امریکہ کی مزیدچندممالک کےشہریوں پرسفری پابندیاں

امریکا کےصدرڈونلڈ ٹرمپ نے مزید ‘چند ممالک’ کے شہریوں پر سفری پابندی عائد کر دی۔
ذرائع کےمطابق ڈونلڈ ٹرمپ نےکہا کہ ان کی انتظامیہ ‘چند ممالک’ پرمشتمل ایک فہرست تیارکررہی ہےجن کےشہریوں پر امریکا میں داخلےپرسفرپابندی کاسامنا ہوگایا ان ممالک کےشہریوں کی آمد سخت شرائط کی تکمیل سےمشروط ہوگی۔ ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کےموقع پرانہوں نےکہا کہ’ہم چند ممالک پرپابندی لگارہےہیں،ہمارہےلیےتحفظ ضروری ہے،ہمارے لوگوں کوتحفظ ملنا چاہیے’۔
امریکا کےصدرڈونلڈ ٹرمپ نےمزید کہا کہ ‘پابندی کا شکارممالک کےنام بہت جلد منظرعام پرآئیں گے’۔ دوسری جانب وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کےمطابق ٹرمپ انتظامیہ نے7ممالک پرسفری پابندی عائد کرنےکا ارادہ کیا تھا۔ رپورٹ کےمطابق ان ممالک میں نائیجیریا سمیت بعض افریقی اورایشیائی ممالک شامل ہیں۔ علاوہ ازیں بیلاروس،اریٹیریا،کرغزستان،میانمار، سوڈان اورتنزانیہ کےشہریوں پرامریکا میں داخلےکےلیےنئےقواعد عائد کرنےپرغورکیا جارہا ہے۔
واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا کا صدارتی عہدہ سنبھالنےکےفوری بعد ایک ایکزیکٹوآرڈرپردستخط کیےتھےجس کے ذریعےایران، سوڈان، شام، لیبیا، صومالیہ اور یمن کےشہریوں پرامریکا میں داخل ہونےپرپابندی عائد کی گئی تھی۔ امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کے27 جنوری 2017 کے اس فیصلے میں عراق بھی شامل تھا تاہم بعد ازاں امریکی فوج کی یہاں موجودگی کے باعث عراق کو مذکورہ پابندی کی فہرست سے نکال دیا گیا، اس حکم کے ذریعے شام کے مہاجرین کو بھی ملک میں آنے سے روک دیا گیا ہے۔
بعدازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیا سفری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے شمالی کوریا، چاڈ اوروینزویلا کےشہریوں پر امریکا میں داخلےپرپابندی عائد کردی تھی جبکہ سوڈان کا نام سفری پابندی کی موجودہ فہرست سےخارج کردیا تھا۔ امریکا کی جانب سےنئی پابندیاں گذشتہ ’90 روزہ سفری پابندی’ کی میعاد ختم ہونے کےبعد عائد کی گئی تھیں تاہم وائٹ ہاؤس کا اس حوالےسے کہنا تھا کہ یہ اقدام امریکا کوکسی بھی دہشت گرد حملےسےمحفوظ رکھنےکےلیےکیا گیا۔
خیال رہےکہ ماضی میں جاری ایک بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’بحیثیت صدر،میں ایسےلوگوں کو اپنےملک میں آنے کی اجازت نہیں دوں گا جوہمیں نقصان پہنچانا چاہتےہوں، میں ایسےلوگوں کو چاہتا ہوں جوامریکا اوراس کےتمام شہریوں سے محبت کرتےہیں، اورجو محنت کرنےوالےاورپیداواری ہوں‘۔
