وفاقی حکومت کی بالآخر احسان اللہ احسان کے فرار کی تصدیق

وفاقی حکومت نے بالآخر پہلی بار باقاعدہ طور پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان ٹی ٹی پی کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کے سرکاری تحویل سے فرار ہونے کی تصدیق کردی ہے۔
7 فروری کو کالعدم ٹی ٹی پی کے سابق ترجمان نے آڈیو پیغام میں دعویٰ کیا تھا کہ وہ سرکاری تحویل سے فرار ہوگیا ہے۔
اس کے بعد ذرائع نے دعویٰ کیا تھا کہ احسان اللہ احسان ایک حساس آپریشن کے دوران فرار ہوا جسے اپنے جرائم کی سزا ملنا تھی۔
اب پہلی بار وفاقی حکومت نے احسان اللہ احسان کے فرار کی تصدیق کی ہے۔ پارلیمنٹ میں صحافیوں کے احسان اللہ احسان کے فرار کی خبروں کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیر داخلہ بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ کا کہنا تھا کہ ’وہ جو خبر آرہی ہے، میں نے بھی پڑھی ہے اور وہ صحیح ہے‘۔ ایک اور سوال پر ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ریاست کو پتا چلا ہے تو خبر کو صحیح کہہ رہے ہیں، اس حوالے سے بہت کچھ ہورہا ہے اور جلد خوشخبری سننے کو ملے گی‘۔
خیال رہے کہ 10 فروری کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے کالعدم ٹی ٹی پی کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کے فرار کی تفصیلات وزراتِ داخلہ سے طلب کیں تھیں۔ یاد رہے کہ احسان اللہ احسان نے2017 میں رضاکارانہ طور پر خود کو انٹیلی جنس اداروں کے حوالے کیا تھا۔ ذرائع کے مطابق احسان اللہ احسان نے سرنڈر کرنے سے قبل ہی حساس معلومات فراہم کرنا شروع کردی تھیں جبکہ احسان اللہ احسان کے معاہدے کے تحت گرفتاری پیش کرنے کا بھی انکشاف ہوا ہے اور حکومت اور احسان اللہ احسان کے مابین طے پانے والا معاہدہ بھی سامنے آ چکاہے. ذرائع کے مطابق کہ تفتیش کے دوران احسان اللہ احسان نے انتہائی حساس اور اہم معلومات فراہم کیں، اس کی معلومات پر سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے نیٹ ورک توڑے اور بہت سے دہشت گردوں کوپکڑا بھی گیا۔
