امریکہ کو ایئربیس دینے سے چین کی ناراضی کا خدشہ

امریکہ کے افغانستان سے مجوزہ انخلا کے تناظر میں حالیہ پاک امریکہ قربتوں کی اصل وجہ امریکہ کی جانب سے پاکستان میں ایئر بیسز حاصل کرنے کی خواہش ہے۔ تاہم دفاعی تجزیہ کار سمجھتے ہں کہ موجودہ حالات میں حکومت پاکستان کے لئے امریکہ کو اپنے فضائی اڈے دینا آسان نہ ہوگا کیونکہ اس حوالے سےچین کے تحفظات ہیں اور سی پیک منصوبے کی وجہ سے پاکستان اسے ناراض کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق امریکہ چاہتا ہے کہ وہ افغانستان سے نکل کر پاکستان میں بیٹھ کر اپنے ہتھیار استعمال کرے۔ یعنی افغانستان کی جنگ پاکستان میں بیٹھ کر لڑی جائے مگر اس وقت پاکستان پوری طرح سے افغانستان میں امن چاہتا ہے۔ پاکستان کسی حد تک دہشت گردی پر قابو پا چکا ہے اور پاکستان افغانستان کی جنگ سے نکلنا چاہتا ہے۔ امریکہ کے پاس نہ صرف افغانستان میں کئی فضائی اڈے ہیں بلکہ اس کے علاوہ اس کے انڈیا کے ساتھ کئی دفاعی معاہدے ہیں اور بحیرہ عرب میں بھی ان کا جنگی بیڑہ موجود ہے۔ ویسے بھی موجودہ حالات میں امریکہ کو پاکستان میں نئی ایئربیسز دینے کا مطلب چین کو ناراض کرنا ہے۔ ان حالات میں نہیں لگتا کہ پاکستان اس بار امریکہ کو فضائی اڈے فراہم کرے گا۔
ماہرین کے مطابق پاکستان اور چین دو بہترین دوست ہیں جن کے مفادات مشترکہ ہیں۔ ایک ایسی صورتحال جس میں عالمی سطح پر امریکہ کھل کر چین کی مخالفت کر رہا ہو، ایسے میں پاکستان اپنے انتہائی قریبی دوست کی خواہش کے برخلاف امریکہ کو فضائی اڈے نہیں دے سکتا یعنی پاکستان چین کے مقابلے میں کبھی بھی امریکہ کو ترجیح نہیں دے گا۔ تاہم امریکہ مسلسل پاکستان کے ساتھ بہتر ورکنگ ریلیشن شپ کے لئے سرگرم نظر آتا ہے۔
امریکی فوج کے افغانستان سے انخلا کے دوران تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات پر جہاں امریکی حکام تشویش کا اظہار کر رہے ہیں وہیں تجزیہ کاروں کے مطابق افغان امن عمل کی کامیابی اور تشدد کے خاتمے کے لیے امریکہ کا پاکستان پر انحصار بڑھ رہا ہے۔ امریکہ کا یہ اصرار رہا ہے کہ پاکستان، افغان حکومت اور طالبان کے درمیان جاری بین الافغان مذاکرات میں بھی تعاون کرے بلکہ ضرورت پڑنے پر افغانستان میں انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے بھی امریکہ کے ساتھ تعاون کرے اور اسے اپنے ایئربیس بھی دے۔ بعض ماہرین کے مطابق، وائٹ ہاؤس اور امریکی محکمہ دفاع یعنی پینٹاگون میں اب اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ گزشتہ 10 برسوں سے پاکستان کے ساتھ تعلقات میں پائے جانے والے تناؤ کو کم کیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان اور امریکی حکام کے مابین حالیہ دنوں میں رابطوں اور ملاقاتوں میں تیزی آئی ہے اور افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے تناظر میں آنے والے دنوں میں دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید وسعت کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ بعض ماہرین کے مطابق، افغان امن عمل اور طالبان پر پاکستان کے نام نہاد اثرورسوخ کے پیش نظر، امریکہ اب پاکستان کو زیادہ اہمیت دے رہا ہے۔امریکی حکام یہ بھی دعویٰ کر رہے ہیں کہ افغانستان سے امریکہ کے انخلا کے بعد کسی بھی کارروائی کے لیے پاکستان، امریکہ کو زمینی اور فضائی رسائی دے گا۔ امریکہ کو فوجی اڈے دینے کی بحث اس وقت شروع ہوئی تھی جب امریکہ کے معاون وزیرِ دفاع برائے انڈو پیسفک ڈیوڈ ہیلوے نے سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کو بتایا تھا کہ افغانستان تک رسائی کے لیے، پاکستان امریکہ کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرے گا۔البتہ، پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی واضح کر چکے ہیں کہ افغانستان سے انخلا کے بعد امریکی فوجی اڈے پاکستان منتقل نہیں ہو رہے۔
