اسلام آباد کی انتظامیہ نے پریس کلب کے باہر عورت مارچ منعقد کرنے کی اجازت کیوں نہیں دی؟

پاکستان کے مختلف شہروں میں پیر کو خواتین کے عالمی دن کے موقعے پر عورت مارچ کا انعقاد کیا جا رہا ہے تاہم اسلام آباد میں عورت آزادی مارچ کے منتظمین کو پریس کلب کے باہر ریلی منعقد کرنے کی باضابطہ طور پر اجازت نہیں دی گئی ہے۔
البتہ انتظامیہ کے مطابق ان کی جانب سے عورت مارچ کا این او سی مسترد نہیں کیا گیا ہے اور وہ مارچ کو سکیورٹی فراہم کریں گے۔ اسلام آباد میں عورت مارچ کی منتظم طوبیٰ سید کے مطابق اسلام آباد میں عورت مارچ منعقد کرنے کےلیے انہوں نے چھ ہفتے قبل نو اوبجیکشن سرٹیفکیٹ (این او سی) کےلیے درخواست دی تھی تاہم باضابطر طور پر کوئی این او سی جاری نہیں ہوا۔ انہوں نے گزشتہ برس عورت مارچ پر ہونے والے حملے کا ذکر کرتے ہوئے سوال کیا کہ پچھلے سال ملک کے دارالحکومت میں دن دہاڑے ہم پر حملہ کیا گیا تھا۔ بتائے یہ ملک کس کا ہے؟، تاہم اجازت نامہ نہ ملنے کے باوجود اسلام آباد عورت مارچ کی منتظمین نے مارچ کے شرکا کو دوپہر ایک بجے اسلام آباد پریس کلب کے سامنے پہنچنے کی ہدایت کی ہے۔
یاد رہے کہ پیر کو اسی مقام پر کئی دیگر مظاہروں کا بھی اعلان کیا گیا ہے جن میں جماعتِ اسلامی حلقہ خواتین کی جانب سے خواتین واک قابلِ ذکر ہے۔
دوسری جانب اسلام آباد انتظامیہ کے ایک عہدیدار کے مطابق اسلام آباد عورت مارچ کے منتظمین کو تین بار این او سی دینے کی پیشکش کی گئی تاہم انہوں نے شرائط و ضوابط مسترد کرنے کے ساتھ ان مقامات (جناح اسٹیڈیم اور ایکسپریس چوک) پر بھی آمادگی ظاہر نہیں کی جس کی انہیں پیشکش کی گئی تھی، انہوں نے بتایا کہ وہ جس جگہ پر احتجاج کرنا چاہتے ہیں وہ جامعہ محمدیہ کے بالکل سامنے ہے۔ پچھلی مرتبہ بھی یہاں پر ہنگامہ آرائی ہو چکی ہے اور تین اور گروپس نے بھی اسی جگہ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے اس لیے مکمل سکیورٹی دینا مشکل ہے۔ لہٰذا ہم نے اس مقام کے علاوہ ان کی پسند کے کسی اور مقام کی پیش کش بھی کی تھی تاہم انہوں نے اسی جگہ پر اصرار کیا۔ عہدیدار کے مطابق جن تین دیگر گروپوں نے اسی مقام پر مظاہرے کا اعلان کر رکھا ہے ان میں سے کسی کو بھی این او سی نہیں دیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ این او سی مسترد کر دیا گیا ہے۔ ہم سے سکیورٹی اور انتظامات کی درخواست کی گئی ہے جو ہم فراہم کر رہے ہیں اور پولیس، مجسٹریٹ اور رینجرز کو تعینات کر دیا گیا ہے۔ پاکستان میں سوشل میڈیا پر اسلام آباد میں عورت مارچ کا اجازت نامہ نہ ملنے پر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے اور بیشتر صارفین اسلام آباد کی انتظامیہ اور وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شریں مزاری پر بھی تنقید کرتے نظر آتے ہیں تاہم کئی افراد اس فیصلے سے خوش بھی ہیں۔ مصنفہ ماریہ رشید نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 16 اور 19 میں خواتین کو پرامن احتجاج اور آزادیِ اظہار کی اجازت دی گئی ہے۔ انہوں نے اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقات کو ٹیگ کرتے ہوئے پوچھا کہ اب تک این او سی کیوں نہیں دیا گیا؟ کیا اسلام آباد میں رہنے والی عورتیں اس ملک کی شہری نہیں ہیں؟۔ انہوں نے مزید پوچھا کہ بتائے ’حکومت کو کون بلیک میل کر رہا ہے؟‘
مقصود عاصی نے ڈی سی اسلام آباد کو ٹیگ کرتے ہوئے پوچھا کہ ’کسی کا حق کیسے مار کے بیٹھ سکتے ہیں آپ؟؟‘
انوشے اشرف نے لکھا کہ ہر سال عورت مارچ منعقد کرنے کےلیے انتظامیہ کو اسی طرح جوتیاں رگڑنی پڑتی ہیں۔
کئی افراد انتظامیہ پر تنقید کرتے ہوئے یہ بھی کہتے نظر آتے ہیں کہ اسی شہر میں مذہبی جماعتوں کو تو باآسانی مظاہروں اور احتجاج کی اجازت مل جاتی ہے لیکن پرامن عورت مارچ کو اجازت نہیں دی جا رہی۔
صحافی ابسا کومل نے لکھا ’افسوس! لگتا ہے حیا مارچ والی خواتین کی دھمکیوں کے آگے اسلام آباد انتظامیہ نے گھٹنے ٹیک دیے ہیں، اسی لیے عورت مارچ انتظامیہ کو این او سی جاری نہیں کیا جارہا۔‘
ابسا کا کہنا تھا ’جہاں سال میں ایک بار اپنے حقوق کےلیے پرامن احتجاج کرنا بھی ممکن نہ ہو وہ گھٹن زدہ معاشرہ نہیں ہے تو کیا ہے؟‘
دوسری جانب کئی افراد اسلام آباد انتظامیہ کی جانب سے عورت مارچ کی اجازت نہ ملنے پر خوش دکھائی دیتے ہیں اور اس کے خلاف #ForeignFundedAuratMarch کا ٹرینڈ کر رہا ہے۔
کئی افراد اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر کو عورت مارچ کا این او سی جاری نہ کرنے پر شاباش دیتے نظر آ رہے ہیں۔
اسی حوالے سے محمد شہریار نے لکھا کہ ’میں ڈی سی اسلام آباد کی تعریف کرتا ہوں کہ انہوں نے عورت مارچ کا این او سی جاری نہیں کیا کیونکہ وہ (عورت مارچ کے حمایتی) صرف ’فتنہ‘ ہیں اور بہت ساری غلط فہمیاں پیدا کر رہے ہیں۔‘
ایک اور صارف نے لکھا کہ حقوق نسواں کا ایجنڈا آزادی کے نام پر مسلمان خواتین کی سوچ کو گمراہ کرنا ہے، لیکن ہمیں ان کے اصلی چہروں اور ان مارن فنڈڈ مارچ کے پیچھے لوگوں کو بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے۔
