بوٹ کو عزت دینے اور ووٹ کی عزت کرنے والے آمنے سامنے آ گئے


کراچی میں مزار قائد پر مادر ملت فاطمہ جناح زندہ باد کے نعرے لگانے کے بعد سے ملک جس سیاسی بھونچال کا شکار ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی معاشرہ اب دو واضح سوچوں میں تقسیم ہو چکا ہے۔ پہلی سوچ ریاستی ہے جو بوٹ کو عزت دینے والوں کی ترجمان ہے اور قائد کے مزار پر فاطمہ جناح کے حق میں نعرے بازی کو ملکی مفاد کے خلاف سمجھتی ہے۔ دوسری سوچ باغی ہے جو ووٹ کی عزت بحال کروانے پر مصر ہے اور مزار قائد پر فاطمہ جناح زندہ باد کے نعرے لگانے پر مصر ہے۔ بوٹ کو عزت دینے کے داعی وہ ہیں جو ایوب آمریت اور مارشل لاء کی یادگار ہیں اور فاطمہ جناح زندہ باد کے نعرے لگانے والے وہ ہیں جو جناح کے بتائے ہوئے راستے پر عمل پیرا ہیں اور جمہوریت کے طرف دار ہیں۔
یاد رہے کہ ایوبی آمریت کے زمانے میں بھی فاطمہ جناح عوام میں اسوقت کے ڈکٹیٹر سے زیادہ مقبول تھیں  اور تب بھی لوگ مادر ملت زندہ باد کے نعرے لگایا کرتے تھے۔ دوسری طرف ایوب کے ساتھیوں نے صدارتی الیکشن کے دوران مادر ملت کا انتخابی نشان لالٹین آوارہ کتوں کے گلوں میں ڈال کر کر شہر شہر گھمایا اور پھر بدترین دھاندلی کے ذریعے ایوب خان کو جتوا دیا۔ لیکن تسریخ کا سچ یہ یے کہ آج بھی مادر ملت کے نام کا نعرہ ریاست کے ایوانوں میں زلزلہ بپا کر دیتا ہے۔ اب مسئلہ شاید یہ ہے کہ فاطمہ جناح زندہ باد کے نعرے لگانے والے اکثریت میں ہوگئے ہیں۔
کراچی میں مریم نواز اور کیپٹن صفدر کے ہوٹل کے کمرے کا تالا توڑ کر صفدر کی ہنگامی گرفتاری کی وجہ یہ بتائی گئی کہ انہوں نے قائد کے مزار پر مادر ملت زندہ باد، ’فاطمہ جناح زندہ باد‘ اور ’ووٹ کو عزت دو‘ کے نعرے لگائے تھے۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق ان کی گرفتاری کا تمام منصوبہ آئی ایس آئی آئی کے دفتر میں تیار ہوا۔ شنید یہ ہے کہ صفدر سے نعروں سے چند سینئر ترین کمانڈرز کے جذبات مجروح ہوئے۔ ان نعروں سے کماندرز کے خیال قائد کی روح تڑپ گئی ہو گی۔ ان کے نظریات کو ٹھیس پہنچی ہو گی۔ ان کی تعلیمات کو نقصان پہنچا ہو گا۔ چنانچہ کیپٹن صفدر کی گرفتاری کی وجہ بھی یہی بتائی گئی۔ 
