہیں۔
قومی اسمبلی میں اس وقت کے قائد حزب اختلاف حاجی محمد سیف اللہ خان نے آٹھویں آئینی ترمیم پر ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ آر سی او کے ذریعے جنرل ضیا الحق نے 1973 کے آئین کا پورا ڈھانچہ تبدیل کر دیا۔ ان کے اس ایک حکم سے پاکستان کے آئین کی روح پارلیمانی کے بجائے صدارتی شکل اختیار کرگئی۔ حاجی سیف اللہ نے بتایا تھا کہ حقیقت یہ ہے کہ ریوائیول آف کانسٹیٹیوشن کا نفاذ اس قوم کےلیے ایک سانحے سے کم نہ تھا کیوں کہ آئین میں وزیر اعظم کی حیثیت صدر مملکت کے ایک مشیر کی سی تھی اور ان کا نامزد کردہ قرار دے دیا گیا اور یہ صدر کی صوابدید پر چھوڑ دیا گیا کہ وہ وزیر اعظم کا مشورہ تسلیم کرے یا نہ کرے، اسی طرح صوبوں میں وزیر اعلیٰ کی حیثیت گورنر کے مشیر کی سی رکھی گئی تھی۔
جونیجو حکومت کے وزیر قانون اقبال احمد خان کہتے ہیں کہ دنیا بھر میں یہی قانون ہے کہ آئین سے بالاتر اقدامات اگر ایک دفعہ کر لیے جائیں تو پھر بعد میں ان کو تحفظ دینے کےلیے پارلیمنٹ کے ذریعے قانون سازی کی جاتی ہے۔ اسی طرح جنرل ضیا الحق کے مارشل لا کو بھی ’انڈیمنٹی‘ یعنی تحفظ دینا ضروری تھا کیوں کہ اس کے بغیر مارشل لا ختم نہیں ہو سکتا تھا۔ ’ہماری سب سے پہلی ترجیح یہ تھی کہ جلد از جلد مارشل لا کے دور کو تحفظ دے دیں تا کہ اس کے خاتمے کی راہ ہموار کر کے آئین مکمل طور پر بحال کیا جائے۔‘
’یہی وجہ ہے کہ پہلا مسودہ جو میں نے ایوان میں پیش کیا اس میں کم و بیش صرف مارشل لا کے اقدامات کے تحفظ کی شقیں ہی شامل تھی لیکن اس وقت کی اپوزیشن آزاد پارلیمانی گروپ کی رائے یہ تھی کہ اس مرحلے پر آئین میں کچھ اور ترامیم بھی کرلی جائیں، اس میں ان ترامیم کو بھی تبدیل کرنے کی تجویز دی تھی جنہیں آر سی او یعنی آئین کی بحالی کے حکم کے ذریعے آئین کا حصہ بنا دیا گیا تھا۔‘
’ان میں خاص طور پر صدر کے اختیارات پر ان کی توجہ تھی کہ صدر جب چاہیں وزیر اعظم کو فارغ کر دیں اور اسمبلی توڑنے کا اختیار بھی صدر کو دے دیا گیا تھا، ہمارا خیال تھا کہ ان شقوں کو ہم فوری تبدیل کر لیں، باقی بعد میں دیکھا جائے گا۔‘
اس سوال کے جواب میں کہ آٹھ ستمبر 1985 کو آئینی ترمیم کا جو مسودہ آپ نے ایوان میں پیش کیا، وہ آپ کو کہاں سے ملا؟ اقبال احمد خان نے جواب دیا کہ ’یہ مسودہ مجھے وزیر اعظم محمد خان جونیجو نے دیا تھا، آپ سمجھ سکتے ہیں کہ ان کو کہاں سے ملا ہوگا۔‘
حاجی سیف اللہ بات کو آگے بڑھاتے ہوئے بتاتے ہیں کہ کمیٹی میں بل کے مسودے پر غور جاری تھا کہ ’ایک شام مجھے آرمی ہاؤس سے ٹیلی فون موصول ہوا کہ صدر ضیا الحق رات آٹھ بجے ملنا چاہتے ہیں، میں نے اپنے گروپ کے دوستوں سے مشورہ کیا، سب نے ملاقات کرنے کا مشورہ دیا، جنرل ضیا الحق سے میں راولپنڈی کے آرمی ہاؤس میں ملا، ان کے ساتھ جنرل رفاقت بھی موجود تھے۔ میرے جاتے ہی جنرل ضیا الحق نے سوال کیا کہ آپ لوگ آٹھویں آئینی ترمیم کی مخالفت کیوں کر رہے ہیں؟ جب کہ دنیا کے تمام جمہوری ملکوں میں یہی طریقہ رائج ہے کہ جو میں نے آر سی او کے ذریعے نافذ کیا ہے۔ حاجی سیف اللہ نے کہا کہ انہوں نے جنرل ضیا الحق سے کہا کہ آپ نے سنہ 1973 کے پورے آئین کا حلیہ بگاڑ دیا ہے اور پارلیمانی نظام کو ختم کرکے صدارتی نطام نافذ کرنے کی کوشش کی ہے جو کسی صورت قوم کےلیے قابل قبول نہیں۔ اس پر جنرل ضیا الحق نے دو ٹوک الفاظ میں کہا، میں دو امور پر ہرگز مصالحت کےلیے تیار نہیں، ایک اسمبلی توڑنے کا غیر مشروط اختیار اور دوسرا قومی سلامتی کونسل کا قیام۔
