احسن اقبال نے نیب آرڈیننس سے فائدہ اٹھانے سے انکار کردیا

نارووال اسپورٹس سٹی کمپلیکس کیس میں گرفتار ن لیگی رہنما احسن اقبال نے نیب ترمیمی آرڈیننس کے تحت سہولت سے فائدہ اٹھانے سے انکار کردیا۔
اسلام آباد کی احتساب عدالت میں مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما احسن اقبال کے خلاف نارووال اسپورٹس سٹی کمپلیکس کی تعمیر سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی جس پر نیب حکام نے جوڈیشل ریمانڈ مکمل ہونے پر انہیں عدالت میں پیش کیا۔ سماعت کے آغاز پر نیب پراسکیوٹر نے احسن اقبال کے مزید 14 روز کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی جس پر عدالت کے جج محمد بشیر نے استفسار کیا کہ پہلے یہ بتائیں کہ آپ کو مزید ریمانڈ کیوں چاہیے؟
نیب پراسکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ ہمارے پاس احسن اقبال کے خلاف بے شمار شواہد موجود ہیں، نارووال اسپورٹس سٹی کی لاگت میں 180 فیصد کا اضافہ ہوا، ایک ضلعی سطح کے گراؤنڈ پر عالمی معیار کے اسٹیڈیم جتنا خرچ کردیا گیا، منصوبے کی منظوری میں قانون کی خلاف ورزی کی گئی، احسن اقبال نے پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کا چارج سنبھالنے کے بعد اختیار کا غلط استعمال کیا۔
احسن اقبال کے وکیل بیرسٹر ظفراللہ نے مزید جسمانی ریمانڈ کی مخالفت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نیب ایک سال سے صرف ریکارڈ کیلئے ہی خط لکھ رہا ہے، گزشتہ سماعت پر ریمانڈ کی جو وجوہات بتائی گئیں اور وہی آج بھی ہیں، اب تو نیب نے کِک بیکس اور اثاثوں کی چھان بین کی بات بھی شروع کردی ہے، لگتا ہے کہ نیب اب ترمیمی آرڈیننس کی روشنی میں بھی احسن اقبال کو اس کیس سے جوڑنا چاہتا ہے، یہ صرف اور صرف سیاسی انتقام ہے اور کچھ بھی نہیں۔
اس موقع پر عدالت نے نیب پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ احسن اقبال کیس پر نیب ترمیمی آرڈیننس کا اطلاق ہوگا یا نہیں؟ جس پر پراسیکیوٹر نے بتایا کہ اطلاق نہیں ہوگا۔
دورانِ سماعت احسن اقبال نے عدالت میں بیان دیا کہ میں نیب ترمیمی آرڈیننس کا فائدہ نہیں لینا چاہتا، جن لوگوں کو نوازنے کیلئے نیب ترمیمی آرڈیننس لایا گیا انہیں ہی فائدہ دیں۔
بعد ازاں عدالت نے نیب پراسیکیوٹر کی استدعا منظور کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنما کا 7 روز جسمانی ریمانڈ دے دیا۔
واضح رہےکہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال کو 23 دسمبر کو نیب نے گرفتار کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button