جج ارشد ملک کی اگلی ویڈیو میں کن ججوں اور جرنیلوں کے نام ہیں؟


معلوم ہوا ہے کہ مسلم لیگ کی قیادت سابق وزیراعظم نواز شریف کو سزا سنانے والے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی چند دیگر ویڈیوز بھی جاری کرنے کا سوچ رہی ہے جن میں انہوں نے شدید دباؤ میں فیصلہ دینے کا اعتراف کرنے کے علاوہ ان عدالتی اور عسکری شخصیات کے نام بھی لیے ہیں جنہوں نے انہیں ایسا کرنے پر مجبور کیا۔
مسلم لیگی رہنما ناصر بٹ نے بھی یہ دعوٰی کیا ہے کہ اگر نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کو احتساب عدالت سے ملنے والی غیر قانونی سزائیں ختم نہ کی گئیں تو احتساب عدالت کے سابق جج ارشد ملک کی سابق چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار سے متعلق گفتگو پر مبنی آڈیو بھی لیک کردی جائے گی جس سے ثابت ہوجائے گا کہ لیگی قائدین کو دی گئی سزائیں حقائق اور شواہد کی بنیاد پر نہیں بلکہ فوجی اور عدالتی اسٹیبلشمنٹ کے ایما پر سنائی گئی تھیں۔ یاد رہے کہ ناصر بٹ کی جانب سے ریکارڈ کردہ ارشد ملک کی پہلی ویڈیو کو مریم نواز نے ایک پریس کانفرنس میں پبلک کر دیا تھا جس کے بعد جج صاحب کی چھٹی ہوگی اور ناصر بٹ لندن میں مقیم اگلی ویڈیوز جاری کرنے کی تیاری میں مصروف ہیں۔
نون لیگ رہنما ناصر بٹ نے اب یہ انکشاف کیا ہے کہ ان کے پاس نواز شریف کو سزا سنانے والے جج ارشد ملک کی اور تہلکہ خیز ویڈیوز بھی موجود ہیں جن میں سے ایک میں جج نے اعتراف کیا کہ اسٹیبلشمنٹ نے مجھے میری نازیبا ویڈیوز دکھا کر لیگی قیادت کو سزائیں سنانے پر مجبور کیا۔ ناصر بٹ کے بقول اس ویڈیو میں جج ارشد ملک نے یہ بھی بتایا ہے کہ اس وقت کے چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے مجھ سے واضح الفاظ میں کہا کہ ملک اس وقت حالت جنگ میں ہے لہذا لیگی قائدین کو سزا دینا ضروری ہے اور پھر مجبوراً میں نے ایسا ہی کیا۔ ناصر بٹ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ اگر پہلی ویڈیو کے منظر عام پر آنے اور ارشد ملک کی ملازمت سے برخاستگی کے بعد بھی نواز شریف اور مریم نواز کو بری نہ کیا گیا تو مجبوراً دوسری آڈیو ٹیپ بھی ریلیز کردی جائے گی۔ ناصر بٹ نے بتایا کہ لیگی قائدین کو سزائیں سنانے والے احتساب عدالت کے سابق جج ارشد ملک نے مجھ سے بارہا درخواست کی کہ میں اس کی نواز شریف سے ملاقات کا بندوبست کروں تاہم میاں صاحب ملاقات کے لئے راضی نہ ہوئے۔ بالآخر جاتی امرا میں ارشد ملک کی نواز شریف سے ملاقات کروائی گی جس میں اس نے بتایا کہ آخر کیونکر وہ نواز شریف اور مریم نواز کو سزائیں سنانے پر مجبور ہوا۔ ناصر بٹ نے دعویٰ کیا کہ اس ملاقات کی ٹیپ منظر عام پر آئی تو مزید پردہ نشینوں کے ناموں سے پردہ اٹھ جائے گا۔
اس حوالے سے سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ہماری سیاسی تاریخ میں کئی ایسے واقعات درج ہیں کہ جن کا یقین کرنا بھی مشکل ہوتا ہے مگر وقت ثابت کرتا ہے کہ ایسی انہونیاں بھی اسی ملک میں ہی وقوع پذیر ہوئی ہیں۔انکا کہنا ہے کہ جج ارشد ملک کا سکینڈل ہماری عدالتی تاریخ کا ایک سیاہ دھبہ بن چکا ہے۔ یاد رہے کہ جج ارشد ملک کو ویڈیو ٹیپ سکینڈل منظر عام آنے کے بعد نوکری سے برخاست کر دیا گیا تھا مگر ان کے حوالے سے کچھ معاملات ایسے بھی ہیں جو آج بھی جواب طلب ہیں۔ اس بارے سینئر صحافی انصار عباسی نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ میں سابق چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار سے بات کرنا چاہ رہا تھا کہ ان کے حوالے سے ن لیگ ایک ٹیپ ہونے کے بارے میں جس قسم کا دعویٰ کرتی ہے کیا وہ سچ ہے یا نہیں مگر میرا ابھی تک ان سے رابطہ نہیں ہو سکا۔ انصار عباسی نے کہا کہ ن لیگ والوں کے پاس جج ارشد ملک کی آڈیو ریکارڈنگز موجود ہیں جس میں انہیں اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے مریم نوازاور نواز شریف کو 14.14سال سزا دینے کا حکم دیا تھا۔ اس ریکارڈنگ اور الزام سے متعلق تو ن لیگ کے راہنماﺅں نے کئی فورم پر گفتگو کی ہے مگر یہ آڈیو آج تک ریلیز نہیں کی گئی، اس لیے سچ جھوٹ کا فیصلہ نہیں ہو سکتا۔ انصار عباسی کا کہنا تھا کہ میں اسی سچ جھوٹ کو جاننے کے لیے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار سے رابطہ کرنا چاہ رہا تھا کہ کیا انہوں نے واقعی ایسا کوئی آرڈر دیا تھا یا نہیں مگر میرا ان سے رابطہ نہیں ہو سکا۔جبکہ ن لیگ ابھی بھی اپنے موقف پر ڈٹی ہوئی ہے کہ ان کے قائدین کو ملنے والی سزائیں حقائق اور شواہد کی بنیاد پر نہیں بلکہ فوجی اور عدالتی اسٹیبلشمنٹ کے ایما پردی گئی تھیں۔
دوسری طرف جج ارشد ملک کی ویڈیو بنانے والے ناصر بٹ نے پہلے ہی یہ انکشاف کر دیا ہے کہ ان کے پاس نواز شریف کو سزا سنانے والے جج کی دیگر دھماکہ خیز ویڈیوز بھی موجود ہیں جن کو مناسب وقت پر سامنے لایا جائے گا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ان ویڈیوز کو سامنے لانے سے پہلے جج ارشد ملک کی جانب سے میاں صاحب کو سنائی جانے والی سزا کے خلاف اپیل کا فیصلہ آنے کا انتظار کیا جائے گا اور اگر نواز شریف کے حق میں فیصلہ نہ آیا تو پھر دیگر ویڈیوز بھی جاری کر دی جائیں گی جن میں ثاقب نثار کے علاوہ چند اعلی فوجی افسران کے نام بھی شامل ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button