سینیٹ میں خفیہ کیمرے لگانے والے صاف بچ نکلے


12 مارچ 2021 کو سینیٹ میں چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے الیکشن کے دوران جاسوس کیمرے نصب کرنے والے خفیہ ہاتھوں کا پتہ لگانے کے لئے قائم سینیٹ کی تحقیقاتی کمیٹی بھی قصہ پارینہ ہو گئی ہے اپنی تشکیل کے چھہ ہفتوں بعد بھی اس کمیٹی کا ایک بھی اجلاس نہیں ہوا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ جن خفیہ ہاتھوں نے یہ کھیل رچایا تھا اب انہی کے دبائو کی وجہ سے کمیٹی اپنا کام کرنے سے قاصر ہے لہذا سینیٹ میں خفیہ کیمرے لگانے والے کبھی بے نقاب نہیں ہوں گے۔
یاد رہے کہ یہ کیمرے 12 مارچ کو چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے موقعے پر سینیٹ ہال میں نصب گئے تھے، جاسوس کیمروں کے انکشاف کے فوری بعد انہیں وہاں سے ہٹا دیا گیا تھا۔ پیپلز پارٹی کے سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے انتخاب سے کچھ دیر قبل ٹوئٹر پر ایک پیغام میں بتایا تھا کہ ‘میں نے اور ڈاکٹر مصدق ملک نے پولنگ بوتھ کے بالکل اوپر نصب کیمرے کا سراغ لگایا ہے۔اپنی ٹوئٹ میں انہوں نے مبینہ خفیہ کیمرے کی تصویر بھی شیئر کی تھی۔ دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے ڈاکٹر مصدق ملک نے بھی اپنے پیغام میں کہا تھا کہ کیا مذاق ہے، سینیٹ کے پولنگ بوتھ میں خفیہ ہوئے کیمرے نصب کیے گئے ہیں۔ساتھ ہی انہوں نے بھی اپنی ٹوئٹ میں 2 تصاویر شیئر کیں۔اس ضمن میں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے سینیٹر مصدق ملک نے بتایا کہ پارٹی کی ہدایت پر وہ اور مصطفیٰ نواز کھوکھر پولنگ بوتھ چیک کرنے پہنچے جہاں عین بوتھ کے اوپر 2 خفیہ کیمرے نصب تھے اور ایک کا رخ ووٹ ڈالنے والے شخص پر جبکہ دوسرے کا فوکس بیلٹ پیپر پر مرکوز تھا۔ انہوں نے کہا کہ سینیٹ کی سیکیورٹی کی ذمہ داری انتظامیہ پر ہے ایسے میں کسی نے اندر جا کر پولنگ بوتھ میں کیمرے لگادیے، ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ وہاں ایک لیمپ بھی موجود ہے جس میں سوراخ ہے اور کسی کو معلوم نہیں کہ وہاں کتنے مائیکرو فون نصب ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ نیچے کی طرف بھی بوتھ میں کوئی ڈیوائس چسپاں ہے جو بظاہر مائیکرو فون کے ساتھ کیمرا لگ رہا ہے کیوں کہ وہ سیلڈ ہے اس لیے ابھی یہ نہیں بتاسکتے کہ وہ مائیکروفون ہے یا کیمرا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں پولیس اسے ثبوت مانتے ہوئے ہمارے سامنے کھولے اور پھر دیکھا جائے کہ اس کے اندر کیا کیا موجود ہے۔ اس روز سینیٹرز کی حلف برداری کی تقریب کے بعد پیپلز پارٹی کے سینیٹر رضا ربانی نے مبینہ خفیہ کیمروں کی تنصیب پر اعتراض کیا جس کے بعد اپوزیشن اراکین کے احتجاج نے ایوان کو مچھلی بازار میں تبدیل کردیا تھا۔ اس بارے میں بات کرتے ہوئے سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ اہم بات یہ ہے کہ انتخاب سے قبل ایوان کی سیکیورٹی کی ذمہ داری، چیئرمین، سیکریٹری سینیٹ اور ان کے ہیڈ آف سیکیورٹی کی ہے، تحقیق اس بات کی ہونی ہے کہ اس کی خلاف ورزی کس طرح ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ کیا یہ تینوں افراد اس سیکیورٹی کی خلاف ورزی میں شامل تھے، سیکریٹری سینیٹ نے کس کے کہنے پر ایوان کے دروازے، شام یا رات کے وقت کھولنے کی اجازت دی جب وہاں کوئی موجود نہ ہو۔ مصطفی کھوکھر نے کہا تھا کہ یہ ذمہ داری موجودہ سینیٹ چیئرمین کی تھی، جو اس میں امیدوار بھی ہیں، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ الیکشن چوری کرنے کا منصوبہ تھا جو پکڑا گیا اب اس کے ذمہ داروں کا تعین کرنا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن اس حوالے سے مشاورت کرے گی کہ اس کی تحقیقات پولیس سے کروائی جائے یا خود سینیٹرز کی کمیٹی اس کی چھان بین کرے۔ معاملہے کی چھان بین کے لئے سینیٹ میں چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے لیے مقرر پریزائیڈنگ افسر مظفر حسین شاہ نے پولنگ بوتھ میں خفیہ کیمروں کی تنصیب کے معاملے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی تھی جس کے بعد چھ رکنی تحقیقاتی کمیٹی ڈاکٹر سکندر مندھرو ، ہدایت اللہ ، اعظم سواتی ، رانا مقبول احمد، سرفراز بگٹی، اور طلحہ محمود پر مشتمل ہے۔
اس حوالے سے کمیٹی کے ایک رکن مسلم لیگ (ن) کے رانا مقبول احمد نے بتایا کہ کمیٹی کے چئیرمین کے انتخاب کے لئے نوٹیفکیشن جاری ہوا لیکن اس حوالے سے بھی اجلاس کورونا وائرس کو جواز بتا کر ملتوی کردیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ اب یہ معاملہ آئندہ ہفتے سیکرٹری سینیٹ کے سامنے اٹھایا جائے گا ۔کمیٹی کے ایک اور رکن پیپلز پارٹی کے ڈاکٹر سکندر مندھرو نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کمیٹی کا افتتاحی اجلاس بھی نا معلوم وجوہات کی بنا پر نہیں ہونے دیا گیا۔ڈاکٹر سکندر مندھرو نے کہا کہ سینیٹ چئیرمین اور ڈپٹی چئیرمین کے انتخاب کے موقع پر جاسوس کیمروں کی موجودگی کی تحقیقات کیلئے اپوزیشن کے شدید دبائو پر تحقیقاتی کمیٹی قائم کی گئی تھی۔ اپوزیشن نے ہی جاسوس کمیروں کی موجودگی کا سراغ لگایا تھا ۔کمیٹی کے قیام کے اعلان کے بعد اسے نوٹیفکیشن کے اجرا کے ایک ماہ کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرنا تھا مگر اب اڑھائی مہینے گزر گئے ، کمیٹی پہلا اجلاس بھی نہیں ہوا یعنی اس معاملے پر مٹی ڈالنے کی کوشش کامیاب ہوتی نظر آتی ہے۔

Back to top button