اسلام آباد میں کسی انہونی کا خوف دھند کیطرح چھانے لگا

کپتان سرکار کی ہر شعبے میں ناکامی اور دوستوں کو دشمن بنانے کی روش کے نتیجے میں اب یہ تاثر مضبوط ہوگیا ہے کہ انکے اقتدار کے لیے اسلام آباد میں زمںن روز بروز زمین تنگ ہوتی جا رہی ہے۔ شہر اقتدار کی فضاؤں میں ہونے والے سرگوشیاں آنے والے خطرے کا پتہ دے رہی ہیں۔ دارالحکومت میں کسی انہونی کا خوف دھند کی طرح چھا رہا ہے اور یہ دھند تیزی سے گہری ہوتی جا رہی یے۔

انگریزی اخبار ڈان اسلام آباد کے ایڈیٹر اور سینئر صحافی فہد حسین کا کہنا ہے کہ حکمراں جماعت کے اراکین پارلیمنٹ میں آنے کو تیار نہیں، بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال میں کپتان کے اتحادی ایک بار پھر انہیں بلیک میل کرنے لگے ہیں اور صاف نظر آتا ہے کہ وزیر اعظم تنہا ہو رہے اور ان کی حکومت گھر جانے والی ہے۔ فہد حسین اپنے تازہ تجزیے میں کہتے ہیں کہ وزیر اعظم 10 نومبر کی صبح پیشی کے وقت سپریم کورٹ کے ہال نمبر 1 میں ایک عجیب و غریب صورتحال سے دوچار تھے۔ چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے ملک کے چیف ایگزیکٹو کو اپنی عدالت میں طلب کرنے کا حکم دیا تھا تاکہ ان سے پوچھا جا سکے کہ ان کی حکومت نے 7 سال قبل اے پی ایس پشاور سکول کے بچوں کے المناک اور دل دہلا دینے والے قتل اور سکیورٹی میں لاپروائی کے ذمہ دار فوجی افسران کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی۔ عدالتی احکامات کی تعمیل کرتے ہوئے جب وزیر اعظم اپنے وزرا کے وفد کے ہمراہ عدالت عظمیٰ پہنچے تو انکے لیے ججز کے سامنے اپنی بات کرنا مشکل ہو رہا تھا کیونکہ ان کی بات کو بار بار کاٹا جا رہا تھا اور وہ ایسی مداخلتوں کے عادی نہیں ہیں۔ فہد کے مطابق وزرائے اعظم کو ایسی مداخلتوں کی عادت نہیں ہوتی لیکن یہ ریاست کی اعلیٰ ترین عدالت تھی، وزیر اعظم کے سامنے اس کا سب سے بڑا جج موجود تھا اور وہ قطعاً روایتی سیاسی بیانات سننے کے لئے تیار نہیں تھا حالانکہ اسی ایک کام میں وزیر اعظم کو ملکہ حاصل ہے۔ اس موقع پر مکالمہ تند و تیز تھا اور سوال تیر جیسے سیدھے۔ ججز وقت ضائع کرنے کے موڈ میں نہیں تھے اور وزیر اعظم کے پاس سوالوں کے واضح جوابات دینے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ ایک بات صاف تھی کہ وکلا، وزرا اور صحافیوں سے بھرے اس کمرۂ عدالت میں وزیر اعظم تنہا تھے، لیکن انکی یہ تنہائی صرف اس عدالت کے سامنے حاضری تک محدود نہیں۔

فہد حسین کہتے ہیں کہ پچھلے کچھ ہفتوں میں ریڈ زون کے مزاج میں غیر محسوس انداز میں تبدیلی آئی ہے۔ یہ غیر محسوس ضرور رہی ہوگی مگر اسے محسوس کیے بغیر رہا نہیں جا سکتا۔ پہلے اس کے بارے میں اشارے ملے۔ PTI کے وزرا اور اراکینِ پارلیمنٹ کے غرور میں کچھ کمی آتی دکھائی دی اور ان کے استہزائیہ انداز میں ذرا نرمی نظر آئی۔ اگر آپ غور سے دیکھیں تو ان میں کچھ عاجزی اور تحمل کی جھلک اور اپنی کمزوری کا ادراک بھی دکھائی دیتا تھا۔ اگر آپ معملعت سونگھنے کی کوشش کریں تو چھپے ہوئے خوف کی بو بھی آ رہی تھی۔ اس کے بعد مفروضے حقیقت میں بدلنے لگے۔ فید کے مطابق کس نے سوچا تھا کہ کپتان حکومت کو ایک ہی دن میں قومی اسمبلی میں ووٹنگ کے دوران اپوزیشن کے ہاتھوں پے در پے شکستیں ہوں گی؟ وہ سوال کرتے ہیں کہ کیا ان شکستوں کو حکومت کی پسپائی سے تعبیر کیا جا سکتا ہے؟ شاید نہیں۔ لیکن کیا ان میں آنے والے دنوں کی نشانیاں ہیں؟

