امریکی ہنگاموں اور توڑ پھوڑ کا 2014 کے دھرنے سے موازنہ

6 جنوری کو امریکی کانگریس کی جانب سے نومنتخب صدر جو بائیڈن کی الیکٹورل کالج میں فتح کی باقاعدہ توثیق کے عمل کے دوران صدر ٹرمپ کے حامیوں کا کپیٹل ہل پر حملہ آور ہو جانا اور پھر چار افراد کا پولیس کے ہاتھوں مر جانا اس وقت سوشل میڈیا پر زیر بحث ہے اور اس کا موازنہ 2014 میں عمران خان کی زیر قیادت تحریک انصاف کے حامیوں کی جانب سے پارلیمنٹ کی عمارت اور پی ٹی وی کے ہیڈ آفس پر حملے سے کیا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر یہ کہا جا رہا ہے کہ اس ایک واقعہ نے تھرڈ ورلڈ کے ملک پاکستان اور فرسٹ ورلڈ کی سپر پاور امریکہ کا فرق ختم کر دیا ہے۔
سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ اس طرح کا طوفان بدتمیزی پاکستان میں برپا ہوتے تو دیکھا گیا ہے لیکن انہیں یہ امید نہیں تھی کہ کیپیٹل ہل جیسی اہم ترین عمارت پر ہجوم کے حملے کے مناظر بھی کبھی دیکھنے کو ملیں گے۔ امریکی تاریخ میں ایسا موقع بھی کم ہی آیا ہے کہ پولیس نے کسی اہم عمارت کو حملہ آوروں سے بچانے کے لیے سیدھی فائرنگ کرکے چار افراد کو مار دیا ہو۔ لہذا کئی سوشل میڈیا صارفین موجودہ امریکی صورتحال کا موازنہ پاکستان کے حالات کے ساتھ کر رہے ہیں ہیں جہاں اس طرح کے پرتشدد واقعات معمول کا عمل ہیں۔
گذشتہ کئی ہفتوں سے ڈونلڈ ٹرمپ چھ جنوری کو ایک ایسا فیصلہ کُن دن قرار دے رہے تھے جس دن سب ٹھیک ہو جائے گا۔ انھوں نے اپنے پرتشدد حامیوں کو واشنگٹن پہنچ کر کانگریس کو چیلنج کرنے کا کہا تاکہ وہ صدارتی انتخات کے نتائج کو مسترد کریں اور صدارت کی کرسی ان ہی کے پاس رہے۔ پھر 6 جنوری کی صبح صدر ٹرمپ کے جذباتی حامیوں نے کیپیٹل ہل پر حملہ آور ہو کر جوبائیڈن کے نئے صدر منتخب ہونے کے آئینی عمل کو درہم برہم کر کے ایک طوفان برپا کر دیا۔ تاہم یہ عمل اب یہ مکمل ہوچکا ہے اور جو بائیڈن امریکہ کے اگلے صدر قرار دے دیے گی ہیں۔
لیکن ٹرمپ کے حامیوں کی جانب سے انکی کال پر کیپیٹل حملے کے بعد امریکی کانگرس کے دونوں ایوانوں میں ٹرمپ کے مخالفین انھیں فوری طور پر صدر کے عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ مطالبہ ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب کہ امریکی کانگریس نے صدارتی انتخاب 2020 کے نتائج کی توثیق کر دی ہے لیکن ٹرمپ نے انہیں تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ٹرمپ 20 جنوری تک صدر کے عہدے پر فائز رہ پاتے ہیں یا نہیں؟ یاد رہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی کے سینیٹر چک شومر نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کو فوری طور پر عہدہ چھوڑ دینا چاہیے جبکہ سپیکر نینسی پلوسی کہتی ہیں کہ ٹرمپ کا مواخذہ بھی ہو سکتا ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ کے حامیوں کی جانب سے امریکی کانگریس پر حملے کی خبریں سامنے آنے کے بعد بہت سے پاکستانی سوشل میڈیا صارفین امریکی سیاسی صورتحال کا موازنہ پاکستان کی سیاسی صورتحال سے کرتے دکھائی دیے۔ کسی نے اس کا موازنہ سنہ 2014 کے دھرنے کے دوران تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے حامیوں کا پاکستان کے پارلیمان اور پی ٹی وی کی عمارت پر حملے سے کیا تو کسی نے کپیٹل ہل پر مظاہرین کے دھاوا بولنے کے مناظر کو پاکستان میں 1999 میں نافذ کیے گئے مشرف کے مارشل لا مناظر سے تشبیہ دی۔ لیکن کئی صارفین اس موازنے سے متفق نظر نہیں آتے اور ان کا کہنا ہے کہ 2014 میں پی ٹی وی پر ہونے والے حملے اور امریکی کانگریس پر ہونے والے حملے میں یہ فرق ہے کہ حالیہ واقعات کے بعد امریکی میڈیا یک زبان ہو کر ان کی مذمت کر رہا ہے جبکہ پاکستانی میڈیا کے چند حلقوں نے اسٹیبلشمنٹ کے ایما پر اس حملے کو سراہا تھا۔ یاد رہے کہ 2014 میں تب کے آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام کے ایماء پر عمران خان نے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرنے کے بعد ڈی چوک میں دھرنا دیا تھا اور پھر طاہرالقادری کے ساتھ مل کر پہلے پارلیمنٹ ہاؤس کے حفاظتی جنگلے گرائے اور ہھر پی ٹی وی کی عمارت پر قبضہ کرلیا تھا۔
