پاکستان اور سعودی عرب تعلقات میں کشیدگی آگئی

مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر پاکستان اور خلیجی ممالک کے مابین خصوصا سعودی عرب کے ساتھ باہمی اختلافات شدت اختیار کر گئے۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی یقین دہانی پر کوالالمپور سمٹ میں شرکت نہیں کی لیکن اس کے باوجود سعودی قیادت نے او آئی سی کا خصوصی اجلاس بلوا کر کشمیر کے مسئلے پر فوکس کرنے سے پہلو تہی کی جس کے بعد وزیراعظم نے نہ صرف ملائیشیا کا دورہ کیا بلکہ ترک صدر طیب اردوان کو بھی پاکستان آنے کی دعوت دے دی ۔
سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان نے برادراسلامی ممالک سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی قیادت سے مسئلہ کشمیر حل کروانے کے لئے فعال کردار ادا کرنے کی درخواست کی مگر سعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات نے ذاتی مفادات کے پیش نظر ہر مرتبہ لیت و لعل سے کام لیا۔ چند ہفتے قبل جب پاکستان، ملائیشیا اور ترکی نے درپیش مسائل کا حل تلاش کرنے کے لیے کوالالمپور سمٹ بلایا تو ہمیشہ کی طرح سعودی عرب اور متحدہ امارات نے پاکستان سے ناراضی کا اظہار کیا جس کے بعد وزیراعظم عمران خان نے سعودی قیادت کی چند یقین دہانیوں پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مشاورت سے کوالالمپور سمٹ میں نہ جانے کا فیصلہ کیا۔ کپتان نے یہ موقف اختیار کیا کہ اس طرح امت مسلمہ کے تقسیم ہونے کا خدشہ تھا۔
ذرائع کے مطابق کوالالمپورسمٹ کے فوراً بعد امارات اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ نے پاکستان کا دورہ کیا اور یقین دہانی کروائی کہ بہت جلد مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے او آئی سی کے پلیٹ فارم سے کوششیں شروع کی جائیگی اور بھارت پر اس درینہ مسئلے کا حل تلاش کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جائے گا۔ چند روز بعد جب دفتر پاکستانی دفتر خارجہ نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے او آئی سی وزرائے خارجہ کا خصوصی اجلاس بلانے کے حوالے سے بات چیت کی تو دونوں ممالک نے پاکستان کو ناں کہہ دی۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان دو بااثرعرب ممالک کا مؤقف ہے کہ بھارت کے ساتھ ان کے دیرینہ معاشی اورسیاسی تعلقات ہیں لہذا مسئلہ کشمیر کی بنیاد پر یہ دونوں ممالک بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات خراب نہیں کرنا چاہتے۔ اس صورتحال پر کپتان سعودی عرب سے خصوصی طور پر ناراض ہو گئے۔
واضح رہے کہ اسلامی ممالک کے تعاون کی تنظیم یعنی او آئی سی 57 ممالک پر مشتمل ہے اور یہ اقوام متحدہ کے بعد سب سے بڑا عالمی تعاون کا پلیٹ فارم ہے۔ پاکستان سمجھتا ہے کہ اگر او آئی سی کے پلیٹ فارم سے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے آواز اٹھےگی تو پاکستان اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل میں بھی اس حوالے سے اپنا کیس بہتر طریقے سے پیش کر سکے گا، تاہم دوسری جانب سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات اپنے تجارتی مالی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے مسئلہ کشمیر پر مسلسل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ اس کے برعکس ملائیشیا، ترکی اور ایران نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے موقف کی کھل کر حمایت کی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے شکوہ کیے جانے کے بعد سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کو اس حد تک یقین دہانی کروائی کہ او آئی سی کے آئندہ اجلاس میں مسئلہ کشمیر پر بات کی جائے گی اور اس حوالے سے اعلامیہ میں بھی ذکر کیا جائے گا۔ تاہم سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے پاکستان پر یہ واضح کر دیا کہ مسئلہ فلسطین اور دیگر مسائل کو چھوڑ کر خصوصی طور پر مسئلہ کشمیر کے حوالے سے او آئی سی کا خصوصی اجلاس نہیں بلایا جا سکتا۔
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سیاسی قیادت نے عرب ممالک کی سرد مہری کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ اب ملائشیا، ترکی اور ایران کے ساتھ تعلقات بڑھائے جائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ دنوں وزیراعظم عمران خان نے ملائیشیا کا دورہ کیا اور ترک صدر طیب اردوان پاکستان کے دورے پر آرہے ہیں جہاں وہ دوہری شہریت اور71 معاہدوں پر دستخط کے علاوہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے موقف کی سو فیصد تائید کریں گے۔ دوسری جانب ایران نے بھی یہ تجویز دی ہے کہ پاکستان، ملائیشیا ترکی، ایران اور روس مل کر ایک طاقت ور بلاک تشکیل دے سکتے ہیں.
ان حالات میں اب دیکھنا یہ ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پاکستان کا ترکی، ایران اور ملائیشیا کی جانب جھکاؤ دیکھ کر کیا قدم اٹھاتے ہیں کہ جس سے مسئلہ کشمیر اجاگر کیا جائے اور خلیجی ممالک کے بھارت کے ساتھ معاشی تعلقات پر بھی زد نہ آئے۔