تاہم دوسری طرف کیپٹن صفدر کا موقف ہے کہ انہوں نے مزار قائد پر فاطمہ جناح زندہ باد کے نعرے اس لیے لگائے کہ ووٹ کو عزت دو کا مشن مادر ملت نے جنرل ایوب خان کے خلاف شروع کیا تھا جس نے پہلی مرتبہ پاکستان میں ووٹ کی عزت کو پامال کرنے کی روایت ڈالی۔ کیپٹن صفدر یاد دلاتے ہیں کہ ایوبی آمریت میں ہی پہلی مرتبہ مادرملت کی تقاریر کو ریڈیو پاکستان پر سنسر کر کے نشر کرنے کی روایت ڈالی گئی یعنی ان کی آواز دبانے کی کوشش کی گئی۔ صفدر کے مطابق یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے اور مزار قائد پر مادر ملت زندہ باد کے نعرے لگانے والوں کو مجرم قرار دیا جا رہا ہے۔
سوچا جائے تو کیا قائد کے مزار پر نعرہ لگانا جرم ہو سکتا ہے؟ وہ شخص جس نے ہمیشہ جمہوریت کی راہ اپنانے کا مشورہ دیا، آئین کی عظمت کا درس دیا، کیا ووٹ کی عزت کی بحالی کے لیے لگائے گے نعرے پر اسکو کوئی اعتراض ہو سکتا ہے؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ووٹ کی عزت کے نعرے سے قائد کی روح کو گزند پہنچ گئی ہو۔ کیا مادر ملت کے حق میں نعرہ بلند کرنے سے مزار قائد کو کوئی نقصان پہنچ سکتا ہے؟ 
معروف صحافی اور کالم نگار عمار مسعود سوال کرتے ہیں کہ وہ قائد بزرگ جس نے فوج کے ادارے کو اپنی حدود میں رہنے کا حکم دیا، اور واشگاف الفاظ میں بتایا کہ تمہارا کام خدمت ہے، اس قائد کے مزار پر جمہوری نعرہ لگانا جرم کیسے ہو گیا۔ گناہ کیسے بن گیا؟ عمار کہتے ہیں کہ مجھے سمجھ نہیں آئی کہ ہم قائد کے مزار کو کیا بنانا چاہتے ہیں۔ کیا ہماری خواہش ہے کہ یہاں جمہوریت کے درس کے بجائے جمعراتوں کی دیگیں تقسیم کی جائیں، یہاں تعویذ گنڈے کا کاروبار ہوں؟ کیا یہاں بلیک کی کمائی کو سفید کرنے والے سیٹھوں کی طرف سے لنگر تقسیم کیا جائے؟ پھول کی پتیوں اور اگر بتیوں کا غیر قانونی کاروبار کیا جائے؟ مزار قائد پر سجدے کیے جائیں؟ قوالی کی محفل جمائی جائے؟ فقیروں میں کھانا تقسیم کیا جائے؟ 
سچ تو یہ ہے کہ قائد کا مزار ایک زندہ علامت ہے۔ جمہوریت کی۔ پاکستان کے ظہور کی۔ اتحاد، تنظیم اور ایمان کی۔ تحریک پاکستان کی کاوشوں کی علامت۔ ایسے مزار دھاگے باندھنے کے لیے نہیں ہوتے، غلامی کی زنجییر یں توڑنے کے لیے ہوتے ہیں۔ قفس سے رہائی کے لیے ہوتے ہیں۔ نئے جہانوں کی، نئے امکانوں کی۔ جمہوریت کی، جمہور کے حق رائے دہی کی علامت ہوتے ہیں۔ ایسے مقام تاریخی ہوتے ہیں کہ ان میں مدفون شخصیات تاریخ کا دھارا موڑ چکی ہوتی ہیں۔ غاصبوں کو شکست دے چکی ہوتی ہیں۔ ایسی تاریخی نشانیوں میں کوئی فرد نہیں ایک تاریخ دفن ہوتی ہے اور جب کوئی ایسے مقام پر ووٹ کی عزت کا مطالبہ کرتا ہے تو وہ تاریخ زندہ ہوتی ہے۔ وہی جذبہ جاگتا ہے۔ وہ زنجیریں ٹوٹتی ہیں۔ 
