پاکستان میں اب دہشتگردوں کی کوئی محفوظ پناہ گاہ نہیں

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردوں کے اب کوئی ٹھکانے نہیں ہیں۔پاکستانی قوم اور ادارے افغانستان میں پائیدار امن کے خواہاں ہیں.پاکستان افغان امن عمل کیلئے جو کچھ کرسکتا ہے، کر رہا ہے، اقوام متحدہ مسئلہ کشمیر کے حل میں اپنا کردار ادا کرے.
اسلام آباد میں افغان مہاجرین کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا افغانستان کے عوام امن کے مستحق ہیں اور ہم افغانستان میں امن چاہتے ہیں، دعا ہے کہ افغانستان میں امن مذاکرات کامیاب ہوں کیونکہ افغانستان میں بد امنی کسی بھی طرح پاکستان کے لیے ٹھیک نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 20 سال اقتصادی لحاظ سے پاکستان کے لیے بہت مشکل رہے لیکن ہم نے تمام تر مشکلات کے باوجود لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی جاری رکھی۔ وزیراعظم نے کہا کہ افغان مہاجرین کے بچوں نے پاکستان میں کرکٹ سیکھی، آج افغانستان کی کرکٹ ٹیم عالمی درجہ بندی میں شامل ہوچکی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں اب دہشت گردوں کے کوئی ٹھکانے نہیں ہیں، ہمارے پاس افغان مہاجرین کے درجنوں کیمپ ہیں، ہر کسی کو چیک نہیں کیا جا سکتا۔
بھارت کی موجودہ صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا آج کا بھارت نہرو اور گاندھی کا بھارت نہیں، آج کے بھارت کی آئیڈیالوجی نفرت پر مبنی ہے اور وہاں انتہا پسندانہ سوچ کا غلبہ ہے، بھارت میں شہریت کے متنازع قوانین سے 20 کروڑ مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ نازی ازم کی طرح بھارت میں پروان چڑھتی انتہا پسندی انتہائی خطرناک ہے، اقوام متحدہ بھارت میں انتہاپسند اقدامات کا نوٹس لے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کیا ایک ارب کی آبادی والے ملک کا وزیراعظم اور آرمی چیف اتنے غیر ذمہ دارانہ بیان دے سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی توجہ بھارت کی جانب دلانا چاہتا ہوں، اقوام متحدہ نے بھارت میں اپنا کردار ادا نہیں کیا تو صورت حال بہت سنگین ہو سکتی ہے، بھارت میں نفرت انگیزی کو کنٹرول نہ کیا گیا تو بڑے پیمانے پر خون ریزی ہو سکتی ہے۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ فراخ دلی کا بینک بیلنس سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، پاکستان افغان امن عمل کیلئے جو کچھ کرسکتا ہے، کر رہا ہے، حکومت اور سیکیورٹی فورسز ایک پیج پر ہیں، دعا سے افغانستان میں امن مذاکرات کامیاب ہوں، پاکستانی قوم اور تمام ادارے افغانستان میں پائیدار امن کے خواہاں ہیں۔
یاد رہے کہ اسلام آباد میں پاکستان میں افغان پناہ گزینوں کے 40 سال یکجہتی کے لیے ایک نئی شراکت داری‘ کے عنوان سے پاکستان میں 40 برس سے مقیم افغان مہاجرین کے حوالے سے عالمی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا ہے۔ 2 روزہ عالمی کانفرنس 17 اور 18 فروری کو جاری رہے گی جس میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس اور وزیراعظم عمران خان سمیت اہم ملکی اور عالمی شخصیات شریک ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین ہائی کمشنر فلپوگرینڈی، تقریباً 20 ممالک کے وزرا اوراعلیٰ حکام جو دنیا بھر سمیت پاکستان میں افغان پناہ گزینوں کی مددکررہے ہیں، کانفرنس میں شریک ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button