پاکستانی فوجی قیادت میں کوئی نفاق نہیں، سب اکٹھے ہیں

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا ہے کہ سیاسی بیانات پر فوج میں ہر سطح پر سخت غم وغصہ پایا جاتا ہے جبکہ گزشتہ روز ایک ایسا بیان دیا گیا جس کے ذریعے قومی سلامتی سے منسلک ملکی تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کی گئی۔
ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا اُن کی اس پریس کانفرنس کا ایک نکاتی ایجنڈہ ہے اور اس کا مقصد صرف ریکارڈ کی درستی ہے۔ ’26 فروری کو انڈیا نے تمام بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف جارحیت کی۔ جس کے جواب میں انڈیا کو منہ کی کھانی پڑی اور پوری دنیا میں ہزیمت اٹھانی پڑی۔ پاکستان کے ردعمل نے دشمن کے عزائم کو ناکام بنا دیا۔ دشمن کے جہاز جو بارود پاکستان کی عوام پر گرانے آئے تھے وہ بدحواسی میں خالی پہاڑوں پر پھینک کر چلے گئے۔ اس کے جواب میں افواج پاکستان نے دشمن کو سبق سکھانے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے میں سول اور ملٹری قیادت یکجا تھی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اعلانیہ اور دن کی روشنی میں دشمن کو جواب دیا۔ ہم نے نہ صرف جواب دیا بلکہ دشمن کے دو جہاز مار گرائے اور ونگ کمانڈر ابھی نندن کو گرفتار کیا گیا۔ ہماری اس کامیابی سے دشمن اتنا خوفزدہ ہوا کہ اپنا ہی ایک ہیلی کاپٹر گرا دیا۔ بابر افتخار کا کہنا تھا کہ ہمیں اس معاملے میں واضح فتح نصیب ہوئی۔ پاکستان کی فتح کو ناصرف پوری دنیا نے تسلیم کیا بلکہ انڈیا کی قیادت نے رفال طیاروں کی عدم دستیابی کو اس کا ذمہ دار قرار دیا۔ حکومت پاکستان نے ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر امن کو ایک اور موقعہ دیتے ہوئے انڈین جنگی قیدی ابھی نندن کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس ذمہ دارانہ فیصلے کو پوری دنیا نے سراہا۔ انہیں منہ کی کھانی پڑی اور یہ بات انہیں اب تک تکلیف میں مبتلا کیے ہوئے ہے۔ اس معاملے کو کسی اور طرح جوڑنا افسوسناک اور گمراہ کن ہے۔ یہ پاکستان کی انڈیا پر واضح فتح کو متنازع بنانے کے مترادف ہے، اور ایسا عمل کسی بھی پاکستانی کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے منفی بیانیے کہ قومی سلامتی پر براہ راست اثرات ہوتے ہیں۔ یہی بیانیہ دشمن قوتیں استعمال کر رہی ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ فوج میں ہر سطح پر سیاسی بیانات پر سخت غم وغصہ پایا جاتا ہے، ادارے کا سربراہ اور تمام رینکس ایک ہی چیز ہے، جب کسی ادارے کے سربراہ کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو اس کا مطلب پوری فوج کو نشانہ بناناہے۔ ترجمان پاک فوج نے محمد زبیر کے بیان پر کہا کہ سچ صرف ایک مرتبہ بولا جاتا ہے، سچ بار بار نہیں بولاجاتا اور جو ہم نے بولا ہے وہ آن ریکارڈ ہے، سابق گورنر محمد زبیر کا دعویٰ غلط ہے، آدھا سچ نہیں بطور ترجمان پاک فوج پورا سچ بتایا ہے۔
یاد رہے کہ قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور سینئر رہنما مسلم لیگ ن سردار ایاز صادق کا کہنا تھا کہ ابھی نندن کی تو بات ہی نہ کریں۔ مجھے یاد ہے شاہ محمود قریشی صاحب بھی اس میٹنگ میں تھے، جس میں وزیر اعظم نے آنے سے انکار کر دیا اور فوج کے سربراہ تشریف لائے۔ پیر کانپ رہے تھے، ماتھے پر پسینہ تھا، اور ہم سے شاہ محمود صاحب نے کہا کہ خدا کا واسطہ ہے، اب اس (ابھی نندن) کو واپس جانے دیں کیوں کہ اگر ایسا نہ ہوا تو رات نو بجے ہندوستان پاکستان پر حملہ کرنے والا ہے۔ ہندوستان نے کوئی حملہ نہیں کرنا تھا، صرف گھٹنے ٹیک کر ابھی نندن کو واپس بھیجنا تھا۔
