الطاف حسین کی ساری اولاد نافرمان کیوں نکلی؟

خالد مقبول صدیقی کی زیر قیادت متحدہ قومی موومنٹ سے علیحدگی اختیار کرنے والے فاروق ستار اور مصطفیٰ کمال کی دوبارہ اپنی جماعت میں شمولیت کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا صارفین دلچسپ تبصرے کررہے ہیں لیکن سب سے دلچسپ تبصرہ ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین نے کیا ہے۔ لندن سے اپنے بیان میں انکا کہنا تھا کہ آج انہیں بہت دکھ ہوا۔ خدا نہ کرے کل کو ان کی اولاد جوان ہو کر اپنے والد کے ساتھ وہی سلوک کرے جو یہ اپنے روحانی اور نظریاتی باپ الطاف حسین کے ساتھ کر رہے ہیں۔لندن سے صحافی مرتضیٰ شاہ کی ٹوئٹ کی گئی ویڈیو میں الطاف حسین کا کہنا تھا کہ آج سے انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ آئندہ حلفِ وفاداری قرآن پر نہیں لیا جائے گا کیونکہ بعد میں جب لوگ بدل جاتے ہیں تو اس سے بڑا دکھ ہوتا ہے۔
واضح رہے کہ 2016 میں پہلے مصطفی کمال نے علیحدہ جماعت پاک سرزمین پارٹی کے نام سے قائم کرکے نہ صرف ایم کیو ایم سے راستے الگ کرلیے تھے بلکہ بانیٔ ایم کیو ایم پر سنگین الزامات بھی عائد کیے تھے۔اسی طرح اگست 2016 میں الطاف حسین کی متنازع تقریر کے بعد اس وقت پارٹی کے کنونیر فارق ستار نے ان کے بیانات سے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا۔ ایم کیو ایم میں فاروق ستار کی شمولیت اور پاک سرزمین پارٹی کے انضمام پر تبصرہ کرتے ہوئے تحریکِ انصاف کے رہنما فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ کراچی کے سارے صفر مل کر سمجھتے ہیں کہ وہ 100ہوجائیں گے۔اپنے ٹوئٹ میں ان کا کہنا تھا کہ انہیں یہ بنیادی اصول پتا ہی نہیں کہ صفر جتنے مرضی جمع کرلیں نتیجہ صفر ہی ہوگا۔ متحدہ ایم کیو ایم کی پریس کانفرنس پر صحافی مبشر زیدی نے بھی "صفر جمع صفر برابر صفر” لکھ کر تبصرہ کیا۔ تجزیہ کار ضیغم خان نے پریس کانفرنس کی تصویر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ۔”بھائی لوگ خوشی کے موقعے پر اتنے اداس کیوں ہیں؟”
12 جنوری کی پریس کانفرنس کے دوران فاروق ستار نے متعدد بار ایم کیو ایم میں اپنی اور مصطفیٰ کمال کی شمولیت کو ’ری برینڈڈ ایم کیو ایم‘ سے تعبیر کیا۔ اس پر صحافی ضرار کھوڑو نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ انہیں یقین نہیں کہ نئی ایم کیو ایم نتائج حاصل کرنے میں کامیاب ہوگی۔ ایک اور صحافی وجاہت ایس خان نے پریس کانفرنس کی تصویر اس تبصرے کے ساتھ شیئر کی اور تبصرہ کیا : "بھائی لوگ پھر بھائی بھائی بن گئے ہیں۔” ان کا کہنا تھا کہ وہ آخری مرتبہ مصطفیٰ کمال سے ملے تھے تو انہوں نے ان سب لوگوں پر ’را‘ سے تعلق کا الزام عائد کیا تھا۔ ان کے بقول، یہ شرم اور منافقت کی بات ہے۔ کراچی اس سے بہتر کا مستحق تھا۔
ٹوئٹر صارف جنید رضا زیدی نے ایم کیو ایم کے رہنماؤں کی پریس کانفرنس کے بارے میں لکھا: "اچھا لگا بہت اچھا لگا۔ خوف کا بت ٹوٹنا چاہیے امید ہے جلد وہ سب ہوگا جو دیوانوں کا خواب ہے۔” فرحان دانش نے سیاسی صورت حال پر شاعرانہ تبصرہ کرتے ہوئے لکھا:” متحدہ کے ساتھ رابطہ استوار رکھ، پیوسہ رہ شجر سے امید بہار رکھ۔” صحافی فیض اللہ خان نے کراچی میں ہونے والی اس سیاسی پیش رفت پر تبصرہ کیا کہ مصطفی کمال کی صورت میں ایم کیو ایم کو میئر کا چہرہ مل گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ایس پی کی تنظیمی طاقت ایم کیو ایم کے لیے فائدہ مند رہے گی۔ فاروق ستار بھی اچھی نمائندگی کر یں گے مگر الطاف حسین کی اپیل بائیکاٹ۔ ایم کیو ایم کے رہنماؤں کی جانب سے پیپلز پارٹی پر تنقید کے بارے میں ایک صارف ملیحہ منظور کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کو اس لیے نشانہ بنایا جارہا ہے کہ وہ واحد جماعت ہے جو کارکردگی کے ریکارڈ کے ساتھ میدان میں اتر رہی ہے۔ پریس کانفرنس کے دوران ایم کیو ایم میں شمولیت کا اعلان کرنے والے رہنماؤں کےبعض فقروں پر بھی صارفین تبصرے اور انہیں ری شیئر کررہے ہیں۔ خاص طور پر مصطفی کمال کے اس جملے کو : ’’ذرا سا لوگ اس شہر میں شریف کیا ہوئے کہ پورا شہر ہی بدمعاش ہوگیا۔‘‘ کئی صارفین نے دل چسپ ردعمل کےساتھ شیئر کیا۔
اس کے علاوہ پریس کانفرنس کے دوران ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار کے کرکٹر سرفراز احمد سے متعلق تبصرے پر ارفع فیروز خان نے یہ تبصرہ کیا کہ ان کا یہ کہنا ہے کہ سرفراز کی واپسی سے پاکستانی کرکٹ کی عزت بحال ہوئی ہے، یہ نیکسٹ لیول کی کمپین لگتی ہے۔ ٹوئٹر پر وسیم عباسی نے فاروق ستار کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ’’سرفراز دھوکہ نہیں دیتا اس نے دھوکہ کھایا ہے۔ مطلب محمد رضوان اب ٹیم میں نہیں ہوگا؟‘‘
