اسمبلیاں نہ توڑنے کے عوض عمران کے مطالبات سامنے آ گئے

معلوم ہوا ہے کہ صدر عارف علوی کے ذریعے عمران خان نے حکومت سے اسمبلیاں نہ توڑنے کے عوض جو مطالبے رکھے ہیں ان میں بنیادی یہ ہے کہ آرمی چیف کو توسیع دینے کا قانون ختم کر دیا جائے اور انہیں نااہل اور گرفتار نہ کیا جائے۔ عمران چاہتے ہیں کہ اگر حکومت انکے ساتھ چارٹر آف اکانومی سائن کرنا چاہتی ہے تو ایک چارٹر آف ڈیموکریسی بھی طے کیا جائے۔ انہوں نے صدر علوی کے ذریعے حکومت کو یہ پیشکش کی ہے کہ الیکشن کی تاریخ طے کر لی جائے اور ایک قانون پاس کر لیا جائے کہ اب کسی آرمی چیف کو توسیع نہیں ملے گی۔ اس کے علاوہ ان کی خواہش ہے کہ ان کے خلاف کوئی ایسی کارروائی نہ کی جائے جس سے وہ نا اہل یا گرفتار ہوں۔ ان شرائط کے عوض وہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلیاں نہیں توڑیں گے۔ یعنی عمران خان نے دونوں اسمبلیاں نہ توڑنے کے عوض وفاقی حکومت کو مک مکا کا فارمولا پیش کیا ہے۔ وفاقی حکومت نے جوابی موقف اپنایا ہے کہ وہ آرمی چیف کی توسیع کا قانون ختم کرنے کو تیار ہے لیکن نااہلی اور گرفتاری اس کے ہاتھ میں نہیں کیونکہ یہ فیصلے الیکشن کمیشن اور عدالتوں نے کرنے ہیں لہذا اس بارے کوئی کمٹمنٹ نہیں دی جا سکتی۔ جہاں تک الیکشن کا تعلق ہے تو حکومت کا یہ موقف ہے کہ وہ حکومت کی آئینی مدت پوری ہونے پر ہی کروائے جائیں گے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان کی جانب سے صدر عارف علوی کے ذریعے حکومت کے ساتھ مذاکرات کا بنیادی مقصد اپنے لیے این آر او حاصل کرنا ہے اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ نہ تو وہ سیاست سے نااہل ہوں اور نہ ہی انہیں گرفتار کیا جائے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر علوی کے ذریعے جو بھی گفتگو ہو رہی ہے اس کا بنیادی مقصد ملک کو فوری سیاسی بحران میں مبتلا ہونے سے روکنا ہے کیونکہ اس کا براہ راست اثر ملکی معیشت پر پڑے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت عمران خان کو این آر او دینے کی پوزیشن میں اسلئے نہیں کہ ان کے کیسوں کے فیصلے الیکشن کمیشن اور عدالتوں نے کرنے ہیں جن پر حکومت کا زور نہیں چلتا۔ اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ عمران خان کا سب سے بڑا مسئلہ ان کی ساکھ کا بحران ہے چونکہ وہ آج جو بات کرتے ہیں کل اس سے پھر جاتے ہیں۔ اسی لئے اب انہیں اپنی جان بچانے کے لیے صدر عارف علوی کو مذاکرات کے لئے آگے کرنا پڑا ہے۔ دوسری جانب وہ بار بار اسمبلیاں تحلیل کرنے کی تاریخیں دینے کے باوجود ابھی تک تاریخیں ہی دے رہے ہیں۔ ان کے بارے میں اب عمومی تاثر یہی بن چکا ہے کہ وہ جو بات کرتے ہیں وہ فائنل نہیں ہوتی اور وہ کوئی نہ کوئی گیم کھیل رہے ہوتے ہیں۔
نجم سیٹھی کے بقول سوال یہ ہے کہ جب وہ لانگ مارچ کا خاتمہ کرتے وقت اسمبلیاں توڑنے کا اعلان کر چکے ہیں تو پھر اب تک اس پر عمل درآمد کیوں نہیں ہوا۔ سوال یہ بھی ہے کہ کیا یہ عمران کی جانب سے تاخیری حربے ہیں یا ان کی اتحادی قاف لیگ انہیں ایسا کرنے سے روک رہی ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ عمومی تاثر کے برعکس اب عمران کی مقبولیت کم ہورہی ہے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ 8 ماہ پہلے حکومت سے نکلنے کے بعد سے اب تک اپنا کوئی بھی مقصد حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ نجم سیٹھی نے کہا کہ اب عمران کے پاس آخری کارڈ صوبائی اسمبلیاں توڑنے کا ہے لیکن اسے استعمال کرنے میں بھی وہ آج کل اور پرسوں والا کھیل کھیلے جارہے ہیں۔
دونوں صوبائی اسمبلیاں تحلیل کرنے کے حوالے سے عمران کی جانب سے ابھی تک کوئی تاریخ نہ دینے کی ایک وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ ایسا کرنے سےحکومت کو تحریک عدم اعتماد لانے کا وقت مل جائے گا یا پھر وزیراعلیٰ کو اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے کہا جا سکتا ہے۔ لیکن حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے اور عمران خان اسمبلیاں نہ توڑنے کے بہانے تراش رہے ہیں کیونکہ 65فیصد پاکستان سے اپنی حکومت ختم کرنا ان کے لئے کافی مشکل ہے۔ نجم سیٹھی کے خیال میں عمران کا اسمبلیاں توڑنے کا اعلان صرف دھمکی ہے اور اس حوالے سے اگر انہوں نے فیصلہ کر بھی لیا تو ایسی تاریخ دیں گے جس سے پہلے بہت کچھ ہو جائے۔ انکا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل ہو چکی ہے تاہم اسکی سب سے بڑی ترجیح معاشی بحران کو کنٹرول کرنا ہے،جس کے لیے سیاسی استحکام ہونا ضروری ہے اور عمران وہی استحکام آنے نہیں دے رہے۔