میں نے بھی جواباً واضح انداز میں ان کو بتایا کہ ’ہم لوگ کسی قیمت پر صدر مملکت کو اسمبلی توڑنے کا اختیار دینے پر تیار نہیں ہیں کیوں کہ پارلیمانی نظام میں یہ اختیار صرف وزیر اعظم کے پاس ہوتا ہے۔
قومی اسمبلی کا اجلاس جو ملتوی کیا جا چکا تھا 20 دن کے وقفے کے بعد 16 اکتوبر کو دوبارہ شروع ہوا جس میں حکومت نے پہلا آئینی مسودہ واپس لے کر ایک دوسرا مسودہ ایوان میں پیش کر دیا لیکن تشویش کی بات یہ تھی کہ متنازع دفعات دوسرے بل میں بھی شامل تھیں، جو کہ معاہدے کی سراسر خلاف ورزی تھی۔
عام بحث کے بعد شق وار بحث شروع ہوئی اور اسمبلی توڑنے تک کی شقیں حکومت منظور کرواتی چلی گئی۔
’صدر کو اسمبلی توڑنے کا اختیار دینے کی شق پیش ہوتے ہی ہم نے ایوان کی کارروائی کا بائیکاٹ کر دیا، یہ شام کا وقت تھا۔ اسی اثنا میں اٹارنی جنرل اور ڈاکٹر محبوب الحق جنرل ضیا کا پیغام لے کر آئے۔ جنرل ضیا الحق کا کہنا تھا کہ آٹھویں ترمیم کا بل آج رات منظور نہ ہوا تو پھر نتائج کی ذمہ داری آپ لوگوں پر ہو گی پھر اس کا ذمہ دار میں نہیں ہوں گا۔‘
حاجی سیف اللہ نے کہا کہ ’ہم لوگ بدستور اپنے مطالبے پر قائم رہے اور دھمکی کی پرواہ نہیں کی۔ رات تین بجے تک معاملہ چلتا رہا، تین بجے جنرل ضیا الحق رضامند ہوئے کہ اسمبلی توڑنے کا اختیار صوابدیدی نہیں ہوگا بلکہ 48 (2) کے تحت حاصل اختیار پر عدلیہ کو مکمل اختیار ہوگا کہ وہ اس اقدام پر اپنا فیصلہ صادر کر سکے۔ اس کےلیے انہیں آمادہ کیا گیا کہ آئین میں یہ جملہ لکھ دیا جائے کہ ‘اگر حکومت کےلیے آئین کے تابع کام چلانا ممکن ہی نہ رہے۔‘
یہ بات بھی آرٹیکل 270 الف میں لکھ دی گئی کہ 30 ستمبر 1985 کے بعد مارشل لا کا کوئی ضابطہ سوائے مارشل لا اٹھانے کے جاری نہیں ہوگا، اس طرح عملی طور پر مارشل لا ہم نے اس رات ختم کر دیا۔
اس رات پونے چار بجے آٹھویں آئینی ترمیم کا بل منظور ہوا اور اس کے ساتھ یہ شرط بھی طے کی گئی کہ بل منظور ہونے کے اگلے روز صدر مملکت قومی اسمبلی سے خطاب کریں گے اور مارشل لا کے خاتمے کی تاریخ کا اعلان کریں گے۔
یہ تحریری معاہدہ تھا جو آزاد پارلیمانی گروپ اور جنرل صاحب کی ٹیم اٹارنی جنرل عزیز اے منشی، ڈاکٹر محبوب الحق اور خاقان عباسی کے درمیان طے پایا۔
اگلی صبح یعنی 17 اکتوبر کو صدر جنرل ضیا الحق نے ایوان سے خطاب کیا، پورے خطاب میں وہ مارشل لا کی تعریف کرتے رہے لیکن مارشل لا اٹھانے کی تاریخ کا کہیں ذکر نہیں تھا، جس پر ڈاکٹر محبوب الحق اپنی نشست سے اٹھے اور ایک چٹ لکھ کر وزیر اعظم جونیجو کو دی، وزیر اعظم نے اس چٹ پر دستخط کیے اور تقریر کے دوران ہی ڈاکٹر محبوب الحق نے وہ چٹ جنرل ضیا الحق کے سامنے رکھ دی۔
جنرل ضیاء الحق نے چٹ پڑھی اور شیروانی کی سامنے والی جیب میں رکھ لی اور تھوڑی دیر میں تقریر ختم کرکے چلے گئے۔
وزیر قانون اقبال احمد خان مصر تھے کہ ریوائیول آف کانسٹیٹیوشن ایک مجبوری تھی جس کے بغیر مارشل لا کا خاتمہ ممکن نہیں تھا اور ریوائیول آف کانسٹیٹیوشن کے ذریعے 1973 کے آئین میں صدارتی اختیارات کو بڑھانے کےلیے جو چھیڑخانی کی گئی، جو بعد ازاں جو 58 (2) بی شکل میں آئین کا حصہ بن گئی، اس کے باوجود یہ آئین پارلیمانی ہی ہے اور 58 (2) بی کی موجودگی کے باوجود پارلیمنٹ ہی بالادست ہے۔
