اداکارہ حمائمہ ملک اتنی ”آرٹیفیشل“ کیوں ہیں؟

دی لیجنڈ آف مولا جٹ فیم حمائمہ ملک کی زندگی جتنی تنازعات بھرپور ہے کیمرے کے سامنے وہ اتنا ہی ”آرٹیفیشل“ پوز کرتی ہیں۔۔ بلاوجہ کی اوور ایکٹنگ اور بات بات پر قہقہے، شاید حمائمہ کا اصلی چہرہ دکھا نہیں پاتے۔ 36 سالہ حمائمہ ملک اداکار فیروز خان کی بہن ہیں، جنھوں نے بڑی بہن کی دیکھا دیکھی شو بز میں انٹری دی اور چھا گئے۔۔ اور یہ وہی فیروز ہیں جن کا چرچا آج کل ان کی خوبصورت اور بے ساختہ ایکٹنگ کی وجہ سے کم اور اپنی بیوی علیزے شاہ پر تشدد سکینڈل کی وجہ سے زیادہ ہو رہا ہے۔
حال ہی میں سوشل میڈیا پر حمائمہ کا ایک انٹرویو وائرل ہوا جس میں وہ ضرورت سے زیادہ ہنستی اور فنی حرکتیں کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ وہ یہ بات تسلیم بھی کرتی ہیں کہ اگر وہ بے تحاشہ ہنستی ہیں تو کسی کو کیا پتا کہ وہ اپنے کتنے غم چھپا رہی ہوتی ہیں۔۔شاید اسی لئے ایک سوال کا جواب انھوں نے کچھ عجیب طرح دیا کہ فلم مولا جٹ میں فلم میکرز کا کمال اور میرا جمال تھا اور ساتھ ہی ہنسنا شروع کر دیا کہ جمال کوئی ورڈ نہیں ہوتا صرف جمال بھائی ہوتے ہیں۔ جب یہ سوال پوچھا گیا کہ آپ کیسی ہیں تو بولیں، بہت پیاری۔۔حمائمہ نے بتایا کہ انھیں کراچی بہت پسند ہے، جب انھیں وہاں سیکوریٹی ایشوز کے بارے میں بتایا گیا تو کہنے لگیں، وہ گھر سے باہر ہی نہیں نکلتیں۔ ان کا بھائی بھی چیک رکھتا ہے اور جب سب کچھ گھر کے اندر مل جاتا ہے تو باہر نکلنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ حمائمہ چار بہنیں اور دو بھائی ہیں، یہ نہ بھی ہوں تو وہ خود کو بہت بڑی ”شغلی“ قرار دیتی ہیں۔
فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ دیکھنے والوں کو یاد ہو گا کہ اس میں حمائمہ پر ایک خوفناک سین پکچرائز ہوا تھا جس میں انھیں اپنے کزن اور منگیتر کا سر کاٹنا ہوتا ہے۔ اس سین کے لئے حمائمہ نے باقاعدہ ہارس رایئڈنگ اور تلوار چلانا سیکھی۔۔انھوں نے ہنستے ہوئے بتایا کہ سین کی دلچسپ بات یہ تھی کہ جس گھوڑی پر انھیں ٹریننگ دی گئی وہ عین شوٹ کے روز دغا دے گئی۔ خیر حمائمہ نے اس سین میں جان ڈال دی تھی، اسی لئے تو لوگ بھی جب اس فلم میں ماہرہ خان اور حمائمہ کی ایکٹنگ کا مقابلہ کرتے ہیں تو حمائمہ کے ووٹ کچھ زیادہ ہی ہوتے ہیں۔ انھیں اپنی ایکٹنگ سے بے انتہا پیار ہے وہ اکثر کہتی ہیں کہ جس طرح انھیں کام کے لئے سیٹ پر لانا مشکل ہوتا ہے اسی طرح گھر بھیجنا بھی مشکل ہوتا ہے کیونکہ جب وہ کام میں جُت جاتی ہیں تو پھر اپنی بھی نہیں سنتیں۔ ایکٹنگ ان کے نزدیک احساس کا دوسرا نام ہے، وہ کردار کو جیسا محسوس کرتی ہیں اسے ویسا ہی نبھاتی ہیں۔