فہد کے بقول ایسا بالکل ممکن ہے بلکہ شاید ایسا ہی ہے۔ ایک ایسے ملک میں کہ جہاں اسٹیبلشمنٹ کے تیور بدلنے کے ساتھ سیاسی حالات بھی بدلتے ہیں، ہر واقعے کی نئی نئی تشریحات سامنے آ رہی ہیں۔ یکایک ایک طاقتور حکومت انتہائی کمزور حکومت میں تبدیل ہو چکی ہے۔ فہد حسین بتاتے ہیں کہ وزیراعظم نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے قبل اپنے اراکین اور اتحادیوں کو باور کرایا تھا کہ نئی قانون سازی دراصل ایک جہاد ہے جس میں آپ کا تعاون ضروری ہے لیکن پھر ایک انہونی ہوگئی۔ وزیر اطلاعات نے آخری وقت پر اجلاس ملتوی کیے جانے کے معاملے پر ایک کہانی عوام کو بیچنے کی کوشش کی کہ حکومت اپوزیشن کو انتخابی اصلاحات پر مزید سوچنے کے لئے وقت دینا چاہتی تھی۔ لیکن یہ کہانی اصل حقیقت کو نہیں چھپا سکی اقر وہ یہ کہ حکومت کو احساس ہو چکا تھا کہ مشترکہ اجلاس میں اس کو ایک اور شکست ہونے جا رہی تھی۔ یہ صحیح معنوں میں حکومت کی پسپائی ہوتی حالانکہ بظاہر وہ عددی اکثریت رکھتی ہے۔

فہد کے مطابق اصل سوال یہ ہے کہ پارلیمنٹ میں حکومتی اکثریت کہاں گئی؟ کہا تو یہی جا رہا ہے کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے معاملے پر اندرونی اختلاف کی وجہ سے ایسا ہو رہا۔ یہ بھی درست ہے، لیکن مکمل سچ نہیں ہے۔ اصل وجہ یہ ہے کہ اسلام آباد میں تاثر بن رہا ہے کہ حکومت پر زمین تنگ ہو رہی ہے۔ بہادر ہیرو لگاتار اپنا کلہاڑا گھماتا چلا جا رہا ہے مگر اسکے ساتھی ایک ایک کر کے گر رہے ہیں۔ دوسری جانب دشمن ایک ایک قدم آگے بڑھتا ہوا گھیرا تنگ کرتا جا رہا ہے۔ ہیرو ایک کے بعد ایک دشمن کو گراتا جاتا ہے لیکن اس کے بازو شل ہو رہے ہیں، اس کے کندھے ڈھلک رہے ہیں، اس کی ٹانگیں اب کانپ رہی ہیں۔ انسانی برداشت کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ یہ حد شاید ابھی پار نہ ہوئی ہو۔ لیکن علی الاعلان دشمنوں کی فہرست لمبی سے لمبی ہوتی چلی جا رہی ہے۔ الیکشن کمیشن کو اب دشمن کی صفوں کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔ اپوزیشن کو یکایک زبان مل گئی ہے۔ عوام ڈوبتی معیشت اور خوفناک مہنگائی سے تباہ حال ہیں اور پھر اسٹیبلشمنٹ بھی ہے جس کی ناراضی کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔

فہد کہتے ہیں کہ ان حالات میں اب وزیر اعظم کے ساتھ صرف انکے قریبی رفقا کی ٹیم بچی ہے جو کہ آخر تک لڑے گی۔ فی الحال جنگ جاری ہے اور ابھی دشمن غالب نہیں آیا۔ لیکن اسلام آباد کی فضاؤں میں ہونے والے سرگوشیاں آنے والے خطرے کا پتہ دے رہی ہیں۔ ریڈ زون میں حکومتی خواتین و حضرات کونوں کھدروں میں جا کر ایک دوسرے سے چپکے ہوئے باتیں کر رہے ہیں کہ اندھیری راہوں میں آج کال کون کس سے مل رہا ہے۔ دارالحکومت میں خوف دھند کی طرح گر رہا ہے۔ اس سے پہلے کہ یہ دھند مزید گہری ہو جائے، حکومت کو شہرِ اقتدرا کا کنٹرول واپس اپنے ہاتھ میں لینا ہوگا۔ لیکن ہر نیا دن نئے تنازعات، نئے اختلافات اور ایک صفحے پر نہ ہونے کی نئی علامات کے ساتھ طلوع ہوتا ہے۔

فہد سوال کرتے ہیں کہ جنرل بلال اکبر کو سعودی عرب میں بطور سفیر تعیناتی کے چند ہی ماہ بعد کس نے ہٹا دیا اور کیوں؟ ان حلقوں میں اضطراب ہے۔ کس نے آزاد جموں و کشمیر کے سابق صدر مسعود خان کو امریکہ میں سفیر لگایا؟ اور متعلقہ افراد کو اعتماد میں کیوں نہ لیا گیا؟ ہر طرف اضطراب ہے۔ ایسی چھوٹی چھوٹی کئی چیزیں ہیں۔ وقت پر معاملات کو ٹھیک کر لیا جاتا تو یہ اس نہج کو نہ پہنچتے۔ لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ عمران کے پاس اب بھی وقت ہے لیکن بہت کم کیونکہ وہ تیزی سے اس تنہائی کا شکار ہو رہے ہیں جس کا انجام فراغت کی صورت میں ہوتا ہے۔

Back to top button