جسٹس بندیال نے نوازشریف کی واپسی کا راستہ کیسے روکا؟

سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس کے خلاف اپیل کا حق دینے سے متعلق سپریم کورٹ ریویو آف آرڈرز اینڈ ججمنٹس ایکٹ کالعدم قرار دے کر نواز شریف کی سیاست میں واپسی کا راستہ روک دیا ہے۔
عدالت نے تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا جو 87 صفحات پر مشتمل ہے۔ سپریم کورٹ ریویو آف آرڈرز اینڈ ججمنٹس ایکٹ کیس کا متفقہ فیصلہ سنایا گیا ہے، سپریم کورٹ ریویو ایکٹ آئین کے خلاف ہے جس کی تفصیلی وجوہات بعد میں جاری کی جائیں گی۔متفقہ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پارلیمنٹ ایسی قانون سازی کا اختیار نہیں رکھتا، جسٹس منیب اختر کا اضافی نوٹ بھی متفقہ فیصلے کا حصہ ہے۔ سپریم کورٹ نے تحریری حکمنامہ بھی جاری کر دیا گیا ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے 87 صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا ہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ کسی بھی قانون کو کالعدم قرار دینے کے اختیار کو انتہائی احتیاط سے استعمال کرنا چاہیے اور ایک قانون کو اس وقت کالعدم قرار نہیں دینا چاہیے جب اس کی شقیں آئین سے ہم آہنگی رکھتی ہوں۔فیصلے کے مطابق ریویو آف ججمنٹ آئین پاکستان سے واضح طور پر متصادم ہے، یہ ممکن نہیں ہے کہ اس قانون کو آئین سے ہم آہنگ قرار دیا جائے۔ ہم نے آئین کا تحفظ اور دفاع کا حلف اٹھا رکھا ہے۔ریویو اینڈ ججمنٹ ایکٹ کو اسطرح بنایا گیا جیسے آئین میں ترمیم مقصود ہو، اگر اس قانون کے تحت اپیل کا حق دے دیا گیا تو مقدمہ بازی کا ایک نیا سیلاب امڈ آئے گا، سائیلن سپریم کورٹ سے رجوع کرنا شروع کر دیں گے اس بات کو سامنے رکھے بغیر کہ جو فیصلے دئیے گئے ان پر عملدرآمد بھی ہو چکا۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز ایکٹ کے خلاف درخواستوں پر فیصلے کے لیے عدالت نے فریقین کو الیکٹرانک نوٹس بھجوائے گئے تھے۔ 19 جون کو چیف جسٹس پاکستان عمرعطابندیال،جسٹس منیب اختر اورجسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل بنچ نے کیس کی 6 سماعتیں کرنے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
یاد رہے کہ پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد 26 مئی کو صدر مملکت نے ایکٹ پر دستخط کیے تھے جس کے بعد سپریم کورٹ ریویو ایکٹ کا اطلاق 29 مئی سے ہوا۔سپریم کورٹ ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز ایکٹ کی 7 شقیں ہیں۔ایکٹ کی شق 2 کے تحت سپریم کورٹ کا دائرہ اختیار مفاد عامہ کےمقدمات کی نظر ثانی کے لیے بڑھایا گیا، شق 2 کے تحت ہی مفاد عامہ کے مقدمات کی نظر ثانی کو اپیل کے طور پر سنا جائے گا۔شق 3 کے مطابق نظر ثانی کی سماعت پر بنچ میں ججز کی تعداد مرکزی کیس سے زیادہ ہوگی۔شق 5 کے تحت ایکٹ کا اطلاق آرٹیکل 184، 3 کے پچھلے تمام مقدمات پر ہو گا، شق 5 کے مطابق ہی متاثرہ فریق ایکٹ کے اطلاق کے 60 دنوں میں اپیل دائر کر سکے گا
عدالت عظمیٰ کی طرف سے ایکٹ کالعدم ہونے پر رد عمل دیتے ہوئے سینئر صحافی اور تجزیہ کا انصار عباسی کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ ریویو ایکٹ کالعدم قرار دیکر نواز شریف کی سیاست میں واپسی کا راستہ روک دیا ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ آئندہ انتخابات میں نواز شریف اور عمران خان مائنس ہی رہیں گے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے پر تجزیہ پیش کرتے ہوئے انصار عباسی کا کہنا تھا بدقسمتی سے پاکستان کی حکومتیں اور پارلیمنٹ کی جانب سے قانون سازی ہوتی ہے تو بڑی بدقسمتی کی بات ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے اس پر بھی سیاست نظر آتی ہے اور حالیہ کچھ ماہ میں یہ سیاست بہت زیادہ عروج پر پہنچ گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا پرسوں قومی اسمبلی تحلیل ہوئی اور آج سپریم کورٹ نے ریویو ایکٹ کو کالعدم قرار دیدیا جو نواز شریف کا پاکستانی سیاست میں واپسی کا راستہ کھول رہا تھا، یعنی ان کے پاس موقع تھا کہ وہ اپنی نااہلی کے خلاف درخواست پر اپیل دائر کر سکتے تھے، اس فیصلے سے وہ رستہ روک دیا گیا ہے۔انصار عباسی کا کہنا تھا لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اب بھی نواز شریف کے پاس ایک موقع ہے جو الیکشن ایکٹ میں ترمیم کی گئی تھی جس کے تحت نااہلی زیادہ سے زیادہ 5 سال کے لیے ہو گی، وہ موقع ابھی موجود ہے لیکن اس کے لیے بھی سپریم کورٹ جانا پڑے گا۔
انصار عباسی کا مزیدکہنا تھا دو قوانین تھے ایک سپریم کورٹ سروسز اینڈ پروسیجر ایکٹ جو ابھی بنا نہیں تھا کہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اسے روک دیا تھا، یہ بہت ہی انہونی چیز تھی کیونکہ بل بھی بنا نہیں تھا اور ابھی پارلیمنٹ میں اس پر بات چیت چل رہی تھی اس پر اسٹے دے دیا گیا تھا۔سینئر صحافی نے مزید کہا کہ اس کے بعد پارلیمنٹ میں سپریم کورٹ ریویو آف آرڈرز اینڈ ججمنٹس ایکٹ لایا گیا جس کا مقصد کچھ اور بھی ہو گا لیکن یقینی طور پر اس کا مقصد یہی تھا کہ نواز شریف کو پاکستانی سیاست میں مائنس سے پلس کیا جائے، اب جو صورت حال نظر آ رہی ہے کہ سیشن جج نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو نااہل کیا تو کچھ دنوں بعد ہی سپریم کورٹ نے ایسے وقت میں نواز شریف سے متعلق فیصلہ دیا کہ اگر حکومت یا ن لیگ یا کوئی بھی ریویو پٹیشن فائل کرے تو اس وقت بھی عمر عطا بندیال ہی چیف جسٹس پاکستان ہی ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی کو سیشن جج پر اعتراض تھا تو پی ڈی ایم اور بالخصوص ن لیگ کو سپریم کورٹ کے اس بینچ پر بھی کئی اعتراضات رہے ہیں، یہ بہت ہی بدقسمتی کی بات ہے کہ ہمارے ادارے ہمیشہ سے ہی سیاست میں مداخلت کرتے رہے ہیں اور اس فیصلے کے بعد مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ آئندہ انتخابات اگر 90 روز میں ہوتے ہیں تو پی ٹی آئی اور ن لیگ کی ٹاپ لیڈر شپ چاہیے وہ عمران خان ہوں یا نواز شریف دونوں مائنس ہی رہیں گے۔
