اسلام آباد کلب کے 3 سو ایکڑ کا کرایہ صرف 1000 روپے ماہانہ کیوں؟


وفاقی دارالحکومت میں 352 ایکڑ کے وسیع و عریض رقبے پر پھیلے ہوئے ایلیٹ کے لیے قائم اسلام آباد کلب کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ یہاں کے کرتا دھرتا قومی خزانے میں ہر ماہ صرف 1056 روپے جمع کروا کر ماہانہ کروڑوں کما رہے ہیں اور انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں۔
یاد رہے کہ اسلام آباد کے قلب میں 352؍ ایکڑ پر مشتمل زمین کا ایک بہت بڑا حصہ ہے جسے 53؍ سال قبل لیز دی گئی تھی۔ اس زمین پر اسلام آباد کلب قائم ہے جہاں عام شہریوں کا داخلہ ممنوع ہے۔ ایلیٹ کی سماجی سرگرمیوں کے علاوہ یہ کلب تجارتی سرگرمیوں کا بھی مرکز ہے۔ اتنا بڑا کلب قومی خزانے کو ماہانہ صرف تین روپے فی ایکڑ کے حساب سے کل 1056 روپے جمع کرواتا ہے۔ سرکاری وسائل کا یہ مفت استعمال تو اپنی جگہ لیکن جب ایک شہری نے معلومات تک رسائی کے قانون یعنی رائٹ آف ایکسس ٹو انفارمیشن ایکٹ کے تحت درخواست دائر کرکے یہ جاننے کی کوشش کی کہ کلب کے گزشتہ پانچ سال کے دوران مالی آڈٹ کی صورتحال، کلب کی پراپرٹیز اور ان سے حاصل ہونے والی آمدنی، رجسٹرڈ ارکان کی تعداد اور کھیلے جانے والے کھیلوں کے نام کیا ہیں تو اس شاندار کلب کا کہنا تھا کہ وہ عوام کو جوابدہ نہیں ہے۔جب آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے بتایا کہ یہ کلب قوائد کی خلاف ورزی میں ملوث ہے تو ایک درخواست گزار ندیم عمر نے معلومات کے حصول کے لیے درخواست دائر کی۔ صورتحال یہ ہے کہ کلب انتظامیہ نے آڈٹ ٹیم کو بھی معلومات فراہم نہیں کیں۔
متعدد تحریری اور زبانی درخواستوں کے باوجود، اسلام آباد کلب کی انتظامیہ نے مطلوبہ ریکارڈ نہیں دیا۔معلومات اور دستاویزات کی عدم فراہمی کی وجہ سے رکنیت دینے کی شرائط کا آزاد جائزہ نہیں لیا جا سکتا۔ یہ کلب ایس ای سی پی کے قواعد پر عمل کرتا ہے اور نہ ہی یہ کلب اپنے ارکان کو جوابدہ ہے۔ ریگولر سرکاری اداروں میں جن نگران اور احتساب کے اداروں یعنی پبلک اکائونٹس کمیٹی یا پرنسپل اکائونٹنگ افسر کا اطلاق ہوتا ہے وہ بھی یہاں موجود نہیں اور نہ ہی ان پر عمل ہوتا ہے۔
تاہم، کلب کی آڈٹ رپورٹ میں کرایہ داری کے حوالے سے کوئی معلومات موجود نہیں۔ یہ بات اس وقت سامنے آئی جب ایک شہری نے کلب کی جانب سے معلومات فراہم نہ کرنے پر پاکستان انفارمیشن کمیشن کلب کیخلاف رجوع کیا۔جب پی آئی سی نے کلب انتظامیہ کو معلومات فراہم کرنے سے انکار کی وجہ جاننے کے لیے طلب کیا تو کلب کے منتظم اور سیکرٹری کابینہ سردار احمد نواز سکھیرا کی جانب سے جمع کروائے گے جواب میں اعتراف کیا گیا کہ کلب کے منتظم اور انتظامی کمیٹی کو وفاقی حکومت مقرر کرتی ہے لیکن ساتھ یہ بھی بتایا گیا کہ کلب کے فنڈز ممبرشپ سے پیدا کیے جاتے ہیں لہذا اس میں عوام کا پیسہ خرچ نہیں ہوتا۔مزید برآں، جواب میں کہا گیا کہ درخواست گزار کلب کا رکن نہیں لہٰذا اس کے پاس اس بارے معلومات حاصل کرنے کا اختیار بھی نہیں۔
