امریکا کا چین کیخلاف وسیع پیمانے پر پابندیاں عائد کرنا سفارتی طور پر مشکل ہوگا: مارک فائیفل

ایران سے خام تیل خریدنے والے چینی خریداروں پر ثانوی پابندیاں آخری آپشن کے طور پر استعمال کی جاسکتی ہیں، سابق امریکی قومی سلامتی عہدیدار

واشنگٹن: چین پر پابندیوں کے معاملے پر امریکی مؤقف

امریکا کے سابق قومی سلامتی عہدیدار مارک فائیفل کا کہنا ہے کہ امید ہے امریکا کو ایران سے خام تیل خریدنے والے چینی خریداروں پر ثانوی پابندیاں عائد کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

عرب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی محکمۂ خزانہ اس اختیار کو اپنے پاس محفوظ رکھیں گے اور ضرورت پڑنے پر اسے استعمال کیا جاسکتا ہے۔


چین کیخلاف وسیع پابندیاں سفارتی طور پر مشکل

مارک فائیفل کے مطابق بیجنگ کے خلاف وسیع پیمانے پر پابندیاں عائد کرنا سفارتی طور پر ایک مشکل فیصلہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ امریکا اور چین کی معیشتیں اب بھی ایک دوسرے سے گہری طرح جڑی ہوئی ہیں، جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور اقتصادی تعلقات کسی بھی بڑے پابندیوں کے فیصلے کو پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔


امریکا چین کو متبادل ذرائع سے تیل خریدنے پر آمادہ کرنے کا خواہاں

سابق امریکی قومی سلامتی عہدیدار کے مطابق فی الحال امریکا کی کوشش ہے کہ چین کو ایران کے بجائے دیگر ذرائع سے خام تیل خریدنے پر آمادہ کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن فوری طور پر وسیع پابندیوں کی طرف جانے کے بجائے پہلے سفارتی اور اقتصادی ذرائع کے ذریعے بیجنگ پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کرسکتا ہے۔


چینی ریفائنریاں رعایتی نرخوں پر ایرانی تیل خرید رہی ہیں

مارک فائیفل نے کہا کہ چینی ریفائنریاں پابندیوں کی زد میں موجود ایرانی خام تیل کو رعایتی نرخوں پر خرید رہی ہیں۔

ان کے مطابق کم قیمت پر ایرانی تیل کی خریداری سے چینی ریفائنریوں کو عالمی مارکیٹ میں اپنے حریفوں کے مقابلے میں معاشی فائدہ حاصل ہو رہا ہے۔


بیجنگ پر تہران کی مدد کا الزام

سابق امریکی عہدیدار کا کہنا تھا کہ بیجنگ نے واشنگٹن کی مدد کرنے میں کوئی خاص دلچسپی ظاہر نہیں کی۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ غالب امکان ہے چین خاموشی سے تہران کی مدد کر رہا ہے، جبکہ وہ اپنی طویل مدتی حکمت عملی کے تحت علاقائی اور عالمی صورتحال کو دیکھ رہا ہے۔


چین کی طویل مدتی حکمت عملی

مارک فائیفل کے مطابق چین طویل المدتی حکمت عملی پر عمل کر رہا ہے اور اسے اس بات پر اعتراض نہیں کہ امریکا ایران سے متعلق جاری کشیدگی اور دیگر بین الاقوامی محاذوں میں مصروف رہے۔

ان کے مطابق عالمی طاقتوں کے درمیان جاری کشیدگی مستقبل میں امریکا، چین اور ایران کے تعلقات پر مزید اثر انداز ہوسکتی ہے۔


شی جن پنگ اور ڈونلڈ ٹرمپ کی متوقع ملاقات

واضح رہے کہ چین کے صدر شی جن پنگ کی 24 ستمبر کو واشنگٹن ڈی سی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات متوقع ہے۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں امریکا اور چین کے باہمی تعلقات سمیت عالمی اور اقتصادی امور پر گفتگو کیے جانے کا امکان ہے۔

Back to top button