موجودہ صورتِ حال میں پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے پیر 24 مئی کو پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ بھی کیا، جہاں ہونے والے اہم اجلاس میں پاکستان کی تینوں مسلح افواج کے سربراہان اور کابینہ میں شامل اہم وزرا نے شرکت کی۔اطلاعات کے مطابق، اس اہم اجلاس میں پاکستان کی خارجہ پالیسی سمیت، پاک امریکہ تعلقات پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔پینٹاگون نے وزیرِ دفاع لائیڈ آسٹن اور پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے درمیان پیر کو ہونے والے ٹیلی فونک رابطے کو بھی اہم پیش رفت قرار دیا تھا۔پینٹاگون کے پریس سیکریٹری جان کربی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ لائیڈ آسٹن اور پاکستانی آرمی چیف کی بات چیت بہت مفید رہی۔اُنہوں نے کہا کہ وزیرِ دفاع نے افغان امن عمل میں پاکستان کے کردار کو سراہا اور دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کو فروغ دینے کی خواہش کا اظہار کیا۔امریکی وزیرِ خارجہ اینٹنی بلنکن بھی حالیہ دنوں میں اپنے پاکستانی ہم منصب شاہ محمود قریشی اور آرمی چیف جنرل قمر باجوہ سے دو مرتبہ رابطہ کر چکے ہیں۔ اس بارے میں تجزیہ کار ہمابقائی کا کہنا ہے کہ اس ملاقات کی تفصیل اب تک سامنے نہیں آئی، لیکن پاکستان اور امریکہ کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطے دونوں ممالک کے لیے بہتر ہیں۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں بڑھتے ہوئے تشدد کے بارے میں کہا گیا تھا کہ اگر تشدد میں اضافہ ہوا تو امریکہ اس میں مداخلت کرے گا۔ ایسے میں بیسز کی موجودگی ضروری ہے، لیکن پاکستان اس حوالے سے مکمل طور پر انکار کر چکا ہے۔اُن کے بقول، امریکہ یہ بیسز پاکستان کے علاوہ تاجکستان میں بھی قائم کر سکتا ہے۔ لہذا، پاکستان صرف ایک آپشن ہے لیکن حتمی طور پر ضروری نہیں کہ امریکہ خطے میں اپنی موجودگی برقرار رکھنے کے لیے پاکستان میں بیسز قائم کرے۔
خیال رہے کہ پاکستان کی جانب سے امریکہ کے ساتھ فوجی تعاون 70 برس پر محیط ہے۔ اس دوران دونوں ممالک کے تعلقات میں اُتار چڑھاؤ آتے رہے ہیں۔ پاکستان نے سرد جنگ کے زمانے میں 1960 میں پشاور کے نواحی علاقے بڈھ بیر کا فضائی اڈہ مبینہ طور پر امریکہ کو استعمال کے لیے دیا تھا۔ نائن الیون کے بعد پاکستان کی طرف سے امریکہ کے ساتھ تعاون کے لیے مختلف بیسز امریکی فوج کے زیرِ استعمال رہے جس میں بلوچستان میں قائم شمسی ایئر بیس سب سے زیادہ استعمال ہوتا رہا۔اس بیس سے افغانستان میں مختلف حملوں کے لیے امریکی جنگی طیارے اُڑان بھرتے رہے۔ اس کے علاوہ جیکب آباد کا شہباز ایئر بیس بھی امریکی فوج کے استعمال میں تھا۔بعض اطلاعات کے مطابق، راولپنڈی کی چکلالہ ایئر بیس پر بھی پاکستان فوج کا انتظامی امور کے حوالے سے امریکی حکام کے ساتھ تعاون جاری رہا۔سلالہ چیک پوسٹ پر حملے کے بعد امریکہ سے شمسی ائیر بیس خالی کرایا گیا تھا۔ پاکستان فوج کی جانب سے اس وقت جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا تھا کہ اب کسی بھی ایئر بیس پر امریکہ کی کوئی موجودگی نہیں ہے۔