اداکار عوامی شخصیت ہوتے ہیں، انکی ملکیت نہیں


معروف اداکارہ مایا علی نے سوشل میڈیا پر فنکاروں کو پبلک پراپرٹی سمجھ کر کچھ بھی کہہ دینے والوں کو کرارا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ فنکار عوامی شخصیت ضرور ہوتے ہیں مگر عوامی ملکیت نہیں ہوتے کہ جس کا جو دل چاہے ان کے بارے میں فضول اور بیہودہ باتیں کرتا پھرے۔ مایا علی نے ایک ٹی وی انٹرویو میں شوبز سمیت سماجی مسائل پر کھل کر بات کی۔
مایا علی نے سوشل میڈیا پر شوبز شخصیات کو تنقید کا نشانہ بنانے والے افراد کو خصوصی پیغام دیا کہ ان کی تنقید بعض مرتبہ اداکاروں کے دل پر تیر کی طرح لگتی ہے، اس لیے تنقید کرنے سے قبل سوچا کریں کہ وہ کیا لکھ رہے ہین۔ مایا نے کہا یہ سچ ہے کہ اداکار عوامی شخصیت ہوتے ہیں مگر اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ عوام انکو اپنی ملکیت سمجحنا شروع کر دیں۔ مایا نے لوگوں کو مشورہ دیا کہ وہ عوامی شخصیت اور عوامی ملکیت کے فرق کو سمجھیں اور یہ بھی یاد رکھیں کہ وہ صرف وہی چیز دیکھ رہے ہوتے ہیں، جسے اداکار دکھانا چاہ رہے ہوتے ہیں۔ مایا کا کہنا تھا کہ بطور اداکار انہیں کسی کی تنقید پر کوئی اعتراض نہیں مگر بطور شخص انہیں ذاتی تنقید کا نشانہ بنائے جانے پر اعتراض ہے اور کسی کو کوئی حق نہیں کہ کسی کی ذاتی زندگی میں بلا وجہ مداخلت کرتا پھرے۔
مایا علی نے بتایا کہ یہ بہت پرانی بات ہے اور اس حوالے سے کوئی نہیں جانتا کہ میرے اماں اور بابا کی کبھی نہیں بنی، میری امی نے بابا کے ساتھ پوری زندگی یہ سوچ کر گزاری کہ اگر میں چھوڑ کر چلی گئی تو میرے بچوں کا کیا ہوگا ؟ اداکارہ کا کہنا تھا کہ میرے والدین کی پسند کی شادی تھی اور یہی وجہ تھی کہ شاید مجھے اب لومیرج سے ڈر لگنے لگا ہے۔ مایا علی نے بتایا کہ مجھے 16 سال کی عمر میں نروس بریک ڈاؤن ہوا، دو دن بیہوش رہنے کے بعد تیسرے دن ہوش آیا، اس کے بعد میری دنیا ہی تبدیہ ہو گئی اور مجھے خود میں مختلف تبدیلیاں محسوس ہونے لگیں، لیکن ان تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ میں نے پڑھائی جاری رکھی، گریجویشن کے وقت میں ڈاکٹر مجھے ایک گولی روزانہ دیتے تھے جو مجھے زبان کے نیچے رکھنی ہوتی تھی کیونکہ مجھے شدید دورے پڑتے تھے، اتنے شدید کہ میرے بابا مجھے پکڑتے تھے۔ اس کے بعد میرے علاج کے لیے تھراپی شروع کی گئی۔
مایا علی کے مطابق اس وقت جب میرے گھر والوں سے کوئی پوچھتا تھا کہ اسے کیا ہوا ہے تو وہ کہتے تھے کچھ نہیں بس اسکی طبیعت تحوڑی خراب ہے۔ جب ہمیں کہیں جانا ہوتا تھا تو میرے والدین مجھے دوائیاں ساتھ رکھنے کی خاص تاکید کیا کرتے تھے۔
مایا کا کہنا تھا کہ جب میں 9 کلاس میں تھی پی ٹی وی پر میں نے ایک ڈاکٹر کو پروگرام میں دماغی حالت کی مختلف کیفیات سے متعلق بات کرتے سنا۔ میں نے اپنی والد کو کہا  کہ یہ سب کچھ مجھے بھی محسوس ہوتا ہے۔ لیکن میری والدہ نے میری بات جو نظر انداز کرتے ہوئے مجھے ڈانٹ دیا۔ لہازا میں یہی کہوں گی کہ مجھے پہلی روک اس واقعے سے ملی۔
میں اپنی والدہ سے کہتی تھی کہ اماں مجھے انکزائٹی ہورہی ہے جس کی کچھ بھی وجوہات ہوسکتی ہیں، پھر مجھے ڈاکٹر نے بتایا کہ آپ کی بیماری ماضی کے صدمات کا نتیجہ ہے۔ یہ اچانک ہونے والی بیماری نہیں، دماغی خرابی اچانک نہیں ہوتی، یہ بہت عرصے سے آپ کے دماغ میں موجود ہوتی ہے اور پھر ایک سٹیج پر آپ اچانک آپ غیر معمولی ردعمل کا اظہار کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ تاہم انکا کہنا تھا کہ اب وہ بالکل ٹھیک ٹھاک ہیں۔
مایا کا کہنا تھا کہ شروع میں جب وہ اداکاری کے میدان میں آئی تھیں تو ان کا نام خالد عثمان بٹ کے ساتھ جوڑا گیا اور پھر انہیں شہریار منور کے ساتھ جوڑ دیا گیا۔ مایا کا کہنا تھا کہ چوں کہ ان کی اور خالد عثمان بٹ کی کیمسٹری آپس میں ملتی تھی، اسی وجہ سے لوگوں نے ان دونوں کا نام جوڑ دیا۔ بعد میں جب انہوں نے ’پرے ہٹ لو‘ فلم میں شہریار منور کے ساتھ کام کیا تو پھر ان کے ساتھ ان کا نام جوڑ دیا گیا۔ مایا نے کہا کہ انہوں جن بھی اداکاروں کے ساتھ کام کیا، ان ہی کے ساتھ ان کی کیمسٹری مل گئی۔ ایسے اداکاروں میں بلال اشرف اور علی ظفر بھی شامل ہیں۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا اس سال ان کی شادی کی خبر آئے گی تو انہوں نے اسکا جواب نفی میں دیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button