امریکی میگزین میں چھپنے والا سائفر کس نے لیک کیا؟

امریکی آن لائن میگزین دی انٹرسیپٹ کی طرف سے سائفر کے مندرجات کی اشاعت نے ایک بار پھر پاکستان کے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے اور ملک میں اس حوالے سے کئی نوعیت کے سوالات اٹھ رہے ہیں۔کئی حلقوں میں یہ سوالات اٹھ رہے ہیں کہ کیا اس کی اشاعت کے بعد عمران خان سچے ثابت ہوئے ہیں؟ کیا ان پر آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت مقدمہ چل سکتا ہے اور کیا عمران کی حکومت کے خلاف واقعی کوئی سازش ہوئی؟ سب سے اہم سوال جس کی باز گشت نہ صرف سیاسی حلقوں میں سنائی دے رہی ہے بلکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی اس کے جواب کے متلاشی ہیں کہ اگر امریکی میگزین میں چھپنے والا سائفر اصلی ہے تو پاکستانی سیکرٹ ڈاکومنٹ امریکی اخبار تک کیسے پہنچا؟ اس کو کس نے لیک کیا؟

اس بات کا جواب اگرچہ امریکی میگزین نے یہ کہہ کر دیا ہے کہ اس تک یہ سائفر ایک حاضر سروس فوجی آفیسر نے پہنچایا تاہم سینئر صحافی اور تجزیہ کار اعزاز سید امریکی صحافی کے دعوے کو جھٹلاتے ہوئے کہتے ہیں کہ امریکی سائفر بارے کارروائی میں تین لوگ باخبر تھے جن میں دو فوجی آفیسرز آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ندیم انجم اور عمران خان شامل ہیں۔ اعزاز سید کے مطابق جنرل باجوہ سائفر لیک نہیں کر سکتے کیونکہ عمران خان نے اس امریکی سائفر سازشی کہانی میں انھیں مورد الزام ٹھہرایا تھا، جنرل ندیم انجم اس وقت ڈی جی آئی ایس آئی ہیں ان پر بھی عمران خان الزام تراشیاں کر چکے ہیں اور وہ الزامات کے جواب میں پریس کانفرنس کر کے الزامات کا بھرپور جواب دے چکے ہیں لہذا ان کی طرف سے سائفر کا افشاء نا ممکن نظر آتا ہے۔ اس طرح باقی ایم ہی شخص عمران خان بچتا ہے جو اسے لیک کر سکتا ہے اور عمران خان ہی وہ واحد شخص ہیں جن تک وزارت خارجہ کی جانب سے سائفر کی ایک کاپی پہنچائی گئی تھی تاہم عمران خان کے مطابق وہ کاپی گم ہو چکی ہے۔ اعزاز سید نے مزید انکشاف کیا ہے کہ جس امریکی صحافی ریان نے سائفر کو جریدے میں شائع کیا ہے وہ 8 جون 2023 کو عمران خان کا انٹرویو بھی کر چکے ہیں۔ پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اس صحافی کا رابطہ ثابت کرنا شاید مشکل ہو مگر عمران خان کے ساتھ ان کا انٹرویو آن ریکارڈ موجود ہے۔ اعزاز سید کے مطابق سائفر کی اشاعت نے عمران خان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ سائفر کا امریکی جریدے میں چھپنا عمران خان کی فتح نہیں بلکہ 9 مئی کی مانند ان پر خودکش حملہ ہے

دوسری جانب سینئر صحافی انصار عباسی نے دعوی کیا ہے کہ سائفر معاملے کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم جے آئی ٹی اپنا کام تقریباً مکمل کرنے والی تھی لیکن ایک آن لائن امریکی ادارے کی ویب سائٹ پر سائفر کی اشاعت نے جے آئی ٹی کو اس پہلو کی تحقیقات کرنے پر بھی مجبور کر دیا ہے کہ یہ میڈیا میں کیسے لیک ہوا۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ جے آئی ٹی یہ دیکھنا چاہتی ہے کہ دستاویز کا مواد کیسے اور کس نے میڈیا کو لیک کیا اور یہ بھی کہ ’’دی انٹرسیپٹ‘‘ میں شائع ہونے والا سائفر کا مواد اصلی ہے یا نہیں۔ ذرائع نے امید ظاہر کی کہ تحقیقات ایک ہفتے یا دس دن میں مکمل ہو جائیں گی۔ ذرائع نےبتایا ہے کہ اب تک کی تحقیقات میں چیئرمین پی ٹی آئی اور سابق وزیراعظم عمران خان کیخلاف کیس بنتا ہے۔

