فوجداری کارروائی کے نتیجے میں عمران کی گرفتاری کا امکان

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی درخواست پر عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس میں فوجداری کارروائی کے آغاز کے عدالتی فیصلے نے سابق وزیراعظم کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے اور اب وہ گرفتاری کے خطرے سے بھی دوچار ہوگئے ہیں۔ اسلام آباد کی مقامی عدالت نے یہ فیصلہ 14 دسمبر کو توشہ خانہ کیس میں الیکشن کمیشن کی درخواست پر دیا۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال نے توشہ خانہ ریفرنس کے معاملے پرفیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ عمران کی جانب سے اپنے ظاہر کردہ اثاثوں میں توشہ خانہ تحائف چھپائے گئے، لہذا بادی النظر میں ان کا ڈکلیئریشن غلط ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عمران خان نے اپنے انتخابی گوشواروں میں تحائف اور ان کی فروخت سے حاصل کردہ رقم کی تفصیلات بھی ظاہر نہیں کیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ عمران خان الیکشن ایکٹ کی دفعہ 174 کےخلاف ورزی کے مرتکب ہوئے، لہذا ان کے خلاف الیکشن کمیشن کی شکایت کو باقاعدہ سماعت کیلئے منظور کیا جاتا ہے۔ آئینی اور قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فوجداری کارروائی کے نتیجے میں عمران خان کو سزا ہو جائے تو وہ تین سے پانچ سال تک کے لئے جیل بھی جا سکتے ہیں۔
اسلام آباد کی مقامی عدالت کے تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عمران 9 جنوری کو ٹرائل کے لیے ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہوں۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے الیکشن کمیشن آف پاکستان توشہ خانہ کیس کے فیصلے میں عمران خان کو ملزم قرار دے چکا ہے۔ توشہ خانہ کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے الیکشن کمیشن نے عمران کو موجودہ اسمبلی سے ڈی سیٹ قرار دیتے ہوئے ’کرپٹ پریکٹسسز‘ کا مرتکب قرار دیا تھا۔ اس کے بعد الیکشن کمیشن نے عمران کے خلاف توشہ خانہ کیس میں فوجداری کارروائی کے لیے کیس سیشن کورٹ کو بھیجا تھا جس نے سابق وزیر اعظم کے خلاف فوجداری کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔
یاد رہے کہ رواں سال اگست میں پی ڈی ایم کے ایم این ایز کی درخواست پر سپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف نے الیکشن کمیشن کو عمران خان کی نااہلی کے لیے ایک ریفرنس بھیجا تھا۔ اس میں کہا گیا تھا کہ عمران نے اپنے اثاثوں میں توشہ خانہ سے لیے گئے تحائف اور ان کی فروخت سے حاصل کی گئی رقم کی تفصیل نہیں بتائی۔ریفرنس کے مطابق عمران نے دوست ممالک سے توشہ خانہ میں حاصل ہونے والے بیش قیمت تحائف کو الیکشن کمیشن میں جمع کروائے گئے اپنے سالانہ گوشواروں میں دو سال تک ظاہر نہیں کیا اور یہ تحائف سال 2020-21 کے گوشواروں میں تب ظاہر کیے گئے جب توشہ خانہ سکینڈل اخبارات کی زینت بن گیا۔ ریفرنس کے مطابق عمران نے توشہ خانہ سے وصول تحائف اثاثوں میں ظاہر نہیں کیے۔ عمران نے تسلیم کیا کہ انھوں نے توشہ خانہ کے تحائف اپنے پاس رکھے۔ سوال یہ ہے کہ عمران خان نے درست وقت میں ان تحائف کو ظاہر نہیں کیا۔‘
یہ ریفرنس رواں برس اگست کے مہینے میں الیکشن کمیشن پہنچا تھا جسکے بعد کمیشن نے اسے پہلی مرتبہ 18 اگست کو سماعت کے لیے مقرر کیا تھا۔ اب تک اس ریفرنس میں الیکشن کمیشن میں پانچ سماعتیں ہو چکی ہیں۔ اس ریفرنس کی وجہ سے عمران کے سر پر بھی آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی کی تلوار لٹک رہی ہے۔ یاد رہے کہ آئین کے اسی آرٹیکل کے تحت سابق وزیراعظم نواز شریف عمر تاحیات پارلیمنٹ سے بے دخل کر دیے گئے تھے۔توشہ خانہ سکینڈل طویل عرصے سے خبروں میں ہے جس کی وجہ یہ الزام ہے کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ سابق خاتون اول بشریٰ بی بی نے توشہ خانے سے سستے داموں تحائف خریدنے کے بعد انھیں بیچ دیا تھا۔یہاں یہ بات اہم ہے کہ توشہ خانہ سے تحائف خریدے جاتے ہیں اور انھیں مکمل قانونی تحفظ حاصل ہے تاہم بعض حلقے یہ ضرور سمجھتے ہیں کہ اخلاقی طور پر تحفہ بیچنا غلط ہے۔ البتہ عمران خان اس بارے میں کہہ چکے ہیں کہ ’میرا تحفہ، میری مرضی۔‘
