اسلام آباد ہائیکورٹ حملہ: معاملہ ختم کرنا ہے تو حملہ کرنیوالے وکلا کے نام دیں

اسلام آباد ہائی کورٹ نے وکلا سے عدالت پر حملہ کرنے والے وکلا کے نام مانگ لیے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے ہائی کورٹ حملہ کیس میں 26 وکلا کے خلاف توہین عدالت کے کیس کی سماعت کی جس دوران وکلا نے کچہری آپریشن کرنے والوں کے خلاف جے آئی ٹی بنانے کا مطالبہ کیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر حسیب چوہدری عدالت میں پیش ہوئے، اس موقع پر وکلا نے عدالت میں کہا کہ ہماری تذلیل کی جارہی ہے، ایسا کبھی مارشل لاء دورمیں بھی نہیں ہوا تھا، ہمیں عدالت آتے ہوئے باہر گیٹ پر گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس پر جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ وکلا تنظیمیں خود ذمہ داروں کا تعین کرتیں تو دیگر وکلا پریشان نہ ہوتے، یہ معاملہ کالا کوٹ پہننے والے وکلا اور ہم ججوں کےلیے المیہ ہے، معاملہ ختم کرنا ہے تو آپ خود ان وکیلوں کے نام دیں جنہوں نےحملہ کیا۔ معزز جج نے کہا کہ جنہوں نے توڑپھوڑ کی برائے مہربانی ان پانچ 7 وکلا کے نام ہمیں دیں، جتنا میرا علم ہے کچھ سی سی ٹی وی کیمرے اس دن فعال نہیں تھے۔ جسٹس عامر فاروق کا کہنا تھا کہ قانون سب کےلیے برابر ہے اور کسی کی کوئی انا نہیں ہے۔ جسٹس عامر فاروق نے 26 وکلا کی استدعا پر جواب جمع کرانے کی مہلت دے دی اور کیس کی سماعت تین ہفتوں کےلیے ملتوی کردی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button