۔ کہا جاتا ہے کہ یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ عمران خان نے سائفر کی نقل اپنے پاس رکھی تھی عمران خان کا یہ اقدام ایک جرم ہے۔ ذرائع نے مزید کہا کہ سیاسی فائدے کیلئے خفیہ دستاویز کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا بھی قانون کی خلاف ورزی ہے۔ گزشتہ دنوں میں سبکدوش ہونے والی وزیر اعظم شہباز شریف کی حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی جے آئی ٹی پہلے ہی عمران خان، فواد چوہدری، شاہ محمود قریشی، اسد عمر اور دفتر خارجہ کے حکام سے سوالات پوچھ چکی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ شاید جے آئی ٹی کو مزید کسی سے سوالات پوچھنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ جے آئی ٹی کی تحقیقات کا سب سے اہم حصہ سابق وزیراعظم عمران خان کے سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کے بیان سے متعلق ہے۔ اعظم خان نے ایف آئی اے اور ایک مجسٹریٹ کے روبرو بیان دیا تھا کہ سابق وزیر اعظم نے اپنےسیاسی فائدے کیلئے اور اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد کو ٹالنے کیلئےسائفر کو استعمال کیا تھا۔ اعظم خان نے اپنے اقبالیہ بیان میں کہا کہ جب انہوں نے سابق وزیر اعظم کو سائفر فراہم کیا تو وہ خوش تھے اور اس زبان کو "امریکی غلطی” قرار دیا تھا۔ اعظم کے مطابق، سابق وزیر نے پھر کہا سائفر کو "اسٹیبلشمنٹ اور اپوزیشن کے خلاف بیانیہ بنانے” کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اعظم خان نے کہا کہ منع کرنےکے باوجود سابق وزیراعظم عمران خان نے سیاسی اجتماعات میں امریکی سائفر کا بے دریغ استعمال کیا۔ اعظم خان کے مطابق سابق وزیر اعظم نے انہیں یہ بھی بتایا تھا کہ سائفر کو استعمال کرتے ہوئے عوام کی توجہ اس جانب مبذول کرائی جا سکتی ہے کہ اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد میں ’’غیر ملکی ہاتھ ملوث‘‘ ہے۔

خیال رہے کہ عمران خان گزشتہ ماہ جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے تھے۔ انہیں یکم اگست کو دوبارہ ایف آئی اے میں تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہونے کیلئے طلب کیا گیا تھا لیکن چیئرمین پی ٹی آئی نے معاملے کی مزید تحقیقات میں شامل ہونے سے گریز کیا۔ سابق وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ اعظم خان کے بیان کو اپنا ’’اعتراف‘‘ قرار دیتے ہوئے اسے عمران خان کیخلاف چارج شیٹ قرار دے چکے ہیں۔سابق وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ اگرچہ عمران خان نے اعظم خان سے کہا تھا کہ ان کے پاس سے سائفر کھو گیا ہے لیکن رانا ثناء اللہ کا خیال ہے کہ یہ دستاویز اب بھی پی ٹی آئی چیئرمین کے پاس ہے۔ رانا ثناء اللہ کا موقف تھا کہ عمران خان کے خلاف ایک خفیہ دستاویز کو منظر عام پر لانے اور اسے اپنے سیاسی مفادات کیلئے استعمال کرنے اور ملکی مفادات کو نقصان پہنچانے اور پھر اسے چوری کرکے اپنے قبضے میں لینے پر آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت مقدمہ چلایا جانا چاہیے۔

Back to top button