اسحاق ڈار نگران وزیر اعظم کی دوڑ سے آؤٹ کیسے ہوئے؟

وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی بطور نگران وزیر اعظم نامزدگی کی جہاں ایک طرف پیپلز پارٹی نے کھل کر مخالفت کرتے ہوئے اسے فیک نیوز قرار دے دیا پے وہیں دوسری طرف نون لیگ کے اندر سے بھی اس تجویز کی مخالف آوازیں اٹھنا شروع ہو گئی ہیں۔ جبکہ آئینی ماہرین بھی اس تجویز کی مخالفت کرتے نظر آتے ہیں جس کے بعد اسحاق ڈار کی بطور نگران وزیر اعظم تعیناتی کے امکانات مفقود دکھائی دیتے ہیں۔ دوسری جانب سینئر لیگی رہنما اور وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ اسحاق ڈار کی بطور نگراں وزیراعظم تعیناتی سے تمام انتخابی عمل ہی متنازع ہو جائے گا اس لئے ایسے عمل سے احتراز کرنا چاہئے۔

پاکستان میں موجودہ منتخب حکومت کا وقت اگست کے دوسرے ہفتے مکمل ہو رہا ہے۔ تاہم ابھی تک نگراں وزیراعظم کے حوالے سے باضابطہ اعلان تو نہیں ہوا، البتہ پاکستان کے مقامی میڈیا میں ذرائع سے خبریں چلائی جا رہی تھیں کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار متوقع طور پر اگلے نگراں وزیراعظم ہو سکتے ہیں۔ تاہم وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے ایک بیان میں کہا کہ ’نگراں وزیرِاعظم کا تقرر اور اس کا اعلان آئینِ پاکستان میں دینے گئے طریقہ کار کے مطابق ہو گا۔ وزیراعظم اس حوالے سے قائد مسلم لیگ ن میاں نواز شریف سے رہنمائی اور حکومت میں شامل اتحادی جماعتوں سے مشاورت کریں گے۔

خیال ریے کہ پاکستانی آئین میں نگراں وزیراعظم ہو یا کسی بھی صوبے کا نگراں وزیراعلٰی، اس کی تعیناتی کے لیے باقاعدہ طریقہ کار درج ہے۔ کسی بھی نگراں وزیراعظم کا تقریر حزب اقتدار اور حزب اختلاف کی باہمی مشاورت سے طے ہونا آئین کی منشا ہے۔پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایسا کبھی بھی نہیں ہوا کہ برسراقتدار جماعت سے تعلق رکھنے والی کوئی شخصیت نگراں وزیراعظم بنے اگر گزشتہ تین دہائیوں کا جائزہ لیا جائے تو 1993 میں معین قریشی، 1996 میں معراج خالد، 2007 میں میاں محمد سومرو، 2013 میں میر ہزار خان کھوسو اور 2018 کے انتخابات میں پاکستان کے نگراں وزیراعظم ناصرالملک تھے۔

اردو نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق سیاسی تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ ’اگر اسحاق ڈار کو نگراں وزیراعظم لگایا جاتا ہے تو یہ بڑی اچنبھے کی بات ہو گی۔ جو نگران حکومت کی روح ہے وہ ختم ہو جائے گی۔ اسحاق ڈار کے نگراں وزیراعظم بننے کا سیدھا سیدھا مطلب ہے کہ اگلے وزیراعظم نواز شریف ہوں گے پھر تو کسی تجزیے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے پہلے ایسا کبھی بھی نہیں ہوا۔ کسی نگراں وزیراعظم کا کسی سیاسی جماعت کی طرف جھکاؤ تو سمجھ میں آتا ہے لیکن کسی سیاسی جماعت کے سرگرم لیڈر اور سینیٹر کو نگرانی کی ذمہ داری سونپنا، کبھی بھی ایسا نہیں ہوا۔

ان سے جب سوال کیا گیا کہ اگر یہ تعیناتی حقیقتاً ہو جاتی ہے تو اس سے کیا پیچیدگی ہو گی؟ سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ ’یہ نام ہی سب سے بڑی پیچیدگی ہے۔ مسلم لیگ ن اتحادیوں کو تو شائد منا لے لیکن اس انتخاب سے کبھی بھی جانبداری کا کلنک نہیں مٹایا جا سکے گا۔ اور پھر تحریک انصاف کو یکسر نظر انداز کرنا کسی صورت بھی درست نہیں ہو گا۔‘انہوں نے مزید کہا کہ ’بظاہر یہ بھی نظر آ رہا ہے کہ عمران خان شائد اگلے آنے والے دنوں میں گرفتار ہو جائیں۔ ایسے میں ان کے ساتھ جو کچھ بھی ہو چاہے وہ قانونی ہو یا غیرقانونی یہ سب مسلم لیگ ن کے کھاتے میں جائے گا، کیونکہ نگران حکومت اصل میں پھر مسلم لیگ ن کی ہو گی۔ اس لیے پیچیدگیاں تو ہوں گی اور توقعات سے زیادہ ہوں گی۔

