پی ٹی وی، پارلیمان حملہ کیس میں عمران خان بری ہو گئے

اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی کی ایک عدالت نے وزیر اعظم عمران خان کو سنہ 2014 میں سرکاری ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) اور پارلیمان پر حملے کے مقدمے میں بری کر دیا ہے۔
وزیر اعظم نے تین روز قبل اپنے وکلا کے ذریعے اس کیس میں اپنی بریت کی درخواست جمع کروائی تھی۔ اس کیس کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت کے جج راجہ جواد حسن عباس نے کی۔ اس کیس میں نامزد دیگر ملزمان بشمول وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر دفاع پرویز خٹک اور وزیر تعلیم شفقت محمود، جہانگیر ترین، پنجاب کے سینئر وزیر علیم خان اور وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان ملزمان کو 12 نومبر کو عدالت پیش ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔ پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کو اس مقدمے میں پہلے ہی اشتہاری قرار دیا جا چکا ہے جب کہ صدر عارف کی حد تک اس کس میں داخل دفتر کر دیا گیا ہے کیوں کہ انہیں صدارتی استثنیٰ حاصل ہے اور صدارت سے ہٹنے کے بعد ان کے حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ ستمبر 2014 میں اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے دھرنے کے دوران ان جماعتوں کے کارکنوں نے پاکستان ٹیلی ویژن اور پارلیمنٹ ہاؤس پر دھاوا بول دیا تھا اور سیاسی کارکنوں نے نشریات میں خلل ڈالنے کی کوشش بھی کی تھی۔ اس حملے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک آڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں پاکستان کے موجودہ صدر ڈاکٹر عارف علوی تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو ٹیلی فون پر اس واقعے کے بارے میں آگاہ کر رہے ہیں۔ اس آڈیو کے بارے میں حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے کوئی تردید سامنے نہیں آئی۔ اس واقعہ کا مقدمہ سرکاری مدعیت میں عمران خان سمیت دیگر افراد کے خلاف درج کیا گیا تھا۔
مقدمے کی سماعت کے دوران استغاثہ کے وکیل نے بھی عمران خان کی بریت کی درخواست کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کو آگاہ کیا کہ عمران خان کے خلاف مقدمہ سیاسی بنیادوں پر بنایا گیا تھا۔ استغاثہ کے مطابق عمران خان کے خلاف مقدمہ صرف وقت کا ضیاع ہو گا اور اگر انہیں بری کیا جاتا ہے تو پراسکیوشن کو کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔ عمران خان اس مقدمہ میں اشتہاری رہ چکے ہیں اور بریت کے فیصلے سے قبل ضمانت پر تھے۔ عمران خان کے وکیل کی طرف سے انسداد دہشت گردی کی عدالت میں دائر کی گئی بریت کی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ اس مقدمے کے کسی گواہ نے وزیر اعظم عمران خان کے اس حملے میں ملوث ہونے کے بارے میں کوئی بیان نہیں دیا۔ وزیر اعظم کی بریت کی اس درخواست میں موقف اپنایا گیا تھا کہ اس مقدمے میں عمران خان کو سیاسی عداوت کی بنیاد پر پھنسایا گیا ہے کیوں کہ اس واقعے میں اُن کا کوئی کردار نہیں تھا۔
اس مقدمے میں پاکستان کے موجودہ صدر ڈاکٹر عارف علوی بھی نامزد ملزمان میں شامل ہیں تاہم بطور صدر ان کو استثنیٰ حاصل ہے اور ان کے خلاف ضابطہ فوجداری کے مقدمات کی کوئی کارروائی نہیں ہو سکتی ہے۔
پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری بھی ملزمان میں شامل ہیں تاہم وہ اب تک عدالت میں پیش نہیں ہوئے جس کی وجہ سے انہیں اشتہاری قرار دیا گیا۔ وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے بریت کی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ چونکہ یہ مقدمہ سیاسی طور پر درج کیا گیا تھا اس لیے اس مقدمے میں کسی کو سزا ملنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button