اسٹیبلشمنٹ عمران کے ساتھ کھڑے ہونے پر مجبور کیوں ہے؟

سینیٹ چئیرمین کے الیکشن میں پی ڈی ایم کے مشترکہ امیدوار یوسف رضا گیلانی کی شکست کونادیدہ قوتوں یعنی اسٹیبلشمنٹ کی جیت سے تعبیر کیا جا رہا ہے اور کہنے والے تو کہتے ہیں کہ مقتدر قوتوں نے حفیظ شیخ کی ناکامی کا بدلہ لینے کیلئے اپوزیشن کی اکثریت ہونے کے باوجود چئیرمین سینیٹ کے انتخاب میں ان کو شکست دے کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ اصل ووٹ ہمارا ہی ہے جس کو جب بھی جس پلڑے میں ڈال دیں وہی سب سے پر بھاری پڑتا ہے۔ صادق سنجرانی کے دوبارہ چیئرمین سینیٹ منتخب ہونے سے یہ تاثر مزید پختہ ہوتا ہے کہ اپنے دعوؤں کے برعکس فوجی اسٹیبلشمنٹ ابھی تک نیوٹرل نہیں ہوئی اور دل و جان سے کپتان کے ساتھ کھڑی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب تک طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ کا اپوزیشن کے ساتھ کوئی معاملہ طے نہیں ہو جاتا، اس کے پاس عمران کے ساتھ کھڑے ہونے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے۔ دوسری جانب پنجاب کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ نواز بھی اپنے اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ پر ڈٹ کر کھڑی ہے۔ حال ہی میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کی جانب سے مریم نواز کی جان کو درپیش خطرات کے حوالے سے بیان آنے کے بعد بجائے کہ فوجی یا حکومتی ترجمان کسی قسم کی وضاحت جاری کرتے الٹا مریم نواز کی ضمانت کینسل کروانے کے لیے نیب کو آگے لگا دیا گیا۔ اس عمل سے یہ تاثر مزید پختہ ہوا کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ اپنے بار بار کے دعوؤں کے باوجود مکمل طور پر جانبدار ہے اور اپوزیشن مخالف کارروائیوں میں حکومت کا ساتھ دے رہی ہے۔
یوسف رضا گیلانی کے ہاتھوں ڈاکٹر حفیظ شیخ کی سینیٹ الیکشن میں شکست اور چئیرمین سینیٹ میں یوسف رضا گیلانی کی شکست بارے تجزیہ کارنصرت جاوید کہتے ہیں کے حفیظ شیخ شیخ اصل میں ایک روایتی امیدوار نہیں تھے۔ وہ بوسٹن یونیورسٹی کے تعلیم یافتہ ٹیکنوکریٹ ہیں اوعلر عمران خان کی حکومت نہیں بلکہ ریاستِ پاکستان ان کے ذریعے عالمی معیشت کے نگہبانوں سے روابط استوا رکھتی ہے۔ لہازا حفیظ کی شکست سے پیغام یہ گیا کہ عمران خان قومی اسمبلی کی حمایت سے محروم ہو گے ہیں اور حکومت فارغ ہونے والی ہے۔ اس تاثر کی نفی کے لئے عمران خان فوری طورپر 6 مارچ کے دن اپنی اکثریت دکھانے کو مجبور ہوئے جس میں فوجی اسٹیبلشمنٹ نے بھی ان کا بھرپور ساتھ دیا۔ عمران نے اعتماد کا ازسرنو ووٹ لینے سے قبل ہی سنجرانی کو چیئرمین سینٹ کا حکومتی امیدوار بھی ڈیکلیئر کردیا تھا۔
دوسری طرف سنجرانی بھی ایک عام سیاستدان نہیں۔ شاطر سنجرانی بلوچستان کی محرومیوں کے ازالے کے نام پر 2017 میں راتوں رات بنائی گئی بلوچستان عوامی پارٹی کے کلیدی رہ نما ہیں۔ اور سب جانتے ہیں کہ اس جماعت میں شامل افراد کو ریاستی سرپرستی میسر ہے۔ فوجی اسٹیبلشمنٹ کی نرسری میں پروان چڑھنے والے سنجرانی جیسے محب وطن دراصل غدار قرار دیے جانے والے بلوچ علیحدگی پسندوں کے متبادل شمار ہوتے ہیں۔ لہازا سنجرانی چیئرمین سینٹ کے منصب پر واپس نہ لوٹتے تو پیغام یہ بھی جاتا کہ ریاستی سرپرستی ’’محبانِ وطن‘‘ سیاست دانوں کے کام نہیں آرہی۔ اس ممکنہ پیغام کے تدارک کیلئے تحریک انصاف نے ایوانِ بالا کی واحد اکثریتی جماعت ہونے کے باوجود صادق سنجرانی کو اپنا سرکاری امیدوار بنایا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق راولپنڈی کی لال حویلی کے فرزند شیخ رشید نے اسی لیے اس تناظر میں کنفیوژن کی گنجائش بھی باقی رہنے نہیں دی اور ٹی وی کیمروں کے روبرو برملا اعلان کیا کہ سنجرانی ’’ریاستی امیدوار‘‘ ہیں۔ جب سنجرانی کی ’’اہمیت‘‘ اجاگر کردی گئی تو بڑے باپ کے چھوٹے بیٹے شبلی فراز نے بھی لگی لپٹی رکھے بغیر یہ اعلان کردیا کہ سنجرانی کو جتوانے کے لئے ’’ہر حربہ‘‘ استعمال کیا جائے گا۔ ہر حربے کو یقینی بنانے کے لئے چیئرمین سینٹ کے انتخاب سے ایک رات پہلے حکومتی ووٹروں پر نظر رکھنے کے لیے ایوان میں پولنگ بوتھ کے اوپر خفیہ کیمرے لگا دیے گئے۔ اس سے ایک دن پہلے فاٹا سے مرزا آفریدی کو ڈپٹی چیئرمین کا امیدوار نامزد کردیا گیا جو ایک ارب پتی صنعت کار ہیں اور صادق سنجرانی ان کے سفارشی تھے۔ سیاسی جوڑتوڑکی گیم پرویز خٹک کے سپرد کردی گئی۔ آفریدی نے 98 کے ایوان میں 54 افراد کی حمایت واضح انداز میں ثابت کردی۔ طے ہوگیا کہ قومی اسمبلی کی طرح سینیٹ میں بھی تحریک انصاف اور اس کے اتحادی اپوزیشن پر بھاری ہوچکے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا یے کہ آفریدی کی حمایت میں ڈالے گے 54 غیر متنازعہ ووٹ ہی کلیدی پیغام کے حامل ہیں اور واضح طورپر بتارہے ہیں کہ ایوان بالا میں اپوزیشن نشستوں پر براجمان سات افراد حکومت کے ہم نوا بن چکے ہیں۔ اپوزیشن جماعتیں تاہم ان کی نشان دہی کرنے کی مشق میں وقت ضائع نہیں کریں گی۔ وہ ابھی تک ان افراد کا سراغ لگانے میں بھی ناکام رہی ہیں جنہوں نے اگست 2019 میں خفیہ رائے شماری کے دوران سنجرانی کے خلاف پیش ہوئی تحریک عدم اعتماد کو ناکام بنایا تھا۔ گیلانی کے مسترد ہوئے ووٹوں کی بابت عدالت سے رجوع کرنے سے قبل بھی اپوزیشن کو سوبار سوچنا ہوگا۔ عدالر جانے کا عمل سب پر بالادست شمار ہوتے ادارے -پارلیمان- کی نام نہاد خودمختاری کو کمزور بناسکتا ہے۔ فرض کیا عدالت کی جانب سے بالآخر گیلانی کی کامیابی کا فیصلہ آبھی گیا تو آفریدی کو ملے 54 ووٹوں کی اہمیت اپنی جگہ برقرار رہے گی۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ سیاسی عمل بنیادی طورپر کسی بیانیے کی بنیاد پر کھیلاجاتا ہے۔اس کی تشکیل کے لئے سادہ سوال اٹھاتے ہوئے ان کا مؤثر جواب ڈھونڈنے کا تقاضہ ہوتا ہے۔ سینیٹ انتخاب میں مصدق ملک اور مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کمال مہارت سے اپوزیشن جماعتوں کو ایک اہم ترین سوال فراہم کردیا تھا۔ پولنگ بوتھ کا ماہر سراغ رسانوں کی طرح جائزہ لیتے ہوئے انہوں نے ایک نہیں چھ کیمرے ڈھونڈ لئے۔خفیہ طورپر نصب ہوئے ان کیمروں کے ذریعے اس امر کو یقینی بنانے کی کوشش ہوئی کہ بآسانی پتہ چلایا جاسکے کہ کونسے سینیٹر نے کس امیدوار کو ووٹ دیا ہے۔
خفیہ رائے شماری کے آئینی حق کی یوں کھلی تضحیک و توہین ہوئی، لیکن یہ معاملہ گیلانی کی شکست اور سبجرانی کی جیت تلے دبتا نظر آتا یے۔ اپوزیشن جماعتوں کے سنجیدہ اورتجربہ کار لوگوں نے نومنتخب اراکین کے حلف اٹھانے کا عمل عجلت میں مکمل کرنے کو ترجیح دی۔ حلف اٹھالینے کے بعد تاہم اصرار ہونا چاہیے تھا کہ چیئرمین سینٹ کے انتخاب سے قبل ایوان کی بنائی کمیٹی کے ذریعے پتہ چلایا جائے کہ پولنگ بوتھ میں کیمرے کیسے نصب ہوئے تھے۔
کیمروں کی برآمدگی امریکہ میں تین دہائیاں قبل نمودار ہوئے ’’واٹرگیٹ‘‘ جیسا سکینڈل تھی۔ نکسن جیسے طاقت ور ترین اور چین کے ساتھ روابط استوار کرنے کی بنا پر ’’تاریخ ساز‘‘ تصور ہوتے صدرکو اس کی وجہ سے استعفیٰ دینا پڑا تھا۔ ہمارے ہاں نمودار ہوا ’’واٹر گیٹ‘‘ اپوزیشن جماعتوں نے گیلانی کے مسترد قرار پائے سات ووٹوں پر دہائی مچانے کی نذر کردیا ہے۔مختصر یہ کہ چیئرمین سینٹ کے انتخاب کے دوران ’’ریاست‘‘ نے ایک مرتبہ پھر اپنی بھر پور طاقت کا ٹریلر چلادیا ہے اور مستقبل قریب میں اس میں مزید شدت آتی نظر آ رہی ہے۔