ایسے میں سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا اسحاق ڈار کی بطور نگراں وزیراعظم تعیناتی میں کوئی قانونی پیچیدگی بھی آڑے آ سکتی ہے؟ قانونی ماہرین کی رائے میں آئین میں براہ راست ایسی کوئی قدغن نہیں کہ نگراں وزیراعظم کسی سیاسی جماعت سے نہیں ہو سکتا۔لاہور ہائی کورٹ بار کے سابق جنرل سیکریٹری رانا اسد اللہ خان نے بتایا کہ ’آئین میں ایسی کوئی بندش نہیں ہے۔ چونکہ آئین میں جو طریقہ وضع ہے اس میں اپوزیشن لیڈر سے مشاورت کا ذکر ہے تو جب اپوزیشن سے مشاورت ہو جائے اور ایک نام پر اتفاق بھی ہوجائے تو پھر آپ اس کو قانونی طور پر رد نہیں کر سکتے۔ البتہ اخلاقی طور پر معاملہ الگ ہے۔

آئین کے مطابق وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف مشاورت سے یہ عمل مکمل کریں گے۔پاکستان پیپلز پارٹی نے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو نگراں وزیراعظم بنانے کی مخالفت کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں پیپلز پارٹی کے رہنماوں کا کہنا ہے کہ ابھی تک تو ہمارے سامنے کوئی نام نہیں رکھا گیا۔ اگر اسحاق ڈار کا نام سامنے آیا تو اس کی مخالفت کی جائے گی۔پیپلز پارٹی رہنماؤں کے مطابق مخالفت کی وجہ یہ ہے کہ نگراں حکومت وفاقی کی ہو یا صوبے کی اسے غیرجانبدار ہونا چاہئے۔

اس معاملے پر پارٹی کی نائب صدر شیری حمان نے کہا کہ نگران سیٹ اپ کے حوالے قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں۔ نگراں وزیراعظم کے لیے پیپلز پارٹی سے کسی نام پر کوئی مشاورت نہیں ہوئی۔ ایسے تاثر دیا جا رہا ہے کہ نگراں وزیراعظم پر پیپلز پارٹی مان گئی ہے۔ نگراں وزیراعظم کے حوالے سے فیک نیوز چل رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ’پیپلز پارٹی آئین کے مطابق ملک میں انتخاب چاہتی ہے۔ ہم چاہتے ہیں الیکشن میں تمام جماعتوں کو لیول پلیئنگ فیلڈ ملنی چاہیے۔‘’الیکشن ایکٹ میں کوئی ایک ترمیم نہیں بلکہ بہت سی ترامیم کی جا رہی ہیں۔ جو بھی ترامیم ہوں گی اتفاق رائے سے ہوں گی۔ تاہم پیپلز پارٹی سے منسوب خبروں کی تصدیق کر لینی چاہئے۔

دوسری جانب پی ڈی ایم کے ترجمان حافظ حمداللہ نے بھی اسحاق ڈار کے نام سامنے آنے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ن لیگ پر کسی نام کو تجویز کرنے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ وہ جو مرضی نام تجویز کریں لیکن نگراں وزیراعظم کا فیصلہ اتحادی جماعتوں کی مشاورت سے ہی کیا جائے گا۔‘ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’نام جس کا مرضی سامنے آئے گا اس کے مثبت اور منفی تمام پہلوؤں پر مشاورت ہو گی تب ہی جا کر کوئی فیصلہ ہوگا۔

دوسری جانب جیسے ہی اسحاق ڈار کی بطور نگراں وزیر اعظم کی تجویز کے بارے میں خبروں نے گردش شروع کی، پاکستانیوں نے سوشل میڈیا کا رخ کر کے اس ممکنہ پیش رفت پر اپنی رائے کا اظہار کیا۔ صحافی علینا شگری نے ٹوئٹ کیا کہ میثاق جمہوریت کے تاریخی معاہدے میں یہ کہا گیا تھا کہ نگراں حکومت غیر جانبدار ہو گی، اس حکومت میں شامل افراد خود اور ان کے قریبی رشتہ دار انتخابات میں حصہ نہیں لے رہے ہوں گے۔ لہذا اسحاق ڈار نگراں وزیر اعظم بنے تو ان کے اہل خانہ انتخابات میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔صحافی خاور گھمن نے اپنی ٹویٹ میں تبصرہ کیا کہ اگر قومی آئین کے مطابق جایا جائے تو اسحاق ڈار کے نگراں وزیر اعظم بننے کے امکانات صفر ہیں۔ لیکن ان کا نام چلا کر ایک دلچسپ بحث کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

غیر سرکاری تنظیم پلڈیٹ کے صدر اور آئین کے ماہر احمد بلال محبوب نے ٹویٹ کیا کہ موجودہ وزیر خزانہ اور مسلم لیگ نواز کے اہم راہنما کو بطور نگراں وزیر اعظم تعینات کرنا نگراں نظام کی روح کے متضاد ہے۔ اگر ایک نگراں اتنا متعصب ہو سکتا ہے تو پھر نگراں حکومت لانے کی ضرورت ہی کیا ہے، منتخب حکومت کو ہی رہنے کیوں نہیں دیا جاتا؟

صحافی مطیع اللہ جان نے احمد بلال محبوب کے جواب میں ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ نگراں افراد آئینی اور قانونی لحاظ سے غیر اہم ہیں لیکن سیاسی طور پر اہم ہیں۔ اگر موجودہ وزیر اعظم اور قائد حزب اخلاف اسحاق ڈار کے نام پر متفق ہیں تو آئین ان کی تعیناتی سے نہیں روکتا۔ آئینی پابندی صرف ان کے قریبی رشتہ داروں پر ہو گی جو الیکشن نہیں لڑ سکیں گے۔

Back to top button