افغانستان کے صوبے ننگرہار میں امریکی فوجی اڈہ جس کا کنٹرول اب افغان فورسز کے سپرد کر دیا گیا ہے۔خیال رہے کہ 26 نومبر 2011 کو پاک، افغان سرحد کے قریب سلالہ کے مقام پر پاکستانی اور نیٹو افواج کے درمیان مبینہ جھڑپ میں 28 پاکستانی سیکیورٹی اہل کار شہید ہو گئے تھے۔ پاکستانی فوج نے گلہ کیا تھا کہ امریکہ اور نیٹو افواج نے پاکستانی سرحدی چوکیوں پر بلااشتعال فائرنگ کر کے پاکستانی فوجیوں کو شہید کیا۔پاکستان نے احتجاجاً نیٹو سپلائی بھی کئی ماہ تک معطل کر دی تھی۔ اس کے بعد ایبٹ آباد میں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کے کمپائونڈ پر امریکی میرین کے یکطرفہ آپریشن نے بھی پاک فوج کو نارض کیا تھا۔
یاد رہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان سنہ 2001 میں ہونے والے معاہدے ایئر لائن آف کمیونیکشن یعنی اے ایل او سی اور گراؤنڈ لائن آف کمیونیکشن یعنی جی ایل او سی کے معاہدے موجود ہیں اور دونوں ممالک ان کے مطابق ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں۔مگر سوال یہ ہے کہ سنہ 2001 میں امریکہ اور پاکستان کے درمیان ہونے والے ’اے ایل او سی‘ اور جی ایل او سی معاہدے کیا ہیں جس کے تحت دونوں ممالک ایک دوسرے سے تعاون کرتے ہیں؟ ان معاہدوں کے حوالے سے سابق سفارتکار ضمیر اکرم کا کہنا تھا نائن الیون کے واقعے کے بعد ان معاہدوں کی رو سے امریکہ کو پاکستان میں اپنے ائیر بیس قائم کرنے کی اجازت ملی تھی تاہم ان فضائی اڈوں کو سنہ 2011 میں ختم کر دیا گیا تھا۔ضمیر اکرم کے مطابق نائن الیون کے بعد امریکہ کو افغانستان میں دہشت گردوں پر حملوں کے لیے فضائی اور زمینی مدد کی ضرورت تھی جس کے لیے پاکستان اور امریکہ کے درمیاں دو معاہدے ہوئے تھے۔ان معاہدوں کے مطابق اے ایل او سی کے تحت امریکہ کو فضائی اڈے اور جی ایل او سی کے تحت زمینی راستے استعمال کرنے کی اجازت ملی تھی۔ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل امجد شعیب کے مطابق یہ معاہدے دہشت گردی کی عالمی جنگ کے دوران ہوئے تھے اور اس دوران امریکہ بلوچستان میں خصدار کے نزدیک واشک کے علاقے میں قائم شمسی ائیربیس اور سندھ کے جیک آباد میں واقع شہباز ائیربیس کو نومبر 2011 میں سلالہ چیک پوسٹ پر حملے تک استعمال کرتا رہا ہے۔اس واقعےکے بعد امریکہ پر پاکستان کے فضائی اور زمینی راستے استعمال کرنے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ امریکہ کو ایئر بیسز دینے کی حالیہ خبروں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے جنرل امجد شعیب کا کہنا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ اب امریکہ کو زمینی اور فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دی جائے مگر جنگی ہوائی اڈے استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔جنرل امجد شعیب کا کہنا تھا کہ سنہ 2001 میں فضائی اڈے دینے کی وجوہات کچھ اور تھیں۔ اس وقت پاکستان دہشت گردی کے خلاف ایک عالمی مہم کا حصہ تھا مگر اب کی صورتحال کچھ اور کہہ رہی ہے۔ کوئی بھی حکومت پارلیمان کی اجازت کے بغیر امریکہ کو ایسی اجازت نہیں دے سکتی جبکہ ایسی اجازت دینے کی صورت میں حکومتوں کو شدید عوامی رد عمل کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔‘ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ نے پاکستان کے بعد اپنے فضائی اڈے قائم کرنے کے لیے روس سے الگ ہونے والی وسطی ایشیا کی ریاستوں سے رجوع کیا تھا تاہم اس کو وہاں پر روس کے بڑھتے ہوئے عمل دخل کی بنا پر اجازت نہیں مل سکی۔

Back to top button