افغانستان کے ضلع نوسے میں جھڑپیں پانچویں روز بھی جاری، مواصلاتی نظام مکمل بند

طالبان نے رات کا کرفیو نافذ کردیا، ٹیلی فون و انٹرنیٹ سروسز بند، وائی فائی ڈیوائسز ضبط اور شہریوں کی نقل و حرکت پر بھی پابندیاں عائد

بدخشان (نیوز ڈیسک) افغانستان کے ضلع نوسے میں طالبان اور مخالف جنگجوؤں کے درمیان جھڑپیں پانچویں روز بھی جاری ہیں، جبکہ علاقے میں سکیورٹی کی صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی ہے۔

مقامی رہائشیوں کے مطابق طالبان نے ضلع میں رات کے اوقات میں کرفیو نافذ کردیا ہے اور تمام ٹیلی مواصلاتی نیٹ ورکس مکمل طور پر بند کردیے گئے ہیں۔ ایک مقامی رہائشی نے تاجکستان کے موبائل انٹرنیٹ نیٹ ورک کے ذریعے بیرونی ذرائع ابلاغ سے رابطہ کیا۔

رہائشیوں کا کہنا ہے کہ طالبان نے ٹیلی فون رابطے منقطع کرنے کے ساتھ ساتھ وائی فائی ڈیوائسز بھی ضبط کرلی ہیں۔ ضلع کے مرکزی علاقے میں اعلان کیا گیا ہے کہ اندھیرے کے بعد کسی بھی قسم کے اجتماع یا نقل و حرکت کی اجازت نہیں ہوگی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

اطلاعات کے مطابق فون کے استعمال اور ٹیلی ویژن دیکھنے سمیت مختلف مواصلاتی ذرائع پر بھی پابندیاں عائد کردی گئی ہیں۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ خوف و ہراس کے باعث شہری دن کے اوقات میں بھی گھروں سے نکلنے سے گریز کررہے ہیں۔

ایک مقامی شخص کے مطابق طالبان کی جانب سے ایک بزرگ شہری کو ضلع کے کلینک میں داخل ہونے سے روکا گیا، جس کے بعد وہ انتقال کرگیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق اس کی نماز جنازہ ادا کی جارہی ہے۔

اس سے قبل ذرائع نے بتایا تھا کہ طالبان کی انٹیلی جنس فورسز نے ضلع کے صحت مرکز کا مکمل کنٹرول سنبھال لیا تھا اور مریضوں سمیت مقامی طبی عملے کو وہاں سے باہر نکال دیا گیا تھا۔

مقامی رہائشیوں کے مطابق جمعہ کی رات سے ہفتے تک ضلع کے مرکزی علاقے کے اطراف کوئی بڑی جھڑپ رپورٹ نہیں ہوئی، تاہم دیگر ذرائع کا کہنا ہے کہ لڑائی شاخ درہ کے علاقے تک پھیل گئی ہے، جہاں جمعہ خان فاتح کی فورسز کا کنٹرول بتایا جاتا ہے۔

ذرائع کے مطابق طالبان نے جمعے سے نوسے میں فاتح کی فورسز پر دباؤ بڑھاتے ہوئے ہزاروں اضافی اہلکار اور بھاری زمینی و فضائی جنگی سازوسامان تعینات کردیا ہے۔

نوسے کے قریبی اضلاع شکے، کوف آب اور میمنے سے بھی مقامی ذرائع نے شہریوں پر دباؤ بڑھنے کی اطلاعات دی ہیں۔ متعدد مقامی افراد کو طالبان کی انٹیلی جنس فورسز کی جانب سے حراست میں لیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

Back to top button