عمار مسعود کا کہنا ہے کہ فاطمہ جناح سے جن لوگون کو بیر تھا، صفدر کی گرفتاری سے پتہ چلا کہ یہ بیر اب بھی قائم ہے۔ اب بھی اس کمزور جسم کی عورت کی آواز کا خوف بہت سے دلوں پر ہیبت طاری کرتا ہے۔ اب بھی اس کی دور ایوب میں ہمت بہت سوں کو خوفزدہ کرتی ہے۔ اب بھی آمریت سے لڑنے والی قائد کی ہمشیرہ کی کہانی سے لوگ جان چھڑاتے ہیں۔ اب بھی انہیں وہ الیکشن یاد آتا ہے جس میں فاطمہ جناح کی ریڈیو پر تقریر پر پابندی تھی۔ جس میں ان کو انڈین ایجنٹ قرار دیا گیا تھا ۔ کیونکہ ایک ڈکٹیٹر نے دس سالہ کامیابی کا جشن منانا تھا۔ یہ جشن ایک سال منایا گیا۔ اس دس سالہ دور کی اتنی تعریف کی گئی کہ لوگوں کو اس کے ذکر سے قے آنے لگتی۔  حقیقت تو یہ ہے کہ آئین شکن لوگ کسی بیانیے کو پہلےتسلیم کرتے تھے نہ اب جمہورکی بات مانتے ہیں۔ انہیں قائد کے مزار کی حرمت کا اتنا خیال ہے کہ اسی قائد کی بہن کے حق میں نعرے انہیں ناگوار گذرتے ہیں۔
ماضی میں جو لوگ ایوب کے ساتھی تھے وہ آج کپتان کے ساتھ ہیں۔ وہی پولیس کے سربراہ کو اغوا کرتے ہیں۔ اس کو حبس بے جا میں رکھتے ہیں اور نعرہ لگانے والے کے خلاف ایف آئی آر درج کروا کر ہی اٹھتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ اس بات سے کتنی جگ ہنسائی ہوئی۔ کتنے داغ آئین کے سینے پر لگے۔ ایمان اتحاد اور تنظیم کی جڑیں کتنی کھوکھلی ہوئیں۔ بس ان کا مدعا یہی ہے فاطمہ جناح کا نام کوئی نہ لے۔ ان کی جرات کو کوئی سلام نہ کرے۔ ان کے حوصلے کی کوئی داد نہ دے۔ ان کی جمہوریت پسندی کو کوئی سلام نہ کرے۔ 
بہانہ یہ بنایا جاتا ہے کہ ان نعروں سے قائد کے مزار کے تقدس پر حرف آئے گا۔ کہنے والوں نہ یہ کبھی نہیں سوچا کہ جب آئین پاکستان کو بوٹ تلے روانڈا جاتا ہے تو قائد کی روح کتنی افسردہ ہوتی ہوگی؟ جب پارلیمنٹ کی بلڈنگ پر حملہ کیا جاتا ہے اور پی ٹی وی کی دیواریں پھلانگیں جاتیں ہیں تو قائد کی روح کس ماتم سے گذرتی ہوگی؟ جب بھٹو کو پھانسی دی جاتی ہے اور لیاقت علی خاں اور بے نظیر بھٹو کو راولپنڈی کی سڑکوں پر سرعام قتل کر دیا جاتا ہے تو قائد کی روح کتنا تڑپتی ہوگی۔ الیکشن میں جھرلو پھرنے پر اس کی روح کتنی پژمردہ ہوتی ہوگی؟
جب سرکاری افسران کا اغوا کیا جاتا ہے، جب صحافیوں کی زبانوں پر تالے لگائے جاتے ہیں تو قائد کی روح کس کرب سے گزرتی ہو گی؟ جب جمہوریت کے خلاف صف آرائی ہوتی ہوگی تو قائد کے افکار اور نظریات کی کتنی تضحیک ہوتی ہو گی؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب ہم سب جانتے ہیں لیکن انہیں اپنے ہونٹوں پر لانے سے ڈرتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button