عمران کی کشتی کنارے لگنے سے پہلے ہی ڈوب سکتی یے
وزیراعظم عمران خان کی نااہل حکومت کی بے جا حمایت کا جرم تسلیم کرتے ہوئے معروف اینکر پرسن اور صحافی کامران خان نے کہا یے کہ اب وہ تھک چکے ہیں اور مزید انکی حمایت نہیں کر سکتے۔ وزیراعظم عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ آپکی حکومت ایک خطرناک بھنور میں پھنس چکی ہے اور خطرہ ہے کہ کنارہ تک پہنچنے سے پہلے ہی یہ ڈوب جائے گی۔ لہذا آپ کپتان ہیں، اس کو ڈوبنے سے بچا لیں۔ کامران خان نے مزید کہا کہ خان صاحب، آپ کے پاس صرف 20 ماہ باقی ہیں۔ سمجھیں ٹی ٹوئنٹی میچ ہے، آخری دس اوورز میں آپ نے 200 رنز کرنے ہیں۔ ٹیم عمران خان اگر یہ معجزہ دکھا سکتی ہے تو کیا بات ہے، ورنہ میری جانب سے بھاری دل کے ساتھ خدا حافظ۔’
تاہم کامران خان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ انہیں تین برس سے زیادہ عرصے تک ایک ناکام اور نااہل حکومت کی آنکھیں بند کر کے حمایت کرنے پر پاکستانی عوام سے باقاعدہ معافی مانگنی چاہیے کیونکہ حکومت کی ناکامیاں انہوں نے بھگتی ہیں اور ابھی تک بھگت رہے ہیں۔ یاد رہے کہ کامران خان نے ایک ویڈیو پیغام میں وزیراعظم عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ خان صاحب، کمر توڑ مہنگائی کی چکی میں پسنے والے عوام تبدیلی کا انتظار کر رہے ہیں۔ آپکو اقتدار میں آئے 40 ماہ گزر گئے، بہتری کیا آتی، ہر طرف بگاڑ میں اضافہ ہی رہا ہے۔ طاقتور شوگر مافیا کے خلاف کاروائی ہونا تھی مگر الٹا چینی کی قیمت سوا سو روپے تک بڑھ گئی، عثمان بزدار سے آپ کی پوری ٹیم بد دل ہوگئی مگر آپ کا ان پر سے اعتماد ٹس سے مس نہ ہوا حالانکہ اس سب کا خمیازہ پاکستانی عوام بھگت رہے ہیں۔
عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ خان صاحب، میری کوشش رہی کہ عوام امیدیں قائم رہیں مگر اب تھک رہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ‘خان صاحب، میری کوشش رہی کہ عوام کی امیدیں قائم رہیں، میں آپ کی جانب سے قوم کے ساتھ کیے گے تبدیلی کے وعدے پورے کرنے کے لیے پچھلے تین برس مسلسل حکومت کی حوصلہ افزائی کرتا رہا ہوں۔ لیکن اب میں تھک رہا ہوں۔ آپ سے جڑی امیدیں مدھم پڑ رہی ہیں۔
آپ اپنے اقتدار کے 60 میں سے 40 مہینے، گویا دو تہائی مدت پوری کر چکے ہیں۔ اگر آپ کے خوشامدیوں میں سے کسی نے نہیں آپ کو نہیں بتایا تو میں بتا دیتا ہوں کہ آپ کی حکومت خطرناک بھنور میں پھنس چکی ہے۔ خطرہ ہے کہ کنارہ لگنے سے پہلے کشتی ہی ڈوب جائے۔ آپ کپتان ہیں اس کو ڈوبنے سے بچائیں۔’
وزیراعظم سے مخاطب ہو کر کامران خان نے مزید کہا کہ ‘کمر توڑ مہنگائی کی چکی میں پسنے والے عوام تبدیلی کا انتظار کر رہے ہیں۔ خان صاحب، آپ نے جذباتیت دکھائی۔ گزشتہ ماہ آئی ایس آئی چیف کی تعیناتی کا معاملہ پاکستان کی جگ ہنسائی اور ہم سب کو ڈپریشن میں مبتلا کر گیا۔ شکر کہ ناقابل تلافی نقصان نہیں ہوا۔ آرمی لیڈرشپ پہلے کے طرح آپ کی پشت پر کھڑی ہے۔ مگر عام پاکستانی پریشان ہے۔ کامران خان نے مزید کہا کہ ‘خان صاحب، آپ کی حکومت میں عوام کا بجلی، پٹرول اور اشائے خرد و نوش کا بل دگنا ہو چکا ہے۔ محمد میاں سومرو کی قیادت میں کوئی نجکاری نہیں ہوئی یہی وجہ ہے کہ قومی کارپوریشن قوم کا خون پہلے چوس رہی تھیں آج بھی اتنا ہی چوس رہی ہیں۔ افسوس کہ پی آئی اے کا فلائٹ آپریشن ابھی تک ٹھپ پڑا ہے۔ ان گنت سانحات نے ریلوے کی نااہلی کی تاریخ رقم کر دی ہے۔ احستابی عمل کا یہ عالم کہ نیب میں کسی ایک بڑے ملزم کو سزا نہیں ہوئی مگر ایڑی چوٹی کا زور لگانے کا باوجود لندن کی عدالت نے بھئ شہباز شریف کو منی لانڈرنگ کیس میں لگے الزامات سے بری کر دیا۔
کامران نے کہا کہ ‘وزیراعظم عمران خان صاحب، الیکشن 2018 میں کراچی نے اتنے ووٹ دئیے کہ آپ ششدر رہ گئے لیکن آپ نے انہیں پلٹ کر بھی نہ دیکھا۔ 40 ماہ قبل نواز شریف کا کراچی کے لیے گرین لائن منصوبہ آپ کو نصف تکمیل شدہ ملا مگر آج تک آپ اس گرین لائن کو بھی نہ چلوا سکے۔’
اپنے ویڈیو پیغام کے آخر میں کامران خان نے عمران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں آپ نے 6 ،6 آئی جیز اور چیف سیکرٹریز بدل دئیے، عثمان بزدار سے آپ کی پوری ٹیم بد دل ہوگئی مگر آپ کا ان پر سے اعتماد ٹس سے مس نہ ہوا۔ خان صاحب آپ کے پاس صرف بیس ماہ ہیں۔ سمجھیں ٹی ٹوئنٹی میچ ہے، آخری دس اوورز میں آپ نے 200 رنز کرنے ہیں۔ ٹیم عمران خان اگر یہ معجزہ دکھا سکتی ہے تو کیا بات ہے، ورنہ بھاری دل سے خدا حافظ۔’
