استعفوں کی جب ضرورت ہوگی تو استعمال کریں گے

وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ہم لانگ مارچ کےلیے تیار تھے لیکن میٹنگ میں پی ڈی ایم رہنما استعفوں کا معاملہ لیکر آگئے، استعفوں کی جب ضرورت ہوگی تو استعمال کریں گے۔
تفصیلات کے مطابق کراچی میں ٹیچرز ٹریننگ سکول کے دورے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم یوٹرن والے نہیں یہ کوئی اور لیتا ہے، استعفوں کے معاملے پر پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی سے رائے لینا ضروری ہے، ہماری پارٹی سمجھتی ہے کہ استعفوں کی جب ضرورت ہوگی تو استعمال کریں گے۔
جب کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے اسمبلیوں سے مستعفی ہونے سے انکار کردیا، سابق صدر کہتے ہیں کہ مستعفی ہوکر اسمبلیوں کو چھوڑنا وزیر اعظم عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کو مضبوط کرانے کے مترادف ہے، ایسے فیصلے نہ کیے جائیں جن سے ہماری راہیں جدا ہوجائیں۔ تفصیلات کے مطابق حکومت مخالف لانگ مارچ سے متعلق حکمت عملی طے کرنے کےلیے اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کا سربراہی اجلاس ہوا، جس میں مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف اور پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے ویڈیو لنک کے ذریعے سے شرکت کی۔ میڈیا ذرائع کے مطابق اس اجلاس کے دوران سابق صدر آصف علی زرداری نے ن لیگ کے قائد نوازشریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میاں صاحب پلیز پاکستان تشریف لائیں ، میں جنگ کےلیے تیار ہوں لیکن شاید میرا ڈومیسائل مختلف ہے، میں نے اپنی زندگی کے 14سال جیل میں گزارے ہیں، ہم آخری سانس تک جدو جہد کےلیے تیار ہیں، نوازشریف جنگ کےلیے تیار ہیں تو انہیں وطن واپس آنا ہوگا، کیوں کہ میاں صاحب پنجاب کی نمائندگی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میاں صاحب آپ کیسے عوامی مسائل حل کریں گے؟ آپ نے اپنے دور میں تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا جب کہ میں نے اپنے دور حکومت میں تنخواہوں میں اضافہ کیا۔ سابق صدر نے کہا کہ پیپلزپارٹی ایک جمہوری پارٹی ہے، ہم پہاڑوں پر نہیں بلکہ پارلیمان میں رہ کر لڑتے ہیں، مجھے اسٹیبلشمنٹ کا کوئی ڈر نہیں ہے، پہلی بار نہیں ہے کہ جمہوری قوتوں نے الیکشن میں سازش کا سامنا کیا ، لیکن اس صورتحال میں مستعفی ہوکر اسمبلیوں کو چھوڑنا وزیر اعظم عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کو مضبوط کرانے کے مترادف ہے، ایسے حالات میں لانگ مارچ کی منصوبہ بندی 1986 اور 2007 جیسی کرنا ہوگی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button