امریکہ کا کشمیر میں انٹرنیٹ بندش پر اظہار تشویش

امریکہ نے بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں جاری حراست اور 150 دنوں سے زائد عرصے سے انٹرنیٹ کی بندش پر تشویش کا اظہار کر دیا۔
Closely following @USAmbIndia & other foreign diplomats’ recent trip to Jammu & Kashmir. Important step. We remain concerned by detention of political leaders and residents, and Internet restrictions. We look forward to a return to normalcy. AGW
— State_SCA (@State_SCA) January 11, 2020
اعلیٰ امریکی سفارتکار برائے جنوبی ایشیائی امور ایلس ویلز نے باہمی مذکرات کے لیے بھارت کا دورہ کرنے سے ایک روز قبل امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے آفیشل ٹویٹر سے کی جانیوالی ٹوئٹ میں لکھا گیا کہ امریکی اور دیگر غیر ملکی سفیروں کے دورہ جموں کشمیر کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں، جو ایک اہم قدم ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں رہائشیوں اور سیاسی رہنماؤں کی حراست اور انٹرنیٹ پر پابندیوں کے حوالے سے تشویش ہے،ہم صورتحال دوبارہ نارمل ہونے کے منتظر ہیں۔
ایلس ویلز 3 روزہ دورے پر 15 جنوری کو نئی دہلی پہنچیں گی جس میں وہ سینئر بھارتی حکام کے ساتھ باہمی اور علاقائی معاملات پر تبادلہ خیال کریں گی، جس کے بعد وہ 19 جنوری سے اسلام آباد کا 3 روزہ دورہ کریں گی۔
یاد رہے کہ جمعرات کے روز مودی حکومت نے نئی دہلی میں موجود کچھ سفیروں کے لیے مقبوضہ وادی کے ’گائیڈڈ ٹور‘ کا انتظام کیا تھا جو بھارت کی جانب سے اس خطے کی خود مختار حیثیت چھیننے کے بعد پہلا اس طرح کا دورہ تھا۔یورپی یونین کے سفرا نے اس دورے میں شمولیت کی دعوت ٹھکرا دی تھی جس کی وجہ اس دورے کے دوران کشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ سے ملاقات نہ کروانا تھی جو مسلسل زیر حراست ہیں۔تاہم بھارت میں تعینات امریکی سفیر کینتھ جسٹر گروپ میں شامل ہوئے جنہوں نے بھارتی سیکیورٹی سروسز کے منتخب کردہ صحافیوں، سیاستدانوں اور فوجی عہدیداران سے ملاقات کی۔
بھارت کے اس دورے کا مقصد اپنے اس دعوے کی حمایت کرنا تھا کہ کشیدگی کا شکار خطے میں صورتحال معمول کے مطابق ہے جہاں اگست سے نافذ محاصرے کے باعث زندگی مفلوج ہے کیوں کہ حکام نے سورج کے غروب ہونے سے لے کر طلوع ہونے تک کرفیو جاری رکھا ہوا ہے۔اس کے علاوہ بھارتی حکومت نے سوشل اور روایتی میڈیا پر بھی پابندیاں عائد کی ہوئی ہیں جس کی اس سے قبل کوئی مثال نہیں ملتی جبکہ موبائل فون روابط بھی منقطع ہیں۔بھارتی سکیورٹی فورسز نے سینئر سیاستدانوں سمیت سیکڑوں کشمیریوں بھی حراست میں لیا تھا جس میں اکثریت اب بھی قید میں ہیں اور انٹرنیٹ بھی معطل ہے۔
