پاکستان نے بھارت میں پلوامہ حملے کا اعتراف کر لیا

وفاقی وزیرفوادچودھری نےپاکستان کونئی مشکل میں ڈال دیا۔وفاقی وزیرفوادچودھری کا کہنا ہے کہ پلواما حملے میں پاکستان نے بھارت کوگھس کرمارا، پلواما حملہ وزیراعظم سمیت پورے ہاؤس کی کامیابی تھی۔بھارتی میڈیانےفواد چودھری کےبیان پرآسمان سرپراٹھالیا۔ بھارتی میڈیا نے واویلا مچایا کہ پاکستان نے حملے کی ذمہ داری قبول کرلی،حالانکہ وزیراعظم عمران خان نے پہلے پلواما حملے کوبھارتی کی اپنی سازش قرار دیا تھا.
وفاقی وزیر فواد چودھری نے اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کل ایاز صادق نے بڑی ڈھٹائی سے جھوٹ بولاکہ شاہ محمود قرشی کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں،اتنا جھوٹ بولتے ہیں ان کو شرم بھی نہیں آتی،،ہم نے تو انڈیا کوگھس کر مارا تھا،انکے جہاز گرائے،،ان کا مزید کہنا تھا کہ پی ڈی ایم نے ابھی تک 3 جلسے کیے اور تینوں میں کہا کہ عدلیہ اور فوج ملک کے خلاف ہیں۔۔۔ذرا آپ اپنی اداؤں پرغور کریں ،،ہم عرض کریں گے تو شکایت ہو گی. وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی نے مزید کہا کہ سابق اسپیکر قومی اسمبلی و رہنما مسلم لیگ (ن) ایاز صادق جیسے لوگوں کو اپنی ذمہ داری کا احساس ہے نہ زبان پر کنٹرول ہے۔ایاز صادق کے بیان پر ردعمل میں فواد چوہدری نے کہا کہ ‘میں ایاز صادق جیسے لوگوں پر حیران ہوں جنہیں نہ بات کرنے کا پتا ہے نہ یہ معلوم ہے کہ چونکہ وہ ایک بڑے عہدے پر رہے ہیں تو بھارت ان کی بات کو پاکستان کے خلاف استعمال کرے گا’۔انہوں نے کہا کہ ‘ایاز صادق جیسے لوگوں کو نہ اپنی ذمہ داری کا احساس ہے اور نہ ہی اپنی زبان پر کنٹرول ہے’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘انہوں نے مجموعی طور پر ایسا ماحول بنا دیا ہے کہ ہر معاملے پر ہم نے پاکستان مخالف موقف اپنانا ہے جس کی وجہ سے اس طرح کی باتیں ہوتی ہیں’۔
فواد چوہدری نے کہا کہ ‘اس بات پر کوئی دو رائے نہیں ہے کہ پاکستان کی افواج اور عوام نے پلوامہ واقعے کے بعد جو کچھ ہوا اس میں بھارت کو ناکوں چنے چبوائے، 1999 میں بھارت نے بھی پاکستان کو اس کا افسر واپس کیا تھا تو کیا ہم یہ کہیں کہ اس وقت وہ تھر تھر کانپ رہے تھے’۔انہوں نے کہا کہ ‘ملک بھڑکوں پر نہیں حکمت عملی کے تحت چلتے ہیں، ابھی نندن کو واپس بھیجنا ہماری حکمت عملی کا حصہ تھا، بین الاقوامی سفارت کاری کی فتح تھی جس کے نتیجے میں پاکستان کی عزت میں اضافہ ہوا، اسے ایک ذمہ دار ملک قرار دیا گیا جبکہ پوری دنیا میں بھارت کا تاثر منفی ملک و قیادت کے طور پر گیا’۔
قبل ازیں پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل بابر افتخار نے پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ بھارتی جنگی قیدی ونگ کمانڈر ابھی نندن سے متعلق گزشتہ روز دیے گئے متنازع بیان میں تاریخ مسخ کی گئی۔انہوں نے کہا کہ ونگ کمانڈ ابھی نندن کو گرفتار کیا گیا اور دشمن ساری کارروائی کے دوران اتنا خوفزدہ ہوا کہ بدحواسی اور عجلت میں اپنے ہی ہیلی کاپٹر اور جوانوں کو مار گرایا اور اللہ کی نصرت سے ہمیں دشمن کے خلاف واضح برتری حاصل ہوئی۔میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ جنگی قیدی ابھی نندن کی رہائی اور ایک ذمہ دار ریاست کے میچور ردعمل کے علاوہ کسی اور چیز سے جوڑنا انتہائی افسوسناک اور گمراہ کن ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ دراصل پاکستانی قوم کی بھارت پر واضح برتری اور فتح کو متنازع بنانے کے مترادف ہے اور یہ چیز کسی بھی پاکستانی کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایسے منفی بیانیے کی براہ راست قومی سلامتی پر اثرات پڑتے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ان چیزوں کا دشمن ‘انفارمیشن ڈومین’ میں بھرپور فائدہ اٹھا رہا ہے اور اس کی جھلک، آج بھارتی میڈیا پر دیکھ سکتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ ہی بیانیہ بھارت کی شکست اور ہزیمت کو کم کرنے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔
دوسری جانب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بیان میں کہا کہ ٹھوس مؤقف کے ساتھ گفتگو اور چیز ہے جبکہ خوشامدانہ پالیسی اور چیز، میں نے کل بھی واضح کیا تھا کہ ایاز صادق کی گفتگو غیر ذمہ دارانہ تھی۔انہوں نے کہا کہ اس غیر ذمہ دارانہ گفتگو کے بعد بھارتی ایئر چیف جسے ناقص کارکردگی کی وجہ سے ہٹایا گیا اس نے بھی چوڑے ہو کر بیانات دیے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے اگر اندر سے ہی ایسی بولیاں بولی جائیں گی تو اس سے سوشل میڈیا پر پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے والوں کے بیانیے کو تقویت ملے گی جو انتہائی افسوس ناک ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما کے وضاحتی بیان سے تو یہی تاثر ملتا ہے کہ ایاز صادق نہ چاہتے ہوئے کسی اور کے ہاتھوں میں کھیل گئے، انہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز مسلم لیگ (ن) کے رہنما ایاز صادق نے قومی اسمبلی میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ حکومت نے گھٹنے ٹیک کر بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو واپس بھارت بھیجا۔انہوں نے کہا تھا کہ اجلاس میں وزیر اعظم نے آنے سے انکار کردیا تھا مگر آرمی چیف اس میں شریک تھے، پسینے میں شرابور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا تھا کہ خدا کے واسطے ابھی نندن کو واپس جانے دیں جبکہ بھارت آج رات 9 بجے حملہ کر رہا ہے۔سابق اسپیکر قومی اسمبلی کے بیان پر بھارتی میڈیا نے خوب واویلا مچایا اور بھارتی پائلٹ کی رہائی کو اپنی فتح سے تعبیر کیے جارہا تھا۔
دوسری جانب پاکستان میں سوشل میڈیا صارفین نے ایاز صادق کے اس بیان پر شدید ردِ عمل دیا اور ان کے خلاف ہیش ٹیگز ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ رہے۔سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما ایاز صادق نے قومی اسمبلی میں اپنے دیے گئے متنازع بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ میرا اشارہ سول لیڈر شپ کی کمزوری کی جانب تھا، بھارتی میڈیا بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کررہا ہے۔پارٹی ترجمان کی جانب سے جاری وضاحتی ویڈیو میں ایاز صادق نے بھارتی پائلٹ کی رہائی سے متعلق بیان کے حوالے سے کہا تھا کہ ابھی نندن کو چھوڑنے کے حوالے سے وزیر اعظم نے پارلیمانی رہنماؤں کا اجلاس بلایا تھا۔انہوں نے کہا تھا کہ پارلیمانی لیڈروں کو بلاکر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بریفنگ دی، عمران خان کے پاس اتنی ہمت نہیں تھی،ان کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں اور ماتھے پر پسینہ تھا۔
ایاز صادق کے بیان پر ردِ عمل دیتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمودقریشی نے سابق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کے پارلیمنٹ میں بیان کو حقیقت کے برعکس قرار دیا تھا۔ایاز صادق کی جانب سے قومی اسمبلی میں دیے گئے بیان پر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سابق اسپیکر سے ایسی بات کی توقع نہیں کرتا، ایاز صادق نے جو مؤقف بیان کیا وہ حقیقت کے برعکس ہے۔انہوں نے کہا تھا کہ انٹیلی جنس معلومات پر پارلیمان کواعتماد میں لیا تھا، انٹیلی جنس معلومات میں بھارتی پائلٹ ابھی نندن کا ذکر نہیں تھا، سیاسی مقاصد کے لیے ایسی غیر ذمہ دارانہ گفتگو کی جارہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ذمہ دار لوگ غیر ذمہ دارانہ گفتگو کر رہے ہیں جس پر حیرانی ہے۔
