کیا پونے 2 ارب کی نئی سرکاری گاڑیاں عوام کی آبرو ریزی نہیں؟

ڈیفالٹ کے خطرے سے دوچار پاکستان کے عوام کو اس بات کا شاید علم نہیں کہ ڈیڑھ لاکھ سرکاری گاڑیوں کے ہوتے ہوۓ بھی پچھلے چھ ماہ کے دوران حکومت نے اپنے پہلے سے بگڑے لونڈوں کو خوش کرنے اور ان کے عیش و آرام کے لئے پونے دو ارب روپے کی اضافی گاڑیاں خریدلی ہیں۔ یہ محض مالی بدعنوانی نہیں ہے۔ یہ اپنے ہی حکمران طبقے کی جانب سے پہلے سے ڈوبتی قوم کی آبرو ریزی اور لوٹ مار ہے۔ نیا دور ٹی وی کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو ایک جانب تو ڈیفالٹ کے خطرے سے دوچار ہے مگر دوسری جانب اس میں لگ بھگ ڈیڑھ لاکھ سرکاری گاڑیاں عوام کی غربت کا مذاق اڑاتی پھر رہی ہیں۔ یہ ڈیڑھ لاکھ سرکاری گاڑیاں ایندھن سے نہیں چلتیں بلکہ غریب عوام کے خون پر چلتی ہیں۔ ان ڈیڑھ لاکھ گاڑیوں کی موجودگی کے باوجود حکومت پاکستان نے 1.729 روپے کی مزید گاڑیاں خرید لی ہیں . یہ ہے آج کا پاکستان۔ سیاسی اور معاشی طور پر دیوالیہ، اپنے دانتوں کی کھال سے لٹکا ہوا، نہایت ڈھٹائی سے دنیا سے چھوٹی موٹی رقم کی بھیک مانگتا ہوا لیکن اپنی ہی اونچی شان والے، رشوت خور اور لاڈ پیار سے پالے ہوئے طبقہ اشرافیہ کو ملنے والی مراعات کو ختم کرنے پر تیار نہیں ہے۔ رپورٹ کے مطابق برطانیہ جس نے لگ بھگ 200 سال تک ہم پر حکومت کی، وہاں محض 86 سرکاری گاڑیاں ہیں اور ان میں سے کوئی بھی گاڑی کسی خاص افسر یا نمائندے کو الاٹ نہیں کی گئی بلکہ یہ سب گاڑیاں ایک مرکزی پول میں کھڑی رہتی ہیں۔ وزیر یا بیوروکریٹ کو جب گاڑی کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ پہلے یہ بتاتا ہے کہ اسے کیوں ضرورت ہے، پھر وہ ایک درخواست پر دستخط کرتا ہے اور پھر وہ یہ گاڑی استعمال کر سکتا ہے۔ استعمال کرنے کے بعد وہ دوبارہ اس فارم پر یہ تفصیل مہیا کرتا ہے کہ اس نے کتنے فاصلے کے لئے گاڑی استعمال کی اور اس دوران کتنا خرچ آیا۔ برطانیہ میں یہ بھی اصول ہے کہ کام کے لئے دفتر آنے اور کام کے بعد دفتر سے گھر جانے کے اخراجات ملازم اپنی جیب سے ادا کرے گا۔ ڈیوٹی پر پہنچنا اور ڈیوٹی کے بعد گھر واپس جانا آپ کا سرکاری فریضہ نہیں بلکہ یہ آپ کی ذاتی ذمہ داری ہے جس کا خرچ لوگ اپنی جیب سے اٹھاتے ہیں۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ 27 فروری 2023 کو حکومت پاکستان نے قومی اسمبلی میں اپنے اس پاگل پن پر مبنی فیصلے کا انکشاف کیا کہ وہ 5 کروڑ 70 لاکھ روپے کی گاڑیاں خریدنے جا رہی ہے جو بظاہر ‘غیر ملکی مہمانوں’ کے لئے درکار ہیں۔ دسمبر 2022 میں آزاد جموں و کشمیر کی حکومت نے اپنے بیوروکریٹس اور عدلیہ کے لیے 872 ملین روپے کی لاگت سے 152 گاڑیوں کی خریداری کی تصدیق کی۔ ستمبر 2022 میں پنجاب حکومت نے اپنی کابینہ کے ارکان کو بطور رشوت پیش کرنے کے لیے 40 نئی گاڑیوں جن کی لاگت 300 ملین روپے بنتی ہے، خریدنے کی منظوری دی۔ پیچھے رہ جانے کے ڈر سے مغلوب ہو کر اکتوبر 2022 میں لاہور ہائی کورٹ نے اپنے عدالتی افسران کے لئے 500 ملین روپے کی لاگت سے 308 نئی گاڑیاں خرید لیں. گزشتہ 2 سال میں وفاقی وزراء کے زیر استعمال گاڑیوں پر کل 7 کروڑ 67 لاکھ 3 ہزار 98 روپے کے اخراجات آئے۔ دو سال میں گاڑیوں کی مرمت پر 6 کروڑ 39 لاکھ 1 ہزار 278 روپے کے اخراجات آئے۔ ان دو سالوں میں گاڑیوں کے فیول کی مد میں حکومت نے 1 کروڑ 28 لاکھ 2 ہزار 720 روپے خرچ کیے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں جس بڑے پیمانے پہ لوٹ مار اور وسائل کا غلط استعمال جاری ہے اسے دیکھ کر ذہن چکرانے لگتا ہے۔ رواں سیزن میں سیاحت اور تعطیلات کے لیے شمالی علاقوں کا دورہ کرنے والی تمام کاروں میں سے 20 فیصد سرکاری سبز نمبر پلیٹس والی تھیں۔ غور سے دیکھنے پر ہمیں شاپنگ مالز، پارکوں اور ریسٹورنٹس کے باہر بھی اتنی ہی تعداد میں سرکاری گاڑیاں نظر آئیں گی یہ بتانے کی چنداں ضرورت نہیں کہ ان گاڑیوں میں استعمال ہونے والا ایندھن، ان کی مرمت پر اٹھنے والا خرچ اور اسے چلانے والے ڈرائیورز کی تنخواہیں پاکستان کے غریب عوام کی جیبوں سے نکالی جاتی ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ ہر سرکاری گاڑی کو واپس لے کر حکومت اسے فروخت کر دے اور اس سے حاصل ہونے والی رقم کو پاکستان کے کمزور طبقات کو کم از کم طے شدہ ماہانہ اجرت مہیا کرنے پر خرچ کیا جائے۔

Back to top button