احسان اللہ احسان کا فرار،بلاول بھٹو نے حکومت سے وضاحت مانگ لی

وفاقی حکومت کی طرف سے پہلی مرتبہ کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کے فرار کی تصدیق کے بعد چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے حکومت سے تحریری جواب مانگ لیا ہے. بلاول بھٹو نے قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں اپنے تحریری سوالات جمع کرادئیے ہیں۔۔بلاول بھٹو نے وزیر داخلہ کو مخاطب کرکے احسان اللہ احسان سے متعلق جواب مانگے ہیں.
پیپلزپارٹی کے چیئرمین نے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کروائے گئے تحریری سوالات میں وزارت داخلہ سے وضاحت مانگی ہے. بلاول بھٹو نے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں تحریری سوال جمع کروایا ہے جس میں بلاول بھٹو نے وزیر داخلہ سے احسان اللہ احسان سے متعلق جواب مانگا ہے. ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو نے 12 فروری کو اپنے سوالات قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرائے تھے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے بلاول بھٹو کے تحریری سوالات کے وصول ہونے کی تصدیق بھی کی ہے.
ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو نے سوال کیا ہے کہ بتایا جائے کہ کیا کالعدم تحریک طالبان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان زیرحراست ہیں؟ بلاول بھٹو نے تحریرطور پریہ بھی پوچھا ہے کہ اگر احسان اللہ احسان زیرحراست نہیں تو کیا اس کے فرار کی خبریں درست ہیں؟ احسان اللہ احسان کا موجودہ اسٹیٹس کیا ہے؟
خیال رہے کہ وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے اس سے قبل احسان اللہ احسان کے فرار کی پہلی بار سرکاری سطح پر باقاعدہ تصدیق کر دی ہے.
پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کے دوران ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ نے کہا کہ احسان اللہ احسان کے بارے میں ‘جو خبر آرہی میں نے بھی پڑھی ہے اور وہ صحیح ہے’۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ ‘جی پتہ چلا ہے تو کہہ رہے ہیں صحیح ہے، اس پر بہت کا کام ہو رہا ہے آپ کو جلد خوش خبری ملے گی.
یاد رہے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان نے اپنے ایک آڈیو بیان میں دعوی کیا تھا کہ وہ سرکاری تحویل سے فرار ہو کر ترکی پہنچ چکے ہیں.