اس دوران پاکستان سے امریکہ منتقل ہونے والے بھی امریکہ میں پاکستان جیسی صورتحال پر پریشان نظر آئے۔ پاکستانی نژاد امریکی ڈاکٹر فہیم کا کہنا تھا کہ ’میں اسی ماحول سے تو بچنا چاہتا تھا اور اسی لیے تو میں نے پاکستان چھوڑا تھا۔ اگر میں نے یہی سب کچھ ہوتے ہوئے دیکھنا تھا جو کہ پاکستان میں ہو رہا تھا تو پھر مجھے میری کہانی کی کیا ضرورت تھی۔‘ مسلم لیگ ن کے رہنماؤں نے بھی اس موقع پر وزیراعظم عمران خان اور ان کی جماعت پر تنقید اور طنز کے تیر چلائے۔ سابق وزیر مسلم لیگ ن احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ’عمران نیازی نے اپنے حمایتیوں کے ساتھ 2014 میں پارلیمنٹ ہاؤس پہ حملہ کر کے جو درخشاں مثال قائم کی تھی بالآخر 2021 میں صدر ٹرمپ اپنے حامیوں کے ساتھ اسی روشن مثال کو امریکہ میں اسے فالو کر رہے ہیں۔۔ چلیں کہیں تو پاکستان امریکہ سے چھ سال آگے ہے۔۔۔’
چند ٹوئٹر صارفین کی جانب سے اس صورتحال کو امریکہ کے لیے مکافات عمل بھی قرار دیا گیا۔ صارف انور لودھی نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’امریکہ دوسرے ملکوں میں جمہوریت کے نام پر بدامنی اور انتشار کا جو کھیل کھیلتا رہا ہے آج اسے اپنے ملک میں اسی کھیل کا سامنا ہے۔‘ انہوں نے لکھا کہ آج دنیا کی سب سے بڑی سپر پاور اور خود کو فرسٹ ورلڈ کی سب سے بڑی جمہوریت قرار دینے والا امریکہ بے نقاب ہوگیا ہے۔ امریکی عوام نے بتا دیا ہے کہ وہ اپنی سوچ اور عمل میں تھرڈ کے پاکستانیوں سے مختلف نہیں ہیں۔
جب امریکی ٹرمپ کے حامیوں کے جانب سے کپیٹل ہل کا محاصرہ جاری تھا تو صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے ایک ویڈیو جاری کی، جس میں انھوں نے حملہ آوروں اور حملے کی مذمت تو نہیں کی لیکن الیکشن میں دھاندلی کے الزامات دھراتے ہوئے اپنے حمایتیوں سے پولیس کے ساتھ تعاون کرنے کی تلقین ضرور کی۔ تاہم اس ویڈیو کو ٹوئٹر اور فیس بک کی جانب سے یہ کہہ کر ہٹا دیا گیا کہ یہ پیغام مزید انتشار اور بدامنی کا باعث بن سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ٹوئٹر نے صدر ٹرمپ کا اکاؤنٹ 12 جبکہ فیس بک نے 24 گھنٹوں کے لیے معطل بھی کر دیا، جس پر متعدد پاکستانی اور عراقی صارفین یہ سوال پوچھتے نظر آئے کہ کیا ایسے شخص کے ہاتھ میں ایٹمی ہتھیار محفوظ ہیں جس کو اپنا سوشل میڈیا استعمال کرنے کی اجازت نہیں؟
اقرا یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر اور امریکی سیاست اور خارجہ امور کے ماہر ڈاکٹر تصور حسین کا کہنا ہے امریکی تاریخ میں بہت سے پرتشدد مظاہرے ہوئے لیکن سنہ 1812 کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہے کہ امریکی کانگریس پر حملہ کیا گیا ہو۔ ماضی اور حال کے حملوں کا موازنہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سنہ 1812 میں بھی کپیٹل ہل پر حملہ برطانوی سامراجی فوج کی جانب سے کیا گیا تھا جبکہ آج یہ حملہ امریکوں کی جانب سے خود کیا گیا ہے۔ ’یہ دن نہ صرف امریکی جمہوریت بلکہ پوری دنیا کے جمہوریت کے لیے سیاہ دن ہے کیونکہ امریکہ ایک ایسا ملک ہے جہاں کی جمہوری روایات اور جمہوری نظام دنیا کے متعدد مملک میں بطور ماڈل اپنایا گیا اور امریکہ گذشتہ کئی دہائیوں سے مشرق وسطیٰ، افریقی اور ایشائی ممالک میں جمہوری اقدار کے فروغ پر زور دیتا نظر آیا ہے اور اس کو بنیاد بنا کر کئی ممالک جیسا کہ عراق، شام، ویتنام اور افغانستان میں بزور طاقت حکومت کی تبدیلی میں بھی ملوث رہا ہے۔‘
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس واقع سے امریکہ کا تشخص بطور بہترین جمہوریت بہت متاثر ہوا ہے، جسے دوبارہ بحال کرنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق ‘ہم پاکستان کی لیڈرشپ کا موازنہ امریکی لیڈرشپ سے تو کر سکتے ہیں لیکن امریکی سیاسی اداروں کا موازنہ پاکستان کے اداروں سے نہیں کیا جا سکتا۔’ انکا کہنا ہے کہ امریکی جمہوری ادارے اپنی جمہوری اقدار کا تحفظ کرنا بخوبی جانتے ہیں۔ امریکی پارلیمان، عدالتیں اور سکیورٹی ادارے اتنے مستحکم ہیں کہ وہ جمہوریت کا تسلسل یقینی بنا سکیں۔ تاہم پاکستان میں ایسا نہیں۔ ‘لہٰذا ہم یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان میں سیاسی رہنماؤں کا طرز حکومت امریکی صدر ٹرمپ جیسا ہے لیکن وہاں کی سیاسی صورت حال پاکستان جیسی نہیں ہے۔’
