امریکی اخبار نے بھارت میں مودی کو کورونا بحران کا ذمہ دار قرار دیدیا

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اپنی تجزیاتی رپورٹ میں کہا ہے کہ بھارت میں کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز کے ذمہ دار وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔
بھارت میں رواں ماہ کے وسط سے کورونا نے ایک بار پھر سر اُٹھانا شروع کردیا ہے اور یومیہ کورونا کیسز کے لحاظ سے ہر آنے والے دن گزرتے روز کا ریکارڈ ٹوٹ رہا ہے۔ آج بھی 3 لاکھ 85 ہزار سے زائد افراد میں کورونا کی تصدیق ہوئی جب کہ 3 ہزار سے زائد اموات ہوئی ہیں۔ بھارت میں کورونا کی اس تباہی کا تجزیہ کرتے ہوئے معروف امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے لکھا کہ وزیراعظم مودی نے کورونا کے یومیہ 2 لاکھ کیسز سامنے آنے کے باوجود مغربی بنگال اور دیگر چند ریاستوں میں ہونے والے انتخابات ملتوی کرنے کے بجائے کھچا کھچ بھرے ایک جلسہ عام سے خود بھی خطاب کیا اور دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی اجتماعات کی اجازت دی۔ اخبار کی رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ رہی سہی کسر کمبھ میلے نے پوری کردی جس میں صرف تین دن میں ملک بھر سے آنے والے 25 لاکھ سے زائد یاتریوں نے گنگا جمنا میں ڈبکی لگائی اور اس دوران ایس او پیز کو کسی خاطر میں نہیں لایا گیا۔ مودی نے پہلے الیکشن اور پھر کمبھ میلے کی اجازت دے کر عوام کی صحت کو سیاسی مقاصد کی بھینٹ چڑھا دیا۔ اخبار نے لکھا کہ مودی کو ذرا بھی عوام کی پرواہ ہوتی تو وہ بڑی تعداد میں لوگوں کو ویکسین لگوانے پر آمادہ کرتے لیکن لاپروائی کا نتیجہ نکلا کہ سڑکوں پر لوگ آکسیجن کےلیے تڑپتے دکھائی دینے لگے، کھیلنے کودنے کے پارک شمشان گھاٹ میں تبدیل ہونے لگے، لوگوں نے تنقید کی تو مودی حکومت نے حقائق پر پردہ ڈالنے کےلیے سوشل میڈیا پر سے تنقیدی پیغامات ہٹوادیے۔ اخبار نے لکھا کہ سچ چھپانے کےلیے مودی کی کوششوں کے باوجود آج ہر کوئی جانتا ہے کہ بھارت میں کورونا بحران کا ذمہ دار کون ہے۔
واضح رہے کہ بھارت میں یومیہ پونے چار لاکھ کورونا کیسز سامنے آنے پر کئی شہروں کے اسپتالوں میں آکسیجن کی قلت پیدا ہوگئی ہے جس سے ہلاکتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
