اتحادی حکومت نے اگر اب الیکشن کروایا تو ماری جائے گی

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار جاوید چودھری نے کہا ہے کہ اگر نواز شریف نے اب اتحادی حکومت کو قومی اسمبلی توڑ کر نئے الیکشن کروانے پر مجبور کیا تو یہ پچھلی غلطیوں سے بھی بڑی غلطی ہو گی کیونکہ پارٹی نانی کا نکاح کر چکی ہے لہٰذا اب اسے نبھانے کی کوشش کرے۔ انکا کہنا تھا کہ حکومت اب تگڑی ہو کر کھڑی ہو اور بولڈ سیاسی و معاشی فیصلے کرے۔ شاید یہ ایسا کرنے سے بچ جائے لیکن اگر حکومت پیچھے ہٹی اور الیکشن میں چلی گئی تو بری طرح ماری جائے۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ جہاں تک فوجی اسٹیبلشمنٹ کا تعلق ہے تو وہ ایک طویل عرصے بعد پہلی مرتبہ مکمل طور پر نیوٹرل ہو چکی ہے۔ اب وہ دونوں فریقین کو ’’لیول پلئینگ فیلڈ‘‘ دے رہی ہے۔ اس نے خود کو سیاسی جوڑ توڑ سے مکمل طور پر الگ کر لیا ہے لہذا حکومت کو اس نیوٹریلٹی کا فائدہ اٹھانا چاہیے۔ اسے فوج کو دوبارہ سیاست میں نہیں گھسیٹنا چاہیے۔ اسے سیاسی تنازعات سے دور رکھنا ملک، فوج اور حکومت تینوں کے لیے مفید ہو گا ورنہ آگے مکمل تباہی ہے۔
جاوید چوہدری کا کہنا تھا کہ گزرا وقت واپس نہیں آتا اس لیے اب اگر اتحادی جماعتیں حکومت لینے کی غلطی کر چکی ہیں تو الیکشن میں جانے کی غلطی نہ کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد آنے کے بعد جنرل باجوہ نے تب کی اپوزیشن جماعتوں کو یہ تحریک واپس لے کر عمران سے استعفی دلوانے کی آفر کی تھی لیکن اسے مسترد کردیا گیا۔
بقول جاوید چودھری، یہ 31 مارچ 2022ء کی بات ہے‘ پرویز خٹک نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے رابطہ کیا اور ان سے گلہ کیا ’’جنرل صاحب آپ نے ہمیں بالکل تنہا چھوڑ دیا‘‘ آرمی چیف پرویز خٹک کا بہت احترام کرتے ہیں‘ وہ وزیر اعظم عمران خان کو ہمیشہ مشورہ دیتے تھے کہ آپ کے پاس صرف ایک ہی سیاست دان ہے اور وہ ہے پرویز خٹک‘ آپ ان کی وجہ سے کے پی کے سے دوسری بار جیتے ہیں‘ آپ ان سے کام کیوں نہیں لیتے؟‘‘ لیکن عمران کا جواب ہوتا تھا ’’یہ میری بات نہیں مانتا‘‘۔ اسکے جواب میں آرمی چیف نے خان کو بتایا کہ ’’چیف کی حیثیت سے میرے پاس حتمی اختیارات ہیں۔ میں کسی بھی وقت کسی بھی تھری سٹار جنرل کو کھڑے کھڑے فارغ کر سکتا ہوں اور میرے فیصلے کے خلاف اپیل تک نہیں ہو سکتی لیکن میں اس کے باوجود اس وقت تک کوئی فیصلہ نہیں کرتا جب تک میرے تمام ساتھی متفق نہ ہو جائیں۔ مخالف رائے کو برداشت کرنا لیڈر کی بڑی کوالٹی ہوتی ہے۔ آپ بھی ساتھیوں کی رائے برداشت کیا کریں‘‘۔ مگر اس مشورے کے باوجود عمران نے پرویز خٹک سے اپنا فاصلہ کم نہیں کیا تاہم یہ عدم اعتماد سے قبل پرویز کی صلاحیتوں کو ماننے پر مجبور ہو گئے لیکن تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔
جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ اب میں واپس 31 مارچ کی طرف آتا ہوں جب پرویز خٹک نے آرمی چیف سے گلہ کیا کہ آپ نے ہمیں تنہا چھوڑ دیا ہے۔ جنرل باجوہ نے جواب دیا کہ ’’آپ حکم کریں‘ ہم آپ کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟‘‘ خٹک نے آرمی چیف کو وزیر اعظم ہاؤس آنے کی دعوت دے دی۔ آرمی چیف ڈی جی آئی ایس آئی کے ساتھ وزیر اعظم ہاؤس پہنچے‘ ان کی وہاں پرویز خٹک‘ شاہ محمود قریشی اور اسد عمر سے ملاقات ہوئی اور ان تینوں نے وزیراعظم کے مشورے سے فوج کو ذمے دار ی سونپی آپ پی ڈی ایم سے بات کریں‘ یہ اگر عدم اعتماد واپس لے لیں تو ہم اسمبلیاں توڑ کر نئے الیکشن کی طرف چلے جاتے ہیں۔
