سرکاری افسران کی ترقی کیلئے اصلاحات پر افسران کا تحفظات کا اظہار

حکومت نے سول افسران کی ترقی کیلئے اصلاحات متعارف کرواتے ہوئے قواعد سخت کر دئیے. ترقی کیلئے پرموشن بورڈ کے اختیارات مزید بڑھاتے ہوئے جہاں مقامی زبان پر دسترس لازمی قرار دی گئی ہے وہیں پرگریڈ 19 میں ترقی کے لیے اپنے صوبے سے باہر پانچ سال تک جبکہ گریڈ 20 میں ترقی کیلئے دو سال سخت علاقوں میں خدمات کی انجام دہی لازمی قرار دی گئی ہے جبکہ اصلاحات کے تحت حکومت کو ناقص کارکردگی کی بنیاد پرسرکاری ملازمین کو 20 سال سروس کے بعد ریٹائر کرنے کا اختیار بھی دیا گیا ہے. دوسری طرف سول افسران نے حکومت کے اصلاحاتی مسودے پر تحفظات کا اظہار کر دیا ہے.
حکومت نے سرکاری افسران کی کارکردگی بہتر کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر اصلاحات کا مسودہ تیار کر لیا ہے۔اس حوالے سے وزیراعظم کے مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات ڈاکٹر عشرت حیسن کا کہنا ہے کہ سول سروس اصلاحات کا مسودہ تیار کر لیا گیا ہے۔ اصلاحات کے مطابق سرکاری ملازمین کی گریڈ 18 سے 21 میں ترقی کے حوالے سے قواعد تیار کیے گئے ہیں۔ نئے قواعد کے تحت ترقی کے لیے معیار کو سخت کر تے ہوئے سرکاری ملازمین پر پہلی بار لازم قرار دیا گیا ہے کہ وہ اپنے اثاثہ جات ظاہر کریں۔ ترقی کے لیے پروموشن بورڈ کے اختیارات بڑھا دیے گئے ہیں اور بورڈ کے پاس امیدواروں کو اب 15 کے بجائے30 فیصد تک نمبرز دینے کا اختیار ہو گا۔ اسی طرح گریڈ 17 اور 18 میں ترقی کے لیے افسران کو متعلقہ صوبے کی زبان پر مناسب عبور حاصل کرنا ہوگا. اسی طرح انہیں اپنے علاقے میں عوامی فلاح کے منصوبے بھی شروع کرنے ہوں گے۔ گریڈ 19 کے افسران کو بیرون ملک سے تعلیم حاصل کرنے کے مواقع فراہم کیے جائیں گے اور پولیس سروس کے گریڈ 19 کے افسران کو انسداد دہشت گردی، انٹیلی جنس، تفتیش، انسداد جرائم اور انتہا پسندی کے حوالے سے تربیت حاصل کرنا ہوگی۔
مسودے کے مطابق حکومت سرکاری ملازمین کو 20 سال سروس کے بعد ان کی ناقص کارکردگی کی بنیاد پر ریٹائر کر سکے گی جس سے مقابلے کی فضا پیدا ہو گی اور اندرونی محاسبے کے تحت نااہل افسران سے جان چھڑائی جا سکے گی۔ مسودے کے مطابق سول سرونٹس ایکٹ کے سیکشن 13 کے تحت سرکاری ملازمین کو بیس سال ملازمت کے بعد مجاز اتھارٹی کے حکم پر ریٹائر ہو جانا ہوتا ہے اور جہاں پر مجاز اتھارٹی کا حکم نہ ہو ملازمین 60 سال کی عمر پوری ہونے پر ریٹائر تصور ہوں گے تاہم ماضی میں 20 سال بعد ریٹائرمنٹ کا اختیار حکومت نے استعمال نہیں کیا تھا۔
دستاویز کے مطابق ماضی کے برعکس اب ہر سرکاری افسر کی پہلی پوسٹنگ اپنے ڈومیسائل کے صوبے سے باہر ہو گی اور گریڈ 19 میں ترقی کے لیے ہر افسر کے لیے لازم ہو گا کہ گریڈ 17 اور 18میں سروس کے دوران اپنے صوبے سے باہر مرد ہونے کی صورت میں پانچ سال اور خاتون کی صورت میں تین سال کام کیا ہو۔ اسی طرح گریڈ 20 میں ترقی کے لیے ہر مرد افسر کے لیے لازم ہو گا کہ اس نے دو سال اسٹیبلشمنٹ کے تعین کردہ سخت علاقوں میں نوکری کی ہو۔ اس وقت تک بلوچستان اور گلگت بلتستان سخت علاقے قرار دیے جا چکے ہیں۔ اصلاحات کے تحت کوئی افسر دس سال سے زائد ایک صوبے یا اسلام آباد میں سروس نہیں کر سکے گا اور دس سال بعد دوسرے صوبے میں ٹرانسفر لازمی ہو گی۔
اصلاحات کے تحت نئے ڈسپلن رولز بھی بنائے گئے ہیں کیونکہ ماضی میں سزاوجزا کا عمل بہت طویل اور غیر موثر تھا۔ نئے نظام کے تحت انکوائری افسر کسی سرکاری ملازم کے خلاف شکایت کی 60 دن کے اندر تحقیق کرے گا اور پھر 30 دن کے اندر مجاز اتھارٹی اس سرکاری ملازم کی قسمت کا فیصلہ کرنے کی پابند ہو گی۔ قصور وار پائے گئے افسران کے خلاف نہ صرف جرمانے کیے جا سکیں گے بلکہ ان کی پرانی سروس بھی ضبط کی جا سکے گی اور مالی بے ضابطگی کی صورت لوٹی گئی رقم بھی واپس لی جائے گی۔
دوسری طرف پولیس سروس کے ایک سینیئر افسر کے مطابق سرکاری افسران کی ترقی کا ایک شفاف نظام ہونا چاہیے جس کے تحت تھرڈ پارٹی امتحان اور انٹرویو کے ذریعے افسران کو جانچا جائے اور ان کی لیڈرشپ کوالٹی، بحران میں قوت فیصلہ اور قابلیت کا جائزہ لے کر انہیں ترقی دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ پروموشن بورڈ کو زیادہ نمبر دینے سے اعلیٰ افسران کے پاس بہت زیادہ اختیارات آ جائیں گے اور سیاسی اثر رسوخ یا رسائی نہ رکھنے والے افسران کی ترقی مشکل ہو جائے گی۔
سندھ سے تعلق رکھنے والے ایک سرکاری افسر نے پروموشن بورڈ کو 30 نمبر دئیے جانے پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اس سے من پسند افسران کو سفارش کی بنا پر ترقی کا راستہ کھل سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افسران کی سالانہ کارکردگی رپورٹ ان کی اہلیت جانچنے کا بہتر طریقہ ہے کیونکہ وہ ان کے ہی سینیئر افسران نے لکھی ہوتی ہے جبکہ بورڈ نے تو امیدواروں کو اپنے سامنے کام کرتے دیکھا ہی نہیں ہوتا۔
