افغانستان کے تمام مسائل کا حل افغان سرزمین سے ہی ممکن ہے

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کا کہنا ہے کہ افغانستان کے تمام مسائل کا حل افغان سرزمین سے ہی ممکن ہے. پاکستان نے اندرونی مسائل کے باوجود 40 سال تک افغان مہاجرین کے لیے اپنے دروازے کھلے رکھے۔
اسلام آباد میں افغان مہاجرین کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کا کہنا تھا پاکستان دنیا میں زیادہ مہاجرین کی میزبانی کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے۔ انتونیو گوتریس نے کہا کہ 40 سال سے افغان عوام مسائل کا شکار ہیں لیکن پاکستان نے اپنے اندرونی مسائل کے باوجود افغان مہاجرین کے لیے مثبت اقدامات کئے، 40 سال پاکستان نے افغان مہاجرین کے لیے اپنے دروازے کھلے رکھے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کا کہنا ہے کہ افغان مسئلے کے تمام حل افغانستان کی سرزمین میں ہی پنہاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری افغانستان کے مسئلے کے حل کے لیے آگے آئے، افغانستان اور اس کے عوام کو اب تنہا نہ چھوڑیں۔
انتونیو گوتریس نے مزید کہا کہ جب بھی انہوں نے پاکستان کا دورہ کیا ہمیشہ افغان بھائیوں کے ساتھ قابل ذکر تعاون دیکھا یہاں تک کہ اس وقت بھی جب عالمی حمایت بہت کم تھی۔ انھوں نے مزید کہا کہ ہم یکجہتی اور ہمدردی کی قابل ذکر کہانی کا اعتراف کرنے کے لیے یہاں جمع ہوئے ہیں، ایسا کرنا اہم ہے کیونکہ یہ کہانی دہائیوں پر محیط ہے۔
قبل ازیں کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے لیے افغانستان میں پائیدار امن بنیادی شرط ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان 40 سال سے 30 لاکھ رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ مہاجرین کی میزبانی کررہا ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ افغان مہاجرین کو اس برس بھی کانفرنس سے بہت سی توقعات وابستہ ہیں، شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کا تعلق مشترکہ مذہب، ثقافت اور اقدار پر قائم ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم آج بھی 30 لاکھ رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ افغان مہاجرین کی میزبانی کررہے ہیں اور یہ کوششیں مہمان نوازی کے اسلامی اصولوں پر مبنی ہیں۔ انہوں نے کہا پاکستان لاکھوں افغان مہاجرین کو صحت، تعلیم اور فنی تربیت کی سہولیات مہیا کرتا آرہا ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان، افغان امن عمل کی حمایت جاری رکھے گا، مہاجرین کی وطن واپسی کے لیے افغانستان میں پائیدار امن بنیادی شرط ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان مہاجرین کی وطن واپسی اور افغانستان معاشرے میں بحالی کے لیے عالمی تعاون کی اشد ضرورت ہے۔