بقول جاوید چوہدری، آرمی چیف نے پی ڈی ایم کی قیادت سے رابطہ کیا اور اسلام آباد کے بی میس میں ملاقات طے ہو گئی‘ آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی دونوں اس میٹنگ میں موجود تھے۔ آرمی چیف نے پی ڈی ایم کو مشورہ دیا‘ آپ نے عمران خان کو گرا لیا ہے‘ آپ اب اس کے سینے پر چڑھ کر بھنگڑا نہ ڈالیں‘ حکومت آپ کو راستہ دے رہی ہے‘ آپ یہ آفر قبول کر لیں‘ آپ کی عزت میں اضافہ ہو گا‘ شہباز شریف‘ بلاول بھٹو اور مولانا فضل الرحمن خاموش رہے لیکن خالد مقبول صدیقی‘ خالد مگسی اور شاہ زین بگٹی نے انکار کر دیا‘ ایم کیو ایم کا کہنا تھا کہ کراچی میں ہماری 14 سیٹیں پی ٹی آئی کے پاس ہیں‘ ہمیں اپنی سیاسی پوزیشن بحال کرنے کے لیے وقت چاہیے۔ خالد مگسی کا جواب تھا‘ میں بلوچستان کا بڑا زمین دار ہوں‘ ہزاروں ایکڑ کا مالک ہوں‘ مجھے اقتدار یا پیسہ نہیں چاہیے‘ عزت چاہیے اور عمران نے مجھے وہ نہیں دی‘ میں اس شخص کو عزت کے ساتھ نکلنے نہیں دوں گا جب کہ شاہ زین بگٹی کا کہنا تھا‘ میں عمران کا معاون تھا لیکن یہ میرا نام تک نہیں جانتا‘ یہ مجھے شیزان بگٹی کہتا تھا۔
مولانا فضل الرحمن کی رائے ففٹی‘ ففٹی تھی جب کہ ن لیگ نئے الیکشن کی طرف جانا چاہتی تھی‘ پی ڈی ایم کا فیصلہ تھا، فیصلہ جو بھی ہوگا متفقہ ہو گا اور تمام اتحادی عدم اعتماد واپس لینے پر متفق نہ ہو سکے‘ یہ میٹنگ ساڑھے پانچ گھنٹے جاری رہی اور آخر میں بے نتیجہ رہی‘ اسٹیبلشمنٹ نے اس دن اپوزیشن کو فیس سیونگ دینے کی کوشش کی لیکن یہ کوشش فیل ہو گئی‘ اپوزیشن نے وہ گولڈن چانس مس کر دیا اور آج اپنے اس فیصلے پر بری طرح پچھتا رہے ہیں۔
جاوید چوہدری کا کہنا ہے کہ پی ڈی ایم کے پاس 31 مارچ کی رات گولڈن چانس تھا اور وہ دلدل میں گرنے سے بچ سکتی تھی لیکن یہ لوگ اقتدار کے لالچ اور خوش فہمیوں کے سیلاب میں بہہ گئے‘ ان کا خیال تھا یہ ملک کی ڈوبتی ہوئی کشتی کو بحری جہاز بنا دیں گے مگر آنے والے وقت نے ان کے تمام اندازے اور خوش فہمیاں کھول کر رکھ دیں‘ یہ ہر دن کمزور اور عمران مضبوط ہوتے چلے گئے یہاں تک کہ حکومت آج صرف وفاق تک محدود ہو چکی ہے‘ یہ لوگ پنجاب جیسے پانی پت سے بھی محروم ہو چکے ہیں۔ جاوید کہتے ہیں کہ اس دوران نواز شریف نے پی ڈی ایم کو دلدل سے نکالنے کی کوشش کی‘ لندن میں 11 مئی کو پارٹی میٹنگ ہوئی اور فیصلہ ہو گیا کہ شہباز شریف 19 مئی کو وزارت عظمیٰ سے مستعفی ہو جائیں گے، مگر وہ اسمبلی نہیں توڑیں گے اور اتحادی اگر کسی اور کو وزیراعظم منتخب کرنا چاہیں تو انہیں موقع دیا جائے گا۔ وزیراعظم کی الوداعی تقریر بھی تحریر ہو گئی لیکن عمران نے عین وقت پر 25 مئی کے لانگ مارچ کی کال دے کر بازی پلٹ دی اور نواز شریف نے حکومت جاری رکھنے کا فیصلہ کر لیا، لیکن اس کے باوجود حکومت تگڑی نہ ہو سکی۔ ایسے میں نواز شریف اب ایک بار پھر حکومت چھوڑنے اور نئے الیکشن کی طرف جانے کا سوچ رہے ہیں لیکن میرا خیال ہے یہ اب پچھلی غلطیوں سے بھی بڑی غلطی ہو گی‘ اب اگر حکومت پیچھے ہٹی تو یہ بری طرح ماری جائے گی۔
