امریکہ میں سیاہ فام کے قتل پر ملک گیر نسلی فسادات بے قابو

امریکہ میں ایک نہتے سیاہ فام شخص کی ایک سفید فام پولیس افسر کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد ملک گیر نسلی فسادات چھڑ گئے ہیں اور 25 سے زائد ریاستوں میں کرفیو نافذ کردیا گیا ہے لیکن ہنگامہ آرائی رکنے کا نام نہیں لے رہی اور مظاہرین اب وائٹ ہاؤس کا گھیراؤ کیے بیٹھے ہیں لیکن اس سنگین صورتحال میں بھی امریکی صدر ٹرمپ نے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ بیان داغ دیا ہے کہ اگر مظاہرین نے وائٹ ہاؤس میں گھسنے کی کوشش کی تو ان پر خونخوار کتے چھوڑ دئیے جائیں گے۔
یاد رہے کہ ایک سفید فام سابق پولیس افسر ڈیرک چاؤن پر ایک 46 سالہ سفید فام امریکی جارج فلائیڈ کو قتل کرنے کا الزام ہے۔ ھنگاموں کی وجہ بننے والے مقتول امریکی کے وکلا کا الزام ہے کہ گورے پولیس والے نے جان بوجھ کر اسے قتل کیا کیونکہ وہ ایک سیاہ فام تھا۔ ڈیرک چاؤن پر تھرڈ ڈگری قتل کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ مقتول کے وکیل بینجمن کرم کا کہنا تھا کہ قاتل پولیس والے نے نو منٹ تک اس بے قصور شخص کی گردن پر اپنا گھٹنا رکھا، جبکہ وہ مسلسل سانس لینے کی بھیک مانگ رہا تھا اور منت سماجت کر رہا تھا۔
پولیس اہلکار ڈیرک چاؤن کو فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اس نے کئی منٹ تک مقتول فلائڈ کی گردن پر اپنے گھٹنے ٹکائے رکھا، تب بھی جب فلائڈ نے اسے بتایا کہ وہ سانس نہیں لے پا رہا۔ اس قتل کے بعد سے ملک بھر میں ہنگامے پھوٹ پڑے ہیں اور سیاہ فام امریکی سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ اس افسوسناک واقعے کی تفصیل کے مطابق پولیس کو پڑوس کے ایک گروسری سٹور کا فون آیا جس میں یہ الزام لگایا گیا تھا کہ جارج فلائیڈ نے 20 ڈالر کے جعلی نوٹ کے ساتھ ادائیگی کی ہے۔
اس فون کال کے نتیجے میں پولیس موقع پر پہنچ گئی اور گورے افسر نے سیاہ فام امریکی کو زمین پر گرا کر اسکی گردن پر گھٹنا رکھ دیا۔
اب تک کی تحقیقات کے مطابق فلائیڈ کو یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ وہ جس 20 ڈالر کی رقم سے خریداری کر رہا ہے وہ نوٹ جعلی ہے۔ اس نے پولیس والے کو بھی یہی بتایا لیکن وہ نہ مانا اور گرفتاری پر مصروف ہوگیا۔ اس واقعے کی ویڈیو میں فلایئڈ کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ اس کی گردن سے گھٹنا اٹھا کر اسے سانس لینے دیا جائے کیونکہ اسکا سانس بند ہو رہا یے۔ بعد ازاں اسی ویڈیو فوٹیج میں سیاہ فام امریکی کو "مجھے مت مارو” کہتے ہوئے بھی سنا جا سکتا ہے۔
ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق پولیس افسر نے فلائیڈ کی گردن پر آٹھ منٹ 46 سیکنڈ تک گھٹنے ٹیکے تھے۔ اس دوران تقریباً تین منٹ بعد فلائیڈ بے سدھ ہو گیا تھا لیکن ظالم پولیس والے نے اس کی گردن سے پھر بھی گھٹنا نہیں اٹھایا۔ پولیس افسر چاؤن کے گھٹنا ہٹانے سے تقریباً دو منٹ قبل دوسرے پولیس افسران نے فلائیڈ کی دائیں کلائی کو نبض کے لیے چیک کیا اور وہ اسکے دل کی دھڑکن تلاش کرنے میں ناکام رہے۔ تاہم پولیس والے نے دو منٹ اور بھی گھٹنا اس کی گردن پر ہی رکھا۔
بعد میں اسے اسپتال لے جایا گیا اور ایک گھنٹے بعد مردہ قرار دے دیا گیا۔ لیکن چاؤن کے خلاف فوجداری شکایت میں شامل ابتدائی پوسٹ مارٹم میں ’ گلا گھونٹنے‘ کے ثبوت نہیں ملے کیونکہ اس کی گردن کو گھٹنے کے ذریعے پچھلی جانب سے دبایا گیا تھا۔ طبّی معائنہ کار کے جائزے کے مطابق فلائیڈ کا دل بند ہونا اس کی موت کی وجہ بنا۔
تاہم فلائیڈ کا دل کیا بند ہوا امریکہ کے 25 بڑی شہروں اور 12 ریاستوں میں کاروبارزندگی بھی بند ہوگیا۔ ملک بھر میں جاری ہنگاموں نے اب نسلی فسادات کی صورت اختیار کرلی ہے اور سیاہ فام امریکی سفید فام امریکیوں اور ان کی کاروبار پر حملہ آور ہیں۔
دارالحکومت واشنگٹن میں بھی سینکڑوں مظاہرین نے محکمہ انصاف کی عمارت کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا اور ’سیاہ فاموں کی جانیں اہم ہیں‘ کے نعرے لگائے، جس کے بعد متعدد افراد وائٹ ہاؤس پہنچ گئے جہاں انہیں بھاری تعداد میں شیلڈز پکڑے پولیس اہلکاروں کا سامنا ہے۔ اس ضمن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر لیفیٹ اسکوائر پر جمع ہونے والے مظاہرین نے وائٹ ہاؤس کے پار جنگلے کو توڑنے کی کوشش کی تو ’ان کا استقبال اس طرح کے خطرناک ترین کتوں اور پر آشوب ہتھیاروں سے کیا جائے گا جو انہوں نے شاید ہی کبھی دیکھے ہوں‘۔ انھوں نے اپنے ٹیلی ویژن خطاب میں کہا کہ میں ناراض ہجوم کو غلبہ حاصل کرنے کی اجازت نہیں دوں گا۔ ایسا نہیں ہوگا۔‘