ایاز صادق کی گزشتہ روز کی گئی اس بظاہر معمول کی تقریر میں سے لیے گئے یہ الفاظ پاکستان اور انڈیا دونوں ہی جانب موضوعِ بحث بنے ہوئے ہیں۔ گزشتہ روز قومی اسمبلی میں کی گئی اس تقریر کا پاکستان کے سوشل میڈیا پر فوری ردِ عمل سامنے نہیں آیا، تاہم جیسے ہی ٹوئٹر پر موجود انڈین تجزیہ نگاروں اور انڈین میڈیا کی جانب سے اس بیان کی ’اہمیت‘ پر روشنی ڈالی گئی تو پاکستان میں بھی صارفین غصے سے لال پیلے ہونے لگے۔ انڈیا سے آنے والے ردعمل کو دیکھتے ہوئے جمعرات کی دوپہر اپنے ایک ویڈیو پیغام میں ایاز صادق نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کے گذشتہ روز کے بیان کے حوالے سے انڈین میڈیا میں جو کچھ نشر کیا جا رہا ہے وہ سیاق و سباق سے ہٹ کر اور اس کے بالکل برعکس ہے جو انہوں نے درحقیقت کہا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ ابھی نندن جب پاکستان آئے تھے تو وہ کوئی مٹھائی بانٹنے نہیں آئے تھے، انہوں نے پاکستان پر حملہ کیا تھا اور ان کا طیارہ گرانا پاکستان کی فتح تھی۔ انہوں نے کہا مگر جب عمران خان نے پارلیمانی رہنماؤں کی میٹنگ بلائی تو شاہ محمود اس میں آئے، ماتھے پر اتنا پسینہ تھا اور وہ کافی پریشان تھے۔ وہ کس کے کہنے پر یہ کر رہے تھے، ان پر کیا دباؤ تھا، وزیر اعظم نے ہم سے شیئر کرنا مناسب نہیں سمجھا کیونکہ وہ میٹنگ میں تشریف نہیں لائے۔ ان کا کہنا تھا شاہ محمود قریشی نے آ کر کہا کہ ہم ابھینندن کو واپس کرنا چاہ رہے ہیں۔ ہم نے نیشنل انٹرسٹ کی خاطر یہ کیا اور یہ فیصلہ سول لیڈرشپ کا تھا۔ ہم اس فیصلے سے متفق نہیں تھے کیوں کہ ابھی نندن کو واپس کرنے کی کوئی جلدی نہیں تھی اور ذرا سا انتظار کر لیتے۔ ان کا کہنا تھا یہ فیصلہ قومی مفاد میں کیا گیا مگر اس میں سول لیڈر شپ کی کمزروی نظر آئی۔ دوسری جانب پارلیمان کے ایوان بالا میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اطلاعات شبلی فراز کا کہنا تھا کہ اپوزیشن رہنماؤں کی جانب سے اس قسم کی باتیں کی جا رہی ہیں جن سے دشمن کے ایجنڈے کو شہ ملتی ہے۔ ایاز صادق کے وائرل بیان کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ 27 فروری 2019 کو پاکستان کی بہادر ایئر فورس نے انڈیا کے جہاز کو گرایا تھا، لیکن آج میں نے خبروں میں پڑھا کہ اسے بھی متنازع بنا دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملکی مفاد کے خلاف ایسی بات کرتے ہوئے آپ کو شرم آنی چاہیے۔
شبلی فراز نے کہا کہ ہم نے دنیا کو اپنی فراغ دلی دکھانے کے لیے ابھینندن کو رہا کیا تھا لیکن انہوں نے ہماری جیت کو بھی شکست قرار دینے کی کوشش کی ہے اور اسے بھی متانازع بنایا ہے۔
یاد رہے کہ 27 فروری 2019 کو پاکستانی علاقے بالاکوٹ کے گاؤں جابہ پر انڈین طیاروں کی بمباری کے ایک دن بعد لائن آف کنٹرول کے قریبی علاقے ہوڑاں میں پاکستان کی فضائیہ نے انڈین جیٹ گرا کر فائٹر پائلٹ وِنگ کمانڈر ابھینندن ورتمان کو گرفتار کر لیا تھا۔ تاہم تحویل میں لیے جانے کے 60 گھنٹے بعد ہی انہیں انڈین حکام کے حوالے کر دیا گیا تھا۔
