امریکی انتخابات: ووٹرز کوگھر پر رہنے کی تاکید، ایف بی آئی پراسرار کالز کی تحقیقات کرے گی

امریکہ کا تفتیشی ادارہ فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) لاکھوں امریکی ووٹرز کو موصول ہونے والی اس پراسرار فون کال کی تحقیقات کر رہا ہے جس میں ووٹرز کو انتخاب کے دن ووٹ ڈالنے کے بجائے گھروں پر رہنے کی تاکید کی گئی تھی۔
مبینہ طور پر لاکھوں امریکی ووٹرز کو خودکار طریقے سے کیے جانے والی (روبو کالز) کالز موصول ہوئی ہیں جن میں انہیں ’محفوظ رہنے اور گھر پر رہنے‘ کی تاکید کی گئی تھی۔ پولنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد اب امریکہ میں نتائج آنے کا سلسلہ جاری ہے اور رپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ اور ڈیموکریٹ امیدوار جو بائیڈن کے درمیان کانٹے کا مقابلہ جاری ہے۔ تاہم ووٹنگ کے دن شہریوں کو موصول ہونے والی یہ کالز کہاں سے کی جا رہی تھیں اور ان کا مقصد کیا تھا یہ فی الحال غیر واضح ہے۔ چند شہریوں کو اگرچہ یہ کالز موصول ہوئیں تاہم ان میں ووٹنگ کا ذکر نہیں کیا گیا۔ خودکار طریقے سے کی جانے والی کالز سے نمٹنے والی کمپنی ’روبو کِلر‘ کی نائب صدر جولیا پورٹر نے خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس شعبے میں اس کے بارے میں تھوڑا سی کنفیوژن پائی جاتی ہے۔ ایک روبو کال میں مبینہ طور پر یہ کہا گیا: ’ہیلو۔ یہ صرف ایک ٹیسٹ کال ہے۔ گھر میں رہنے کا وقت ہے۔ گھر میں رہیں محفوظ رہیں۔‘
جولیا پورٹر نے بتایا کہ یہ کال شہریوں کو گاہے بگاہے گزشتہ ایک سال سے موصول ہو رہی تھی تاہم منگل کے روز یہ امریکہ کی سب سے بڑی اسپیم کال بن گئی۔
کانٹے کی ٹکر والی اہم ریاست مشی گن میں روبوٹس کالز پر حکام نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ایک کال میں فلنٹ شہر میں رہنے والے ایک باشندے کو تو یہ کہا گیا کہ لمبی قطار کی وجہ سے وہ ’کل ووٹ ڈالنے‘ جائيں۔ میشی گن کی اٹارنی جنرل ڈانا نیسل نے ٹویٹ کی کہ ’ظاہر ہے کہ یہ غلط ہے اور ووٹنگ پر اثر انداز ہونے کی کوشش ہے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’اس کے چکر میں نہ آئیں۔‘
میساچوسٹس میں ڈیموکریٹک ووٹر جنک اسٹوکی نے کہا کہ انہیں ووٹ ڈالنے کے دن صبح سویرے ایک روبوٹ کال آئی۔ انہوں نے خبررساں ادارے کو بتایا کہ مجھے پہلا خیال یہ آیا کہ یہ کووڈ لاک ڈاؤن کےلیے بلدیہ کی جانب سے کوئی ٹیسٹ کال کی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں اس کے بارے میں جتنا سوچتا اتنا ہی یہ عجیب لگتا، اور پھر ہم نے یہ محسوس کرنا شروع کر دیا کہ یہ ووٹرز پر اثر انداز ہونے کی کوئی کوشش تو نہیں۔ نیویارک اسٹیٹ کے عہدیدار روبوٹ سے متعلق غلط اطلاعات پھیلانے اور لوگوں کو گھروں میں رہنے کی ترغیب دینے کے الزامات کی بھی تحقیقات کر رہے ہیں۔ نیو یارک کے اٹارنی جنرل لیٹیا جیمس نے کہا کہ ووٹرز کو اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے حق کے استعمال سے روکنے کی کوششیں مایوس کُن، پریشان کُن اور غلط ہیں۔ ایف بی آئی نے کہا ہے کہ وہ روبوٹ کی اطلاعات سے واقف ہے لیکن اس پر مزید کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button