اسلام آباد میں دہشت گردوں کا ٹارگٹ شیعہ امام بارگاہ تھی

معلوم ہوا کہ اسلام آباد میں مارے جانے والے خود کش حملہ آوروں کا ٹارگٹ شیعہ امام بارگاہ قصر امام موسیٰ کاظم تھی۔ یاد رہے کہ اگلے روز سیکٹر آئی ٹین فور کی ایک سڑک پر ٹیکسی میں سوار خودکش حملہ آوروں نے پولیس چیکنگ کے دوران خود کو دھماکے سے اڑا لیا تھا جس کے نتیجے میں گاڑی میں سوار دونوں دہشت گرد بھی ہلاک ہو گئے تھے۔ ایک پولیس اہلکار عدیل حسین شہید اور چار زخمی ہوئے تھے۔ اسلام آباد پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں پہلے سے ہی سکیورٹی ہائی الرٹ پر ہے۔ جمعرات کو بھی خفیہ اطلاعات پر سی ٹی ڈی اور خفیہ اداروں نے ایک آپریشن کیا تھا جس میں بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد کر کے ایک شخص کوگرفتار کیا گیا تھا۔ اس تناظر میں مزید چیکنگ چل رہی تھی۔ وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ یہ گاڑی راولپنڈی آئی جے پرنسپل روڈ سے اسلام آباد میں داخل ہوئی اور ا اس کا ٹارگٹ ہائی ویلیو تھا۔ جس میں کوئی اہم شخصیت یا پھر کوئی اہم عمارت ہو سکتی تھی۔ اس دھماکے کے بعد جڑواں شہروں کی سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔ جبکہ دوسری جانب ٹی ٹی پی نے اس حملے کی ذمہ داری قبول لی ہے۔
اس کیس کی تحقیقات کرنے والے ذرائع نے بتایا کہ حملہ آورروں کا ممکنہ ٹارگٹ آئی ٹین فور میں واقع امام باره گاہ قصر امام موسیٰ کاظم سادات کالونی تھی جو بہت اہم جگہ ہے جہاں پر جمعہ ایک بڑی تعداد میں لوگ نماز ادا کرنے کے لیے جمع ہوتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گاڑی پہلے سبزی منڈی موڑ سے ملحق آئی جے پی روڈ سے کا روٹ لے کر اسلام آباد میں داخل ہورہی تھی لیکن آئی ٹین پٹرول پمپ سے آگے پولیس چیک پوسٹ کی وجہ سے اس نے انڈسٹریل ایریا والا لمبا روٹ لے کر وہاں سے فیملی اسپتال چوک کی جانب مڑنے کا فیصلہ کیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ خود کش بمباروں نے واپس اوپر سے گھوم کر آئی ٹین فور مرکز سے پہلے ایک روڈ سے اندر آ کر اس امام بارگاہ تک پہنچے کا سوچا ہو گا۔ جس چوک کے ساتھ حملہ آوروں نے خود کو اڑایا وہاں پر ایک ڈھابہ ہوٹل بھی ہے جس پر ہر وقت رش رہتا ہے اور زیادہ تر مزدور اور دیہاڑی دارطبقہ کے لوگ یہاں آکر ناشتہ کرتے ہیں اور کھانا کھاتے ہیں۔ تاہم اس دوران ایگل سکوارڈ کے جوان اس کے پیچھے لگ گئے اور گاڑی کو روک لیا۔ تاہم بمباروں نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا اور یوں امام بارگاہ ایک بڑے سانحے سے بچ گئی۔
