اربوں روپے سے بننے والی کرتارپور راہداری کب کھلے گی ؟

پاکستان میں اربوں روپوں کی لاگت سے بنائی جانے والی اور امید کی راہداری کہلانے والی کرتار پور راہداری کرونا وبا اور دیگر تنازعات کی وجہ سے 16مارچ 2020 سے بند پڑی ہے اور یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ آخر اسے کب کھولا جائے گا؟ اگرچہ پاکستان میں بسنے والی سکھ کمیونٹی نے حال ہی میں کرتار پور گوردوارہ میں دو تقریبات منعقد کیں تاہم بھارت کی جانب سے راہداری کو کھولنے کے حوالے سے کوئی تاریخ نہیں دی گئی جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان امن کی امیدیں دم توڑ رہی ہیں۔

یاد رہے کہ کرتارپور راہداری کا افتتاح نو نومبر 2019 کو کیا گیا تھا تاہم یہ مقدس مقام انڈین سکھ زائرین کے لیے صرف پانچ ماہ کے لیے کھلا رہ سکا۔ کرونا وبا کے باعث اسے 16 مارچ 2020 کو بند کر دیا گیا تھا۔ اب جبکہ عالمی سطح پر مخلف ممالک کے درمیان سفر کی پابندیاں بہت حد تک نرم کر دی گئی ہیں لیکن اس راہداری کو ابھی تک نہیں کھولا گیا ہے۔دونوں ممالک میں عبادت کے لیے مذہبی مقامات اور یہاں تک کہ اٹاری واہگہ بین الاقوامی سرحد پر روزانہ منعقد ہونے والی پریڈ کی تقریب کو عوام کے لیے کھولا جا چکا ہے۔ چاہے پاکستان اور انڈیا کے درمیان اس وقت دو طرفہ مذاکرات کا عمل معطل ہے لیکن اس کے باوجود کرتارپور راہداری کھولنے کا مطالبہ کرنے والوں کی کمی نہیں ہے۔

سکھوں کی نمایاں تنظیم شرومنی گرودوارہ پربندھک کمیٹی نے وزیراعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا ہے کہ اس راہداری کو جل از جلد کھولا جائے۔ اس کے علاوہ پنجاب کے وزیراعلیٰ چرنجیت سنگھ چنی کو بھی اس حوالے سے درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ پاکستان وقف املاک بورڈ کے چیئرمین ڈاکر عامر احمد کا کہنا ہے کہ کرتاپور راہداری سے متعلق ان کی تیاریں مکمل ہیں اور یہ کہ ان کی جانب سے کرتارپور گرودوارہ کھلا ہے اور گزشتہ ماہ وہاں دو تقاریب بھی ہو چکی ہیں لیکن بھارتی حکومت اپنی جانب سے راہداری کھولنے کے حوالے سے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔

تاریخ کے مطابق سکھوں کے پہلے گرو نانک دیو نے اپنی زندگی کے تقریباً 18 برس کرتارپور گاؤں میں بسر کیے تھے۔ یہ گاؤں دریائے راوی کے مغربی حصے پر واقع ہے۔ ان کی وفات کے بعد بابا نانک کے ہندو اور مسلم پیروکار انھیں اپنے اپنے مذاہب کے مطابق دفنانا اور ان کی چتا جلانا چاہتے تھے۔ لوک داستانوں کے مطابق اس وقت بابا نانک کی میت پراسرار طور پر غائب ہو گئی اور اس کی جگہ پھولوں کی ایک ڈھیری بن گئی تھی جسے ہندو اور مسلمان پیروکاروں میں برابر تقسیم کر دیا گیا تھا۔ جس پر دونوں مذاہب سے تعلق رکھنے والے پیروکاروں نے بابا نانک کی آخری رسومات اپنے اپنے مذہب کے مطابق ادا کی تھیں جس کے بعد ڈیرہ بابا نانک میں ایک سمادھی اور قبر بنائی گئی۔

کرتارپور راہداری کو ’امید کی راہداری‘ کہا گیا اور 9 نومبر 2019 کو اس کا افتتاح انڈیا اور پاکستان کے وزرائے اعظموں نے اپنے اپنے ملکوں میں کیا تھا۔ اس موقع پر انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے انڈین پنجاب کے ضلع گروداس پور سے سکھ یاتریوں کے ایک گروپ کو ڈیرہ بابا نانک کے بین الاقوامی سرحد کے اس پار ساڑھے چار کلومیٹر کے فاصلے پر سکھوں کے مقدس مقام گرودوارہ دربار صاحب کرتارپور صاحب جانے کی اجازت دی تھی جبکہ دوسری جانب پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے سکھ یاتریوں کا استقبال کیا تھا۔ کرتارپور راہداری کے افتتاح کے وقت بہت زیادہ امیدوں اور تشہیر کے باوجود اس نے بہت سے تنازعات کو جنم دیا۔ ابتداء میں بھارتی حکومت کی جانب سے یہ پروپیگنڈا کیا گیا کہ پاکستان نے بھارتی سکھوں کو اپنی جانب مائل کرنے کے لئے ایک سیاسی اسٹنٹ کے طور پر کرتار پور راہداری کو کھولا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی تقریب حلف برداری میں بھارتی سیاستدان اور سابق کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو کی آمد اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ جادو کی جپھی پر بھی اعتراضات اٹھائے گئے۔

کرتار پور راہداری کے افتتاح کے موقع پر سدھو کی دوبارہ آمد اور پاکستان کے بارے میں نیک جذبات کے اظہار اور بعد ازاں حکومت پاکستان کی جانب سے سے کرتار پور راہداری کی زیارت کرنے والے ہر سکھ یاتری پر 20 امریکی ڈالر فیس بک پر بھی ابھی اعتراضات کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ اس سے بھی بڑھ کر انڈیا میں سکھوں کی مذہبی قیادت کے لیے اچھنبے کی بات یہ ہے کہ حکومت پاکستان نے گوردوارہ دربار صاحب، کرتاپور صاحب کے اندر اور باہر کے انتظام کا مکمل اختیار ایک غیر سکھ سربراہی مینیجمنٹ باڈی ‘پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ کرتار پور کوریڈور’ کو دے دیا ہے۔

ان کا اعتراض ہے کہ پاکستان میں بھی پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی ہے لیکن پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ کرتار پور کوریڈور‘ میں ان کا ایک بھی سکھ رکن نہیں ہے۔ ان اعتراضات اور مسائل کی وجہ سے جہاں توقع کی جا رہی تھی کہ یومیہ پانچ ہزار سکھ یاتری عبادت کے لیے جائیں گے، یہ تعداد کم ہو کر 300 تک آ گئی تھی۔ بھارتی صحافی جسویندر سنگھ جاس کا خیال ہے کہ اگر پاکستان داخلے کے نظام کو آسان بنا دیتا یا سرے سے ہی ویزا سسٹم کو ختم کر دیتا تو وہ یہ توقع کر سکتا تھا کہ سکھ عقیدت مندوں کی بڑی تعداد کرتارپور راہداری کے ذریعے پاکستان میں گوردوارے کی زیارت کرے گی۔

Back to top button