عمران خان کی کچن کابینہ میں کون لوگ اہم ہیں؟

وزیر عظم عمران خان کی حکومتی معاملات میں ناقص فیصلہ سازی اور متعلقہ شعبے کے ماہرین سے عدم مشاورت کی وجہ سے ملکی معیشت اور سیاست تباہی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں۔
کہا جاتا یے کہ عمران خان کی 47 رکنی کابینہ کے اندر ایک چھوٹی سی کچن کابینہ ہے جو تعداد میں کم ہونے کے باوجود باقی سب سے طاقتور ہے اور اہم حکومتی فیصلوں پر اثر انداز ہوتی یے، تاہم حکومت کا ڈیڑھ سال مکمل ہونے تک یہ مختصر سی کابینہ مزید سکڑ چکی ہے اور وزیراعظم کا سیاسی حلقہ مشاورت محدود تر ہوگیا ہے۔ جب تحریک انصاف نے اقتدار سنبھالا تو عمران خان کا حلقہ مشاورت آج کی نسبت خاصا وسیع تھا اور اس میں جہانگیر ترین، نعیم الحق، اسد عمر، زلفی بخاری، مراد سعید اور فواد چوہدری شامل تھے۔ ان میں سے اکثر کو اہم ترین ذمہ داریوں سے بھی نوازا گیا تھا، تاہم جس طرح ماضی میں باقی رہنماؤں کے ساتھ ہوا اسی طرح حکومت میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عمران خان کا مشاورت کا دائرہ بھی مختصر تر ہوتا گیا اور اب اس حلقے میں وہی لوگ باقی بچے ہیں جن کی منظوری کپتان کی اہلیہ پنکی پیرنی نے دی ہے۔
عمران خان کی کابینہ کے ارکان کے ساتھ پس پردہ بات چیت سے معلوم ہوتا ہے کہ آٹے اور چینی کے بحران اور چند دیگر وجوہات کی بنا پر عمران خان اور جہانگیر ترین کے تعلقات میں گرمجوشی قائم نہیں رہی۔ یہ بات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ عمران خان کی اہلیہ بھی جہانگیر ترین کو پسند نہیں کرتیں۔
یاد رہے کہ کئی شوگر ملز کے مالک جہانگیر ترین سال 2011 میں تحریک انصاف میں شامل ہونے کے بعد سے عمران خان کے بہت قریب آ گئے تھے۔ 2018 کے عام انتخابات کے بعد جہانگیر ترین ہی تھے جو اپنے نجی طیارے پر ملک بھر سے کامیاب ہونے والے آزاد امیدواروں کو پی ٹی آئی میں شمولیت کے لیے بنی گالہ لے کر آتے تھے۔
ذرائع کے مطابق کابینہ کے رواں سال جنوری میں ہونے والے اجلاس میں وزیراعظم عمران خان آٹے اور چینی کے بحران کے حوالے سے غصے میں نظر آئے اور انہوں نے کھل کر قیمتوں میں مصنوعی اضافے کے ذمہ دار مافیا اور کارٹلز کے خلاف کارروائی کی بات کی۔ گو کہ حال ہی میں جہانگیر ترین اور عمران خان کے درمیان ایک ملاقات میں برف پگھلی ہے مگر واقفان حال کہتے ہیں کہ دونوں کے باہمی تعلقات کے شیشے میں دراڑ آ چکی ہے۔
اسی طرح الیکشن 2018 کے دوران اور حکومت کے ابتدائی دنوں میں وزیراعظم کے ساتھ ساتھ رہنے والے فواد چوہدری سے بھی کپتان کے فاصلے بڑھ چکے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ فواد کو بھی وزارت اطلاعات سے پنکی پیرنی کے کہنے پر ہٹا کر یہ وزارت ڈسکہ کے پیر بابا کی سفارش پر فردوس عاشق اعوان کو دے دی گئی۔
اسی طرح نعیم الحق وزیراعظم کے سیاسی کیریئر کے آغاز سے لے کر حکومت بننے تک ان کے انتہائی قریب رہے۔ لیکن اب ان کی بھی کپتان سے دوری اور فاصلے بڑھ چکے ہیں۔ نعیم الحق کی حالیہ شدید علالت نے انہیں بھی وزیراعظم کے قریبی حلقہ مشاورت سے نکال دیا ہے۔
اس وقت وفاقی کابینہ میں وزیراعظم کے سب سے قریبی اور معتمد ساتھی لندن سے آئے ہوئے ان کے معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانیز زلفی بخاری سمجھے جاتے ہیں۔ زلفی بخاری جب چاہیں وزیراعظم سے ملنے ان کے آفس یا ان کی رہائش گاہ بنی گالہ آ جا سکتے ہیں۔ اس طرح کی رسائی اب کابینہ میں شاید ہی کسی رکن کے پاس ہو۔ کابینہ کے ایک رکن کے مطابق زلفی بخاری کابینہ اجلاسوں میں آج تک نہیں بولے مگر ان کی طاقت کا اندازہ کابینہ کے ہر فرد کو ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ پاکستان کے ایران سے تعلقات کی بہتری کے لیے بھی زلفی بخاری اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور سعودی عرب کی کپتان سے ناراضی کی ایک بڑی وجہ زلفی بخاری کا یہی کردار ہے۔
کہا جاتا ہے کہ وزیراعظم کی کچن کابینہ میں زلفی بخاری اور مراد سعید سب سے اہم شمار کیے جاتے ہیں۔ لہذا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ان سیانے مشیران کے مشوروں پر چلتے ہوئے وزیراعظم ملک کی قسمت کے جو فیصلے کر رہے ہیں ان کا کیا نتیجہ نکلے گا۔ مراد سعید چونکہ اسمبلی میں چیخیں اچھی نکالتے ہیں لہذا وزیراعظم نے انہیں اب خصوصی ٹاسک سونپے ہیں جیسا کہ اپوزیشن کے حکومت پر حملوں کا جواب دینا اور پارٹی کے اندر بھی عمران خان کے فیصلوں کو سپورٹ کرنا۔ یعنی بنیادی طور پر مراد سعید کا کردار کپتان کے میراثی کا ہے۔ لہذا اگر پنڈ کے چوہدری نے باسیوں کی قسمت کے فیصلے میراثی کے مشورے پر کرنے ہیں تو پھر اس پنڈ کا اللہ ہی حافظ۔…

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button