جب پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے کلب کو حکومت سے ملنے والے فنڈز کے متعلق سوال کیا تو بتایا گیا کہ سی ڈی اے نے کلب کو زمین کی لیز دی تھی اور لیز کی رقم سالانہ بنیادوں پر وصول کی جاتی ہے۔ اس حوالے سے مزید بتایا گیا کہ اسلام آباد کلب کی سالانہ لیز کی رقم 14؍ ہزار 700؍ روپے جبکہ پولو گرائونڈ کی لیز کی رقم سالانہ 12؍ ہزار 300؍ روپے ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو کلب اور پولو گرائونڈ دو علیحدہ زمینیں ہیں۔ معلومات اور دستاویزات کی عدم فراہمی کی وجہ سے رکنیت دینے کی شرائط کا جائزہ نہیں لیا جا سکتا۔ لیکن سب جانتے ہیں کہ اسلام آباد کلب نہ تو ایس ای سی پی کے قوائد پر عمل کرتا ہے اور نہ ہی یہ کلب اپنے ارکان کو جوابدہ ہے۔ ریگولر سرکاری اداروں میں جن نگران اور احتساب کے اداروں کا اطلاق ہوتا ہے نہ وہ یہاں موجود ہیں اور نہ ہی ان پر عمل ہوتا ہے۔
اسلام آباد کلب کی ویب سائٹ کے مطابق اس کی زمین 352؍ ایکڑ پر مشتمل ہے جس کا مطلب ہوا کہ کلب والے زمین کا ماہانہ 3؍ روپے فی ایکٹر کرایہ دیتے ہیں۔ پولو گرائونڈ کتنی زمین پر محیط ہے یہ بھی نہیں بتایا گیا۔ 1967ء میں سی ڈی اے نے کلب انتظامیہ کو 244؍ ایکڑ زمین لیز پر دی تھی اور اس وقت رعایتی نرخوں یعنی ایک روپیہ فی ایکڑ پر یہ لیز 10؍ سال کے لیے دی گئی تھی۔ معاہدے کے تحت دس سال بعد کرایے پر نظرثانی ہونا تھی لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اس کی بجائے مزید 108؍ ایکڑ دے کر کلب کو وسیع عریض بنا کر اسے 352؍ ایکڑ تک پھیلا دیا گیا۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے آئین کے آرٹیکل 19؍ اے کے تحت فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ چونکہ زمین سرکار نے لیز پر دی ہے لہٰذا اسلام آباد کلب سرکاری ادارہ ہے۔ کمیشن نے یہ دلیل بھی مسترد کر دی کہ درخواست گزار کو جاننے کا اختیار نہیں کیونکہ وہ رکن نہیں۔ کمیشن کا کہنا تھا کہ اس دلیل میں اس لیے وزن نہیں کیونکہ معلومات کے حصول کے قانون کے سیکشن 2 (دوم) کے تحت درخواست گزار کی تشریح پر یہ پورا نہیں اترتی۔ لہٰذا، کلب کو ہدایت کی گئی کہ وہ سات دن میں معلومات فراہم کرے۔ یہ فیصلہ 18؍ اگست کو سنایا گیا تھا تاہم اب تک انتظامیہ نے کوئی معلومات فراہم نہیں کی حالانکہ دو شو کاز نوٹس بھی جاری کیے جا چکے ہیں۔ پی آئی سی کے پاس عدالتی اختیارات ہیں کہ وہ اپنے فیصلوں پر عملدرآمد کے لیے اقدام کر سکتا ہے اور ممکنہ طور پر یہی اگلا اقدام ہو سکتا ہے۔ پی آئی سی کی آڈٹ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ کلب تجارتی سرگرمیوں میں مصروف ہے جو غلط ہے کیونکہ کمرشل مقاصد کے لیے دی جانے والی زمین لیز پر کھلی نیلامی میں دی جاتی ہے اور اس کے مطابق ہی فیس لی جاتی ہے۔ ممبرشپ دینے کے معاملے میں بھی کوئی شفافیت نہیں ہے۔ وفاقی حکومت کے افسران اور سفارت کاروں کے لیے قائم کیا جانے والا کلب اب سات کیٹگریز میں رکنیت دیتا ہے جو آڈٹ رپورٹ کے مطابق بلاجواز ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button