ایک جانب تو انڈیا میں صارفین اور تجزیہ نگار ان الفاظ کے ذریعے فروری 2019 میں پاکستان کے ساتھ ہونے والی کشیدگی میں اپنی فتح کا اعلان کر رہے تھے، تو دوسری جانب پاکستانی صارفین رکنِ قومی اسمبلی کو ’غدار‘ اور طرح طرح کے القابات سے نوازتے ہوئے اُن کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی کر رہے تھے۔ سوشل میڈیا دیکھ کر بظاہر ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ تقریباً 20 ماہ قبل ہونے والی اس کشیدگی کی پاکستانی اور انڈین عوام کےلیے آج بھی ویسی ہی اہمیت ہے جیسی دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والے کسی کرکٹ میچ کی ہوتی ہے۔ فرق شاید صرف اتنا ہے کہ اس حوالے سے دونوں ہی کا یہ خیال ہے کہ فتح ان کے حصے میں آئی تھی۔
انڈیا میں میڈیا اور اکثر صارفین یہ تبصرہ بھی کرتے دکھائی دیے کہ ایاز صادق کے یہ الفاظ کہ ’پیر کانپ رہے تھے، پسینہ ماتھے پر تھا‘ دراصل پاک فوج کے سربراہ جنرل باجوہ کےلیے استعمال کیے گئے تھے تاہم تقریر غور سے سننے پر علم ہوتا ہے کہ یہ الفاظ وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کےلیے استعمال ہوئے۔
پاکستانی سوشل میڈیا پر ابھی نندن کا ٹرینڈ کرنا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ کبھی ان کی انڈین فضائیہ کی جانب سے سامنے آنے والی کسی خبر پر تبصرے ہوتے رہے ہیں تو کبھی پاکستان میں چائے کی پیالی کو ’بہت اعلیٰ‘ کہنے پر بات ہوئی ہے۔ تاہم یہ تمام تبصرے کبھی طنز اور کبھی مذاق کے طور پر کیے جاتے تھے لیکن آج اکثر صارفین خاصے غصے میں دکھائی دیے۔ ایک صارف نے لکھا کہ ایاز صادق کے بیان نے میرا دل توڑ دیا۔ میں اس وقت رو رہی ہوں، اتنی بے عزتی، اپنے ہی ہاتھوں اپنے ہی عزت تار تار کرنے جیسا ہے۔
مان نامی ایک صارف نے لکھا کہ انڈیا کی ایاز صادق کے بیان پر خوشی انتہائی پریشان کُن ہے۔ شاہ محمود قریشی کو اس کا جواب دینا ہو گا کیونکہ یہ قومی سلامتی کا مسئلہ ہے۔
ایک صارف نے لکھا کہ ن لیگ عمران خان کی نفرت میں اتنا نیچے گر چکی ہے کہ اب اسے ملک کی کوئی فکر نہیں ہے۔ ہمارے خفیہ اداروں کو چاہیے کے وہ اس ملک مخالف نظریے کے خلاف بات کریں۔
اکثر صارفین نے ایاز صادق اور ان کی جماعت کو بھی ’غدار‘ قرار دیا اور ان کے خلاف کارروائی کرنے کی بات کی۔
بابر حیات نامی ایک صارف نے لکھا: ‘بیچارے انڈین صارفین ایاز صادق کے بیان پر خوشیاں منا رہے ہیں لیکن اس بات کو نظر انداز کر رہے ہیں کہ وہ حزبِ اختلاف میں ہیں اور انہوں نے ایسا اپنی بدعنوانی کو چھپانے کےلیے کر رہے ہیں۔’
ملک اچکزئی نامی ایک صارف نے ایاز صادق کا دفاع کیا اور کہا کہ بطور رکنِ پارلیمان انہیں ابھی نندن سے متعلق صورت حال کی وضاحت کرنے کا پورا حق ہے۔
اُدھر انڈیا میں ایاز صادق کے اس بیان کو ’دھماکہ خیز‘ انکشاف کہہ کر دکھایا گیا اور کہا گیا کہ وزیرِ خارجہ کو ابھی نندن کی رہائی کےلیے سیاسی رہنماؤں کے سامنے گڑگڑانا پڑا۔
انڈین میڈیا کی جانب سے اسے ابھی نندن کی رہائی سے متعلق حقائق کے طور پر بھی پیش کیا گیا۔ اکثر صارفین نے راہول گاندھی کو ٹیگ کیا اور ان کی جانب سے نریندر مودی پر اس واقعے سے متعلق کی جانے والی تنقید پر جواب مانگا۔
اکثر انڈین صارفین نے پاکستانی رہنماؤں کےلیے ’ڈرپوک‘ کا لفظ بھی استعمال کیا اور اس کشیدگی میں اپنی فتح کے بارے میں بات بھی کی۔
ایک انڈین صارف نے لکھا کہ ابھی نندن سے متعلق یہ بیان اب پاکستان کی پارلیمان میں دیا گیا ہے اور اب یہ ریکارڈ پر موجود ہے۔ ایک اور صارف نے لکھا کہ میں وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کا مداح تو نہیں ہوں، لیکن میرے نزدیک بھی ابھی نندن کو رہا کرنا ہی صحیح فیصلہ تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button