ملک ریاض کی ڈیل کی کوشش ناکام، بیٹیوں کی ضمانت کروانا پڑی

ملک ریاض کی اداکارہ عظمیٰ خان کے ساتھ سیٹلمینٹ کی تمام تر کوششیں ناکام ہونے کے بعد انہیں اپنی دونوں بیٹیوں کی ضمانت کے لیے عدالت سے رجوع کرنا پڑگیا جس نے پولیس کو عنبر ملک، پشمینہ ملک اور غنڈہ گردی کرنے والی تیسری خاتون آمنہ عثمان ملک کو 15 جون تک گرفتار کرنے سے روکنے کے عبوری احکامات جاری کر دئیے ہیں۔
ایڈیشنل سیشن جج فرخ حسین نے یکم جون کو پچاس پچاس ہزار روپے کےمچلکوں کے عوض ان تین خواتین کی عبوری درخواست ضمانت منظور کی۔ درخواست میں تینوں خواتین کا موقف تھا کہ وہ بے قصور ہیں اور ان کے خلاف مقدمہ حقائق کے بر عکس درج کیا گیا ہے۔
اس سے قبل لاہور کی ایک اور عدالت نے عظمی خان اور اس کی بہن ہما خان کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے کے الزام میں ملک ریاض کی بیٹیوں کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے تھے۔ پولیس نے اداکارہ و ماڈل عظمیٰ خان کی درخواست پر مقدمہ درج کر کے ملزموں کے وارنٹ گرفتاری کے حصول کیلیے درخواست دائر کی، جس پر کینٹ کچہری کے جوڈیشل مجسٹریٹ غلام شبیر سیال نے آمنہ عثمان، پشمینہ ملک اور عنبر ملک کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے تھے۔ واضح رہے کہ اس مقدمے میں زخمی کرنے کی دفعات بھی شامل ہیں۔
یہ مقدمہ تب درج ہوا جب پاکستانی سوشل میڈیا پر کچھ ویڈیو وائرل ہونا شروع ہوگئیں جو کہ ملک ریاض کی ایک رشتہ دار خاتون نے اس وقت تیار کی تھیں جب اس نے بحریہ ٹاؤن کے چیئرمین کی دو بیٹیوں پشمینہ اور عنبر کے ساتھ اداکارہ عظمی خان کے لاہور میں گھر پر حملہ کیا۔ وائرل ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تین خواتین مسلح محافظوں کے ہمراہ اداکارہ ’عظمیٰ خان کے گھر‘ داخل ہوتی ہیں اور انھیں اور ان کی بہن کو تشدد کا نشانہ بنانے کے علاوہ گھریلو سامان کی توڑ پھوڑ کی جاتی ہے۔ پہلی ویڈیو میں اداکارہ عظمیٰ خان اور ان کی بہن ہما خان سے ایک خاتون کو بظاہر اپنے شوہر عثمان کے ساتھ مبینہ تعلقات کے متعلق سوالات کرتے سُنا جا سکتا ہے۔ سوال کرنے والی خاتون اس ویڈیو میں خود نظر نہیں آ رہی ہیں۔ اس ویڈیو کے بعد اس مبینہ واقعے سے جڑی مزید ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر منظر عام پر آئیں، جس کے بعد عظمیٰ خان نے الزام لگایا کہ ملک ریاض کی بیٹیوں نے اپنے گارڈز کے ساتھ زبردستی ان کے گھر میں گھس کر توڑ پھوڑ کی، انھیں تشدد کا نشانہ بنایا اور ہراساں کیا۔
اس سے قبل لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عظمیٰ خان کے وکیل میاں علی اشفاق نے بتایا تھا کہ ان کی مؤکلہ اور عثمان ملک کا گذشتہ دو برس سے تعلق تھا اور وہ عظمیٰ سے شادی کرنا چاہتے تھے لیکن دسمبر 2019 میں عظمیٰ خان کی جانب سے اس رشتے کو ختم کر دیا گیا لیکن اس کے باوجود عثمان ملک ان کی مؤکلہ سے رابطہ کرتے رہے۔ اس پریس کانفرنس میں عظمیٰ خان نے عثمان ملک کی اہلیہ آمنہ عثمان کے اس دعوے کی تردید کی کہ وہ پہلے بھی انھی کئی بار وارننگ دے چکی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ان کی آمنہ عثمان سے پہلی ملاقات اس وقت ہوئی جب انھوں نے ان کے گھر پر دھاوا بولا۔ عظمیٰ کا کہنا تھا کہ اس سے قبل نہ ان کی آمنہ عثمان سے ملاقات ہوئی اور نہ ہی کبھی فون پر بات کی۔ عظمیٰ خان نے دعویٰ کیا کہ عثمان ملک انھیں ابھی بھی میسج اور فون کال کر رہے ہیں اور وہ عدالت میں بھی یہ بات ثابت کریں گی۔
عظمیٰ خان کے وکیل نے پریس کانفرنس میں یہ بھی بتایا تھا کہ مذکورہ گھر کی ملکیت عثمان خان کے نام نہیں اور نہ ہی کرایہ نامہ ان کے نام ہے۔ انھوں نے بتایا کہ گھر کے مالک بابر نسیم ہیں جو عثمان ملک کے رشتہ دار نہیں ہیں بلکہ عظمیٰ کے قریبی دوست ہیں۔ اداکارہ اور ماڈل خان عظمیٰ خان کے وکیل میاں علی اشفاق نے کہا ہے کہ ان کی مؤکلہ کو جان کا خطرہ ہے لہذا حکومت انھیں فوری طور پر سکیورٹی فراہم کرے۔ ایک سوال کے جواب میں، کہ وہ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں گھر پر دھاوا بولنے والی خواتین سے کس چیز کی معافی مانگ رہی تھیں، عظمیٰ خان نے کہا کہ ان لوگوں نے ان پر بندوق تان رکھی تھی، اس لیے وہ ان سے معافی مانگ رہی تھیں۔
عظمی خان کی اس پریس کانفرنس کے بعد مبینہ طور پر ملک ریاض نے ان کے ساتھ سیٹلمینٹ کی کوششوں کا آغاز کیا۔ ملک ریاض نے ان کو ہرجانے کے طور پر رقم ادا کرنے کی آفر بھی کی لیکن عظمی کا مطالبہ ہے کہ پہلے ان کی بیٹیاں اور ان کے رشتہ دار خاتون باقاعدہ طور پر دنیا کے سامنے ان سے معافی مانگے اور اپنے الزامات واپس لیں تب ہی کوئی سیٹلمینٹ ہو سکتی ہے۔ لیکن ابھی تک اس حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی تھی جس کے بعد ملک ریاض کو اپنی بیٹیوں کو گرفتاری سے بچانے کے لئے ان کی ضمانت کروانا پڑ گئی۔
