ناکام لانگ مارچ کے بعد عمران اسمبلیاں توڑنے میں بھی ناکام

اپریل میں اقتدار سے نکلنے کے بعد سے ناکامیوں کا سامنا کرنے والے عمران خان کو لانگ مارچ کی ناکامی کے بعد ایک اور بڑی سیاسی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے چونکہ وہ 23 دسمبر کو اپنے اعلان کے مطابق پنجاب اور خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلیاں توڑنے میں ناکام ہو گئے. لاہور ہائی کورٹ نے وزیر اعلی پرویز الٰہی کو گورنر پنجاب کی جانب سے ڈی نوٹیفائی کئے جانے کے خلاف درخواست کے فیصلے تک اسمبلی تحلیل نہ کرنے کی یقین دہانی پر بحال تو کر دیا ہے لیکن انھیں اپنے عہدے پر برقرار رہنے کے لیے اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ ہر صورت لینا ہو گا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کہ پرویز الہی کا 11 جنوری کے بعد اس عہدے پر برقرار رہنا اس لیے ممکن نظر نہیں آتا کہ وہ ایوان میں اکثریت کھو چکے ہیں ورنہ اعتماد کا ووٹ لینے میں انہیں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہئے تھی۔

دوسری جانب سپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان کا اصرار ہے کہ پرویز الہی کی نمبرز گیم پوری یے اور 11 جنوری سے پہلے یا بعد میں وہ اعتماد کا ووٹ لینے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی نے بھی اپنے سلسلہ وار ٹویٹس میں کہا ہے کہ ’پنجاب کے عوام کو مبارک ہو کہ عدالت نے گورنر کی آئین شکنی کا راستہ روک دیا ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’رات کے اندھیرے میں منتخب حکومت پر شب خون مارنے کی کوشش ناکام ہوگئی ہے۔

پرویز الٰہی کا کہنا تھا کہ ان کا اسمبلیوں کی تحلیل کا فیصلہ حتمی ہے اور عمران خان کے فیصلے پر مکمل عمل درآمد ہو گا۔ انہوں نے صدر سے درخواست کی کہ گورنر کے خلاف مس کنڈکٹ کی کارروائی عمل میں لائی جائے اور انہیں فوری طور پر ان کے عہدے سے ہٹایا جائے۔ تاہم اپوزیشن ذرائع کا اصرار ہے کہ وزیراعلٰی کو اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے کہنا گورنر کا آئینی اختیار ہے اور انہیں اس اختیار کے استعمال سے کوئی نہیں روک سکتا۔

ان کا مزید کہنا یے کہ پرویز الٰہی جب بھی اعتماد کا ووٹ لینے کی کوشش کریں گے، ناکامی ان کا مقدر ہو گی کیونکہ تحریک انصاف کے درجن بھر اراکین اسمبلی اب ان کا ساتھ دینے پر آمادہ نہیں۔ اپوزیشن کا موقف ہے کہ لانگ مارچ کی ناکامی کے بعد درحقیقت عمران خان کو ایک اور بڑی شکست ہو گئی ہے اور وہ 23 دسمبر کو صوبائی اسمبلی توڑنے میں ناکام رہے ہیں جو کہ پی ڈی ایم کی ایک بڑی کامیابی یے۔ پی ڈی ایم ذرائع کا اصرار ہے کہ عمران خان کا فوری انتخابات کا مطالبہ اب ماضی کا قصہ بن چکا یے اور نئے الیکشن موجودہ حکومت کی آئینی مدت پوری ہونے کے بعد 2023 کے آخر میں ہوں گے۔

یاد رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے گورنر پنجاب کے ڈی نوٹیفکیشن کے آرڈر کو معطل کرتے ہوئے پنجاب کابینہ کو بھی بحال کر دیا ہے اور کیس کی حتمی فیصلے کے لیے 11 جنوری کو دوبارہ سماعت شروع کرنے کا اعلان کیا ہے چونکہ اب موسم سرما کی تعطیلات کا آغاز ہو چکا ہے۔ہائی کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے پرویز الٰہی کی درخواست پر عبوری حکم سنایا جنہوں نے موقف اختیار کیا تھا کہ گورنر نے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے انہیں بطعر وزیر اعلی ڈی نوٹی فائی کیا ہے۔ اپنی درخواست میں انہوں نے عدالت سے کیس کے فیصلہ ہونے تک گورنر کا حکم نامہ معطل کرنے کی استدعا بھی کی تھی۔ چوہدری پرویز الٰہی کی طرف سے ان کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے عدالت کے روبرو اپنے دلائل پیش کیے اور استدعا کی کہ گورنر پنجاب کا حکم نامہ معطل کیا جائے۔

بینچ نے استفسار کیا کہ اس بات کی یقین دہانی کروائی جائے گی کہ اس عدالت کے فیصلے تک اسمبلی تحلیل نہیں ہو گی۔ علی ظفر نے عدالت کو بتایا کہ اس حوالے سے وہ اپنے موکل سے پوچھ کر بتائیں گے۔ کیس کی سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو علی ظفر نے کہا کہ وہ ایسی کوئی یقین دہانی کروانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ تاہم دوران سماعت عدالت نے کہا کہ اگر اسمبلی کو تحلیل نہ کرنے کی یقین دہانی کروائی جائے تو عدالت عبوری ریلیف دے سکتی ہے۔

شام 6 بجے کیس کی سماعت تیسری مرتبہ شروع ہوئی تو چوہدری پرویز الٰہی کے وکیل نے عدالت میں ان کا لکھا ہوا بیان حلفی پڑھ کر سنایا جس میں کہا گیا کہ وہ اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے تیار ہیں اور اس بات کی گارنٹی دیتے ہیں کہ اگلی سماعت تک اسمبلی تحلیل نہیں کی جائے گی۔

دوسری طرف گورنر کے وکیل نے بھی عدالت کو بتایا کہ اگر وزیر اعلٰی اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے رضا مند ہیں تو انہیں بھی وزیر اعلٰی کو ڈی نوٹی فائی کرنے کا آرڈر واپس لینے میں کوئی عار نہیں۔ پانچ رکنی بینچ جس کی سربراہی جسٹس عابد عزیز شیخ کر رہے تھے نے اس بیان حلفی کو قبول کرتے ہوئے گورنر کا حکم معطل کرتے ہوئے پرویز الٰہی کی حکومت کو مشروط طور پر بحال کر دیا۔

Back to top button