حمائمہ نے 14 سال کی عمر میں کام شروع کر دیا تھا، ماڈلنگ سے ایکٹنگ تک ہر میڈیم میں کام کیا۔ وہ بڑے فخر سے بتاتی ہیں کہ انھوں نے زندگی کے سارے سبق کتابوں سے نہیں، لوگوں سے سیکھے ہیں۔۔انھیں وہ وقت بھی یاد ہے جب کسی ڈرامے کی شوٹننگ کے دوران سیٹ پر ملنے والی بریانی بہن بھائیوں کے لئے بچا کر لے جاتی تھیں، تین ہزار روپے کرائے والے مکان میں رہتی تھیں، یہ اور بات ہے کہ اب انھیں گھر کی گروسری کے لئے تین لاکھ بھی کم لگتا ہے۔۔جمائمہ نے زندگی کے بڑے اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں،
کبھی کبھی تو وہ اس زہر سے بھری دنیا سے کافی نالاں لگتی ہیں جہاں جب جس کا دل چاہے، دوسرے پر فتویٰ لگا دیتا ہے اور دلچسپ بات تو یہ ہے کہ لوگ یقین بھی کر لیتے ہیں۔۔اسی لئے یو ٹیوب اور سوشل میڈیا کی وہ خوب کلاس لیتی ہیں اور کیوں نہ لیں؟ یہ سوشل میڈیا ہی تو ہے جس نے ان کے بھائی فیروز خان کی سب کارگزاریاں کھول کر رکھ دی ہیں۔ اگر سوشل میڈیا نہ ہوتا تو کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوتی کہ اتنی دھوم دھڑکے والی شادی کا گالم گلوچ اور مار پیٹ کے ساتھ اختتام کیسے ممکن ہوا؟
بہت سے لوگوں کو تو اس بات کا بھی علم نہ ہوتا کہ حمائمہ ترکی میں تھیں جب ان کا اپنڈکس پھٹ گیا اور وہ موت کے منہ سے واپس آئیں۔۔ ان کی امی ان کے ساتھ تھیں جب یو ٹیوب پر یہ خبر بھی وائرل ہوئی کہ حمائمہ ملک کا انتقال ہو گیا ہے تو انھوں نے اپنی امی سے کہا کہ سوشل میڈیا پر کبھی اعتبار نہ کریں کیونکہ
ایک بار ان کی امی نے انھیں ایک ایسا لنک بھی دکھایا تھا جس پر چند تصویریں تھیں اور کیپشن تھا ”فحش اداکارائیں“۔۔حمائمہ کا خیال ہے کہ غربت، غصہ اور شدت پسندی ہمیں نہ خود چین سے جینے دیتی ہے اور نہ ہم دوسرے کو جینے دیتے ہیں۔
وہ شعیب منصور کی فلم ”بول“ کر رہی تھیں جب انھیں پہلی طلاق ہوئی، مطالبہ تھا کہ فلم چھوڑ دو اور گھر واپس آؤ۔ اداکار شمعون عباسی کے گھر بھی مختصر عرصہ کے لئے ہی بسا سکیں اور دوسری طلاق ہو گئی۔ تب حمائمہ کو احساس ہوا کہ وہ کیوں دوسروں میں محبتیں بانٹتی رہیں؟ نہ اپنا بچپن انجوائے کیا نہ زندگی۔۔اتنی محنت کی کہ خود کو کھو دیا اور وہ وقت بھی آیا کہ ڈپریشن کی میڈیسن لینا شروع کر دیں، لوگ بھی تو عورت کو بخشتے نہیں ہیں اور اگر عورت اداکارہ بھی ہو تو لوگون کو انگلی اٹھانے کا لائسنس مل جاتا ہے۔ اور تو اور وہ عمرہ کے لئے گئیں تو لوگوں نے کہا عمران ہاشمی کدھر ہے؟ بہرحال آج کل وہ زندگی کو ایک الگ لیول پر جینا سیکھ رہی ہیں جس میں لوگوں کو نہ کہنا آ جاتا ہے کیونکہ وہ اب خود کو تکلیف دینا نہیں چاہتیں!!

Back to top button