اور یہ سب اس لیے کہ پارلیمنٹ میں قائد ایوان وزیر اعظم کے اختیارات کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا جب کہ صدر کے اختیار کے استعمال کو عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے اور پھر پارلیمانی نظام کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ پارلیمنٹ مقتدر ہو اور جب آئین میں ترمیم کا اختیار پارلیمنٹ کے پاس ہے تو اس نظام کو پارلیمانی ہی کہا جائے گا کیوں کہ جب چاہے پارلیمنٹ آئینی طریق کار کے مطابق صدر کے اختیارات میں ترمیم کر سکتی ہے۔
17 اکتوبر 1985 کی رات پونے چار بجے منظور ہونے والے آٹھویں آئینی ترمیم بل نے ایک آسیب کی طرح سے پاکستان میں جمہوری عمل کا پیچھا کیا اور بار بار اس میں رخنہ پیدا کیا۔
29 مئی 1988 کو صدر ضیا الحق نے اسی آئینی اختیار کے تحت محمد خان جونیجو کی حکومت برطرف کر دی، حاجی محمد سیف اللہ خان نے اسے چیلنج کر دیا، گو کہ اس کا فیصلہ جنرل ضیا الحق کی 17 اگست طیارے کے حادثے میں موت کے بعد آیا لیکن چیف جسٹس محمد حلیم کی قیادت میں سپریم کورٹ نے جونیجو کی برطرفی کو غیر آئینی قرار دیا۔ لیکن چونکہ انتخابی عمل شروع ہو چکا تھا اس لیے مقتدر قوت کی خواہش پر حکومت بحال نہیں کی گئی۔
چھ اگست 1990 کو صدر غلام اسحاق خان نے اسی آرٹیکل کے تحت بے نظیر بھٹو کی حکومت برطرف کر دی، جسٹس افضل ظلہ کی قیادت میں سپریم کورٹ نے ان کے فیصلے کو درست قرار دیا۔
18 اگست 1993 کو ایک بار پھر صدر غلام اسحاق خان نے آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے نواز شریف حکومت کو برطرف کیا لیکن اس بار سپریم کورٹ نے نہ صرف فیصلہ غیر آئینی قرار دیا بلکہ حکومت بحال کر دی۔ جسٹس سجاد علی شاہ نے اختلافی نوٹ لکھا کہ سندھی وزیر اعظم کو ریلیف نہیں ملا لیکن پنجابی وزیر اعظم کو ریلیف دیا جا ریا ہے۔
پانچ نومبر 1996 صدر فاروق لغاری نے بے نظیر بھٹو کی حکومت کو برطرف کر دیا اور انہی جسٹس سجاد علی شاہ نے اس فیصلے کو آئینی تحفظ فراہم کیا۔
ایک بار آرٹیکل 58(2) بی سے ڈسے جانے کے بعد محمد نواز شریف نے اپریل 1997 میں 13ویں آئینی ترمیم کے ذریعے صدر کے صوابدیدی اختیار کو ختم کر دیا، اس وقت صدر مملکت فاروق لغاری اور آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت تھے۔
اپریل 2010 میں پیپلز پارٹی کی حکومت میں جب آصف علی زرداری صدر مملکت اور یوسف رضا گیلانی وزیر اعظم تھے تو آئین میں 18ویں ترمیم کے ذریعے وزیر اعظم کے 1973 کے آئین میں حاصل اختیارات بحال کر دیے گئے اور 58(2) بی کو ختم کر دیا۔
تجزیہ نگاروں کے مطابق ذوالفقار علی بھٹو نے 1973 کے آئین کو بنانے کے ساتھ جو بڑا کارنامہ انجام دیا تھا وہ اتفاق رائے تھا جو اس آئین کو قابل قبول بنانے کےلیے پیدا کیا گیا، اپنے بدترین سیاسی مخالفین کو بھی بھٹو نے اس پر دستخط کرنے کےلیے آمادہ کیا، اور انہوں نے پارلیمانی جمہوریت کی روح کے مطابق وزیر اعظم کو اس میں بااختیار بنایا لیکن جنرل ضیا الحق نے شب خون مارا، اور آر سی او کے ذریعے آئین کے اندر صدارتی اختیارات کی بھرمار کر دی، اسمبلیاں توڑنے کا اختیار اپنی جیب میں رکھ لیا، اس طرح جنرل ضیا نے آئین کا حلیہ بگاڑ دیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button