پی ٹی ایم جلسے کا مین سٹریم میڈیا پر بلیک آؤٹ کیوں؟
پارلیمنٹ میں آرمی ترمیمی ایکٹ کی مخالفت کے بعد پشتون تحفظ موومنٹ کو بنوں میں ہونے والے کامیاب عوامی جلسے کے بلیک آؤٹ کا سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کا دباؤ تھا۔ تاہم سوشل میڈیا پر جہاں جلسے کی خبریں آیئں وہیں شرکا کی کثیر تعداد اور ان کے مطالبات بھی سامنے آئے۔
یاد رہے کہ پی ٹی ایم سے تعلق رکھنے والے اراکین قومی اسمبلی علی وزیر اور محسن داوڑ نے پچھلے ہفتے آرمی ترمیمی ایکٹ کو قانونی شکل دینے کی کوششوں کی مخالفت کرتے ہوئے پارلیمنٹ کے اندر بل کا مسودہ پھاڑ کر سپیکر کے ڈائس پر پھینک دیا تھا اور ایوان سے واک آؤٹ کر گئے تھے۔ اس واقعے کے چند روز بعد ہی پی ٹی ایم نے بنوں میں 12 جنوری کے روز ایک عوامی جلسے کا انعقاد کیا جس کا مین سٹریم میڈیا نے مکمل طور پر بائیکاٹ کیا۔
یاد رہے کہ جب علی وزیر اور محسن داوڑ ایوان میں آرمی ترمیمی ایکٹ بل کا مسودہ پھاڑ کر پھینک رہے تھے تو پاکستان ٹیلی ویژن کو اپنی نشریات وقتی طور پر معطل کرنا پڑیں۔ بالکل اسی طرح پی ٹی ایم کے جلسے کا بھی مین سٹریم میڈیا پر بلیک آوٹ کیا گیا کیونکہ اسٹیبلشمنٹ کے کھاتوں میں پشتون تحفظ موومنٹ ایک ملک دشمن جماعت ہے۔
جلسے کے حوالے سے پی ٹی ایم کے حامیوں نے ٹوئٹر پر جلسہ گاہ کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کیں اور اپنی سپورٹ کا اظہار کیا۔ جبکہ جلسے کی مخالفت میں بھی کئی ٹرینڈ دیکھنے میں آئے جو کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ایما پر چلائے جا رہے تھے تاکہ پی ٹی ایم کو ایک دھشت گرد تنظیم ثابت کیا جا سکے۔
ٹویٹر پر صارفین نے میڈیا کی جانب سے پی ٹی ایم جلسے کو کوریج نہ دینے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ دوسرے فریق سے جتنا بھی اختلاف ہو اس کی بات سننا اور عوام تک پہنچانا بہت ضروری ہے اور میڈیا پر کسی بھی جماعت کے جلسے کا بلیک آؤٹ آئین پاکستان کی خلاف ورزی ہے۔ ایک ٹویٹر صارف کا کہنا تھا کہ پی ٹی ایم کو میڈیا کوریج سے محروم کرنے اور اس کے خلاف پروپیگنڈا کرنے کے بجائے، پاکستان کی طاقت کے مرکز کو اپنے آپ سے سوال کرنا چاہیے کہ چھوٹے صوبوں کے لوگوں کو جنگ اور معاشی استحصال کے علاوہ اس وفاق سے کیا حاصل ہوا؟ اس نے شرکاء سے کھچا کھچ بھری جلسہ گاہ کی تصاویر شئیر کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا کی جانب سے بلیک آوٹ اور کارکنان کی گرفتاریوں کے باوجود لوگوں کی اتنی بڑی تعداد بہت متاثرکن ہے۔ یہ ہوتی ہے اصل مسائل اجاگر کرنے کی طاقت۔
ایک اور صارف نے بھی جلسے میں شریک لوگوں کی بڑی تعداد کو سراہتے ہوئے لکھا کہ پی ٹی ایم یہاں رہنے کے لیے ہے۔
جبکہ پی ٹی ایم کے جلسے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ایک ٹوئٹر صارف کا کہنا تھا کہ پی ٹی ایم کافی عرصے سے خاموش تھی خاص طور پر محسن داوڑ اور علی وزیر کی ریاست کے خلاف اکسانے پر گرفتاری اور خیبر پختونخوا میں انتخابات میں شکست کے بعد اس کا دوبارہ سے حرکت میں آنا ایک خطرے کی گھنٹی ہے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ سب سے بڑاخطرہ وہ ریاستی رویہ ہے جس کے تحت مخالف سیاسی آوازوں کو دبا دیا جاتا ہے۔
پشتون تحفظ موومنٹ کے جلسے سے منظور پشتین اور قبائلی اضلاع کے اراکین قومی اسمبلی علی وزیر اور محسن داوڑ نے خطاب کیا۔ جلسہ 12 جنوری کو بنوں کے منڈان پارک میں منعقد کیا گیا جس میں شمالی اور جنوبی وزیرستان، پشاور اور خیبرپختونخوا کے دیگر اضلاع سے عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ واضح رہے کہ پشتون تحفظ موومنٹ حقوق پر مبنی اتحاد ہے جو سابق قبائلی علاقوں سے بارودی سرنگوں کے خاتمے کے مطالبے کے علاوہ ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں اور غیر قانونی گرفتاریوں کے خاتمے پر زور دیتی ہے اور ایسا کرنے والوں کے خلاف ایک سچے اور مفاہمتی فریم ورک کے تحت ان کے محاسبے کا مطالبہ کرتی ہے۔ جلسے کے دوران پی ٹی ایم کی قیادت نے پختون رہنماؤں کو پشتون تحفظ مومنٹ میں شمولیت کے لیے رضامند کرنے کے لیے جرگے کی تشکیل کا اعلان کیا تاکہ اس کے کاز کو مضبوط کیا جاسکے اور مشترکہ طور پر پختونوں کے حقوق کے لیے جدوجہد